متنازع پوسٹ کے بعد ممبئی میں کشیدگی ، ایم آئی ایم کارپوریٹر سمیت 20 گرفتار، امن کے لیے لیڈران کی اپیل

Mar 19, 2017 06:55 PM IST | Updated on: Mar 19, 2017 08:25 PM IST

ممبئی: شہر کے شمال مشرقی علاقہ میں تشدد کے بعدآج فرقہ وارانہ کشیدگی برقرار ہے اور متاثرہ علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں پولیس افسران اور جوان تعینات کردیئے گئے ہیں۔پولیس نے اس معاملہ میں ایم آئی ایم کے نومنتحب کارپوریٹراہ شاہنواز سمیت 20افراد کو گرفتار کیا ہے۔انہیں فساد کے لیے اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح اتوار کی صبح سویرے ٹرامبے پولیس اسٹیشن پر مشتعل مظاہرین نے حملہ کردیا اور دوپولیس وین کو نقصان پہنچا اور نذرآتش کردیا ،دراصل مظاہرین سوشل میڈیا پرسنیچر کو ایک مخصوص مذہب کی عبادت گاہ کی توہین کرنے والے ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے اور اس درمیان اچانک تشدد پھوٹ پڑا۔ایم آئی ایم کے رکن اسمبلی وارث پٹھان نے امن کی اپیل کی ہے۔

پولیس نے ایک 20سالہ مشتبہ نوجوان کو گرفتار کرلیا ہے۔جس نے ایک مقدس مذہبی مقام کی تصویر میں تبدیلی کرکے اپنی تصویر کے ساتھ پوسٹ کردیا اور پوسٹ کرنے والے اس نوجوان کے خلاف کارروائی کرنے اور ایف آئی آڑ درج کرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے دوسرے فرقے کے متعدد افراد ٹرامبے پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگئے ،اچانک 20-25افراد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے سنباری شروع کردی ور پولیس کی ایک وین میں آگ لگادی گئی ،سنگباری میں پولیس کی دوگاڑیوں کو نقصان پہنچا ۔پولیس اسٹیشن کی کھڑکیوں کو بھی پتھراؤ سے نقصان پہنچا ہے۔

متنازع پوسٹ کے بعد ممبئی میں کشیدگی ، ایم آئی ایم کارپوریٹر سمیت 20 گرفتار، امن کے لیے لیڈران کی اپیل

file photo

پولیس کے مطابق ملزم پر سائبر کرائم کیدفعات کے تحت درج مقدمہ درج کیا گیا ہے اور پولیس تھانے پرحملہ کرنے والے 20 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ مزید 150 کی تلاش جاری ہے۔پولیس کے ذریعے تشدد پر قابو پانے کے لیے چلائی جانے والی پلاسٹککی گولیوں سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فوری طورپر مسلح پولیس کے جوان تعینات کیے گئے اور علاقہ کا محاثرہ کرلیا گیا ،ٹرامبے پولیس اسٹیشن بھابھا ایٹمک ریسرچ سینٹر(بی اے آرسی) کے 300میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

جوائنٹ پولیس کمشنر (لا ء اینڈ آرڈر) دیون بھارتی نے ذرائع ابلاغ سے کہاکہ پولیس تشدد برپاکرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اور ہم کسی کو بھی گڑبڑکرنے نہیں دیں گے۔ملزم کا نام اروند جنوا بتایاجاتاہے جوکہ میونسپل کارپوریشن میں ملاز ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ممبئی کے اس مضافاتی علاقہ میں حالات پوری طرح سے قابو میں ہیں۔سنیچر کی دیر رات ساڑھے 10 بجے سینکڑوں افراد نے پولیس اسٹیشن پر مظاہرہ کیا اورفسااچانک تشدد پھوٹ پڑا۔ ٹرابے پولیس کو اس اچانک حملے کا بالکل بھی اندیشہ نہ تھا۔پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے متشعل افراد کی تلاش شروع کردی ہے۔ فی الحال علاقے میں امن ہے اور حالات قابو میں بتائے جارہے ہیں۔

ممبئی فرقہ وارانہ کشیدگی کی رپورٹ طلب

ادھر مہاراشٹر اسٹیٹ اقلیتی کمیشن سر براہ محمد حسین خان عرف امیر صاحب نے مانخورد چیتا کیمپ میں ہوئے فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد پولیس کو ہدایت جاری کر تے ہوئے اس پورے واقعہ کی رپورٹ طلب کی ہے اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کر نے والے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کے بھی احکامات جاری کئے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی اس معاملہ میں پولیس کو ہدایت جاری کر تے ہوئے کہا کہ وہ فساد اور تناؤ کے بعد بے قصور مسلم نوجوانوں کو ہراساں نہ کریں اگر کوئی اس معاملہ میں ملوث ہے تو اس پر کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد چیتا کیمپ کے مسلمانوں میں خوف و ہراس بھی پایاجارہا ہے اسے کم کر نے کیلئے بھی پولیس کو کوشش کر نی چاہئے ساتھ ہی ایسے شرپسند عناصر جو افواہیں و شرپسندی پھیلا رہے ہیں اس پر بھی کارروائی ضروری ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز