عدالت کے سخت حکم کے بعد عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس کے مزید دو ملزم پولس افسران کا استعفی

گاندھی نگر۔ عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کے مزید دو ملزم پولیس افسران نے سپریم کورٹ کے سخت موقف کے بعد آج اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

Aug 17, 2017 06:35 PM IST | Updated on: Aug 17, 2017 06:35 PM IST

گاندھی نگر۔ عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کے مزید دو ملزم پولیس افسران نے سپریم کورٹ کے سخت موقف کے بعد آج اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ کی بنیاد پر پولس سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات این کے امین (جو ابھی تک تاپی ضلع کے ایس پی کے عہدے پر تعینات تھے) اور ریلوے پولس میں ڈی ایس پی کے عہدے پر تعینات ترون باروٹ نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ پولس ڈائریکٹر جنرل گیتا جوہری نے آج یو این آئی سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں افسران نے آج استعفی دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق آئی پی ایس افسر راہل شرما نے ان کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے کل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس كیهر کی قیادت والی بینچ نے ریاستی حکومت سے آج تک اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے یا عدالت کے ازخود کوئی قدم اٹھانے کی بات کہی تھی۔

عدالت کے سخت حکم کے بعد عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس کے مزید دو ملزم پولس افسران کا استعفی

جون 2004 میں ممبئی کی 19 سالہ عشرت جہاں کو ا پنے ساتھی پرنیش پلئی عرف جاوید شیخ اور دو دیگر افراد کے ساتھ احمد آباد کے نزدیک گجرات پولس نے مبینہ مڈبھیڑ میں مار دیا تھا۔

جون 2004 میں ممبئی کی 19 سالہ عشرت جہاں کو ا پنے ساتھی پرنیش پلئی عرف جاوید شیخ اور دو دیگر افراد کے ساتھ احمد آباد کے نزدیک گجرات پولس نے مبینہ مڈبھیڑ میں مار دیا تھا۔ ان کا دعوی تھا کہ یہ تمام لشکر طیبہ کے دہشت گرد تھے جو اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کے قتل کی نیت سے آئے تھے۔ بعد میں سی بی آئی کی جانچ میں یہ مڈبھیڑ فرضی قرار دیا گیا تھا۔ اس میں مذکورہ دونوں ملزمان کے علاوہ دیگر پولس افسر بھی ملزم بنائے گئے تھے اور سب کو جیل بھی جانا پڑا تھا۔

تاہم، سی بی آئی کی ایک عدالت نے بعد میں سب کو ضمانت دے دی۔ مسٹر امین سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر کیس کے بھی ملزم تھے جس میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز