جے پور: 250 کشمیری طلبہ کویونیورسٹی نے ہاسٹل سے نکالا، مسلم کنبوں سے مدد مانگ رہے ہیں متاثرین

Aug 11, 2017 12:48 PM IST | Updated on: Aug 11, 2017 12:49 PM IST

جے پور : راجستھان میں تقریبا 250 کشمیری طالب علموں کو ہاسٹل سے نکال دیا گیا ہے اور وہ اب مقامی مسلم کنبوں سے مدد مانگ رہے ہیں ۔ یہ معاملہ جے پور کے سریش گیان وہار یونیورسٹی میں پیش آیاہے۔ طالب علموں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی طرف سے انہیں اس لئے نکالا گیا ہے کیونکہ ان کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے دی جانے والی اسکالر شپ یونیورسٹی کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر طلبہ ایسے ہیں جو کہ کشمیر کے دہشت گردی متاثرہ علاقوں سوپور ، رام بن ، پونچھ ، شوپیاں ، بارہمولہ ، اننت ناگ ، کپواڑہ ، پلگام ، راجوڑی ، کارگل ، لیہہ ، لداخ ، سری نگر اور جموں  سے آتے ہیں۔ مئی 2016 میں مرکزی حکومت نے صرف 100 طالب علموں کی ہی اسکالر شپ دی تھی۔ وہیں 320 طالب علم جن 70 لڑکیاں اب بھی آپ کی اسکالر شپ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق فی الحال لڑکیوں کو ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے ، لیکن جو طالب علم گزشتہ تین سال سے یونیورسٹی میں پڑھائی کر رہے ہیں ان کو یکم اگست تک ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم کہا گیا تھا کہ یہ طلبہ شہر میں اپنے رہنے کا خود انتظام کرکے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے آ سکتے ہیں ۔ طالب علموں کو تعلیم حاصل کرنے آنے سے منع نہیں کیا گیا تھا۔

جے پور: 250 کشمیری طلبہ کویونیورسٹی نے ہاسٹل سے نکالا، مسلم کنبوں سے مدد مانگ رہے ہیں متاثرین

photo : gyanvihar.org

اب طلبہ جہاں حکومت سے اپنی اسکالرشپ ریلیز کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہیں اپنے رہنے کے لئے جگہ کی تلاش میں در در بھٹک بھی رہے ہیں۔ ایک طالب علم نے کہا کہ یونیورسٹی کا دعوی ہے کہ جب 2015 سے میرا داخلہ یہاں ہوا ہے ، تب سے حکومت نے اسکالر شپ کی ایک کوڑی بھی یونیورسٹی کو نہیں دی ہے۔ اگر حکومت کے پاس فنڈ کو ریلیز کرنے کا کوئی پلان ہی نہیں ہوتا ہے ، تو وہ اسکالر شپ جاری کیوں کردیتی ہے؟۔

سوپور کے رہنے والا 21 سالہ طالب علم توفیق نے کہا کہ میں اس شہر میں اپنے اخراجات پر زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ گزار سکتا ہوں۔ وہیں ایک دوسرے طالب علم نذیر نے کہا کہ کشمیری ہونے کی وجہ سے مقامی جگہوں پر ہمیں کرایہ پر گھر لینے میں بھی کافی پریشانی ہورہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز