منگلور دہشت گردانہ معاملہ: سیشن عدالت نے تین مسلم نوجوانوں کو عمر قید کی سزا سنائی

Apr 12, 2017 03:38 PM IST | Updated on: Apr 12, 2017 03:38 PM IST

ممبئی۔ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہونے اور انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے مبینہ بانیوں بھٹکل برادران کو منگلور شہر میں پناہ دینے والے معاملے میں آج منگلور کی خصوصی سیشن عدالت نے قصور وار ٹہرائے گئے تین مسلم نوجوانوں کو عمر قید کی سزا تجویز کی ہے۔ اسی درمیان آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امدا د فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اعلان کیا کہ وہ نچلی عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں اور عدالت کے فیصلہ کو بنگلور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں نا تو کوئی بم دھماکہ ہوا اور نا ہی کسی کاجانی و مالی نقصان ہوا اس کے باوجود صرف مجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات کے تحت ملزمین کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں جس سے وہ قطعی متفق نہیں ہیں نیز فیصلہ کی نقول موصول ہونے کے بعد جمعیۃ کے وکلاء کے مطالعہ کرنے کے بعد ملزمین کے حق میں جو بھی بہتر ہوگا اس کے لیئے کوشش کی جائے گی۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزمین سید احمد نوشاد،(25) احمد باوا ابوبکر (33)اور فقیر احمد (46)کو عدالت نے 10؍ اپریل کو قصور وار ٹہرایا تھا جس کے بعد آج انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ عدالت نے اس معاملے کے ملزمین محمد علی، جاوید علی، شبیر احمد اور محمد رفیق کو باعزت بری کردیا تھا۔

منگلور دہشت گردانہ معاملہ: سیشن عدالت نے تین مسلم نوجوانوں کو عمر قید کی سزا سنائی

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ماہ اکتوبر 2008میں ریاض بھٹکل اور دیگر انڈین مجاہدین تنظیم سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دینے نیز انڈین مجاہدین تنظیم سے وابستہ ہونے کے الزامات کے تحت منگلور پولس نے سید محمد نوشاد، احمد باوا، محمد علی، جاوید علی،، محمد رفیق ، فقیر احمد اور شبیر بھٹکل کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 120(B), 121(A), 122,123,153(A) 122,420, 468,471 اوریو اے پی اے قانون کی دفعات 10, 11, 13,16,17,18,19,20,21 سمیت آرمس ایکٹ اور ایکسپلوزیو سبسٹنس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا ۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے کا سامنا کررہے 7 ملزمین کو عدالت نے دو سالوں کی قید کے بعد ضمانت پر ریا کیا تھا لیکن معاملے کے سماعت شروع ہونے میں پانچ سال کا وقت لگ گیا، 13؍ جنوری 2016کو ملزمین کے خلاف چارجیس فریم کیئے گئے اور اس کے فوراً بعد دفاعی وکلاء کی عرضداشت پر 18؍ جنوری سے ٹرائل شروع کردی گئی ۔ منگلور کی خصوصی عدالت کے روبرو استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لیئے 90؍ گواہوں کو پیش کیا جس میں پولس افسران،تحقیقاتی افسران، فارینسک سائنس لیباریٹری کے اہل کار اور دیگر شامل ہیں ۔

جمعیۃ علماء نے ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ وکرم ہیگڑے، ایڈوکیٹ شانتارام شیٹی اور ایڈوکیٹ نارائنا پجاری کو مقرر کیا تھا جنہوں نے سرکاری گواہوں سے جرح کی۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت مہینہ میں پانچ دن لگاتار ہوتی تھی اور ہر پیشی پر سرکاری گواہوں کی موجودگی کو عدالت نے لازمی قرار دیا تھا جس کے بعد ہی ایک ریکاڑد مدت میں مقدمہ کی سماعت مکمل ہوگئی جس کے بعد آج عدالت نے آج مکمل فیصلہ صادر کرکیا جس کے بعد نچلی عدالت سے معاملہ اختتام پذیر ہوا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز