قدرت کا کرشمہ ، چودہویں منزل سے پھینکے جانے کے بعد بھی بچ گیا 6 سالہ توصیف

Mar 20, 2017 06:59 PM IST | Updated on: Mar 20, 2017 07:02 PM IST

ممبرا (انوارالحق ) کہتے ہیں کی موت کا مقام اور وقت پہلے سے ہی خدا نے مقرر کررکھا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کسی کا وقت نہیں آیا ہو ، تو کچھ بھی حالات ہو جائیں، موت کے فرشتے کو واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ 6  سال کے توصیف کی ابھی موت نہیں تھی، اس لیے اپنی ماں کے ہاتھوں 14 ویں منزل سے نیچے پھینکے جانے کے بعد بھی موت بس اس کو چھو کر نکل گئی ۔ وہیں اس کی جیسی قسمت اس کی تین سالہ بہن آمرین کی نہیں تھیں ۔ اپنی بیماری سے تنگ آکر ایک ماں نے اپنے ان دونوں بچوں سمیت خودکشی جیسا انتہائی اور دل دہلا دینے والا قدم اٹھایا۔ اس حادثے کے بعد ممبرا میں صرف اس کی ہی چرچاہورہی ہے ۔

ممبرا کے رشید کمپاؤنڈ میں رہنے والی ایک 26 سالہ خاتون شيرين حنیف خان نے اپنے دو بچوں چھ سالہ بیٹے توصیف اور3 سالہ بیٹی آمرين کے ساتھ نو تعمیر چودہ منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی ۔ شیرین نے پہلے بیٹے کو اوپر سے نیچے پھینکا ، لیکن بیٹا معجزاتی طور پر بچ گیا ۔ اس کے بعد بیٹی کو نیچے پھینکا اور پھر خود بھی چھلانگ لگا دی ۔ دونوں ہی ماں بیٹی کی جائے حادثہ پر موت ہوگئی ۔ جب کہ پانچ سالہ بیٹا توصیف کو علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ۔

قدرت کا کرشمہ ، چودہویں منزل سے پھینکے جانے کے بعد بھی بچ گیا 6 سالہ توصیف

اس حادثہ کے بارے میں پولیس و مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شیرین کافی دنوں سے ٹی بی و دیگر امراض میں مبتلا تھی اور اسی بات کولے کر گھرمیں بھی اکثر جھگڑا ہوا کرتا تھا ۔ بالاآخر دل برداشتہ ہو کر اس نے یہ انتہائی قدم ا ٹھایا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز