نروڈا پاٹیا فسادات : گجرات ہائی کورٹ کے دو ججوں نے فسادات کی جگہ کا معائنہ کیا

Jun 09, 2017 03:35 PM IST | Updated on: Jun 09, 2017 03:40 PM IST

احمد آباد : سال 2002 کے نروڈا پاٹیا فسادات کیس میں اپیلوں کی سماعت کر رہی گجرات ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے آج جائے حادثہ کا دورہ کیا ، تاکہ واقعہ کی بہتر تصویر سمجھ میں آ سکے۔ اس واقعہ میں 97 افراد ہلاک ہوگئے تھے ، جن میں سے زیادہ تر مسلم تھے۔ جسٹس ہرش دیوناني اور جسٹس اے ایس سپیہیااحمد آباد کے نرودا پاٹیا علاقہ میں پہنچے ، جو سال 2002 میں گودھرا سانحہ کے بعد فسادات میں تشدد سے سب سے زیادہ متاثر علاقہ تھا۔ ججوں نے جائے حادثہ پر دو گھنٹے گزارے۔ جسٹس ہرش دیوناني اور جسٹس سپیهيا کی بینچ نے کل اپنے حکم میں کہا کہ  وکلا کی طرف سے دائر کی گئی درخواست مدلل ہے اور وہ لوگ نرودا پاٹیا میں جائے حادثہ کا دورہ کریں گے۔

عدالت نے کہا کہ  آغاز سے جب سے معاملہ کی سماعت ہو رہی ہے، دونوں اطراف کے وکیل عدالت سے جائے حادثہ کا دورہ کرنے کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ واقعہ کیسے رونما ہوا تھا ، اس کو اچھی طرح سے سمجھناممکن ہو اور بڑے علاقہ کا صحیح علم ہو سکے۔ خصوصی عدالت نے 30 اگست 2012 کو کوڈنانی اور 29 دیگر لوگوں کو عمر قید جبکہ ملزم بابو بجرنگی کو قتل اور مجرمانہ سازش کے الزام میں '' تاحیات قید '' کی سزا سنائی تھی۔ کوڈنانی کو 28 سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم فی الحال وہ ضمانت پر ہیں۔

نروڈا پاٹیا فسادات : گجرات ہائی کورٹ کے دو ججوں نے فسادات کی جگہ کا معائنہ کیا

قابل ذکر ہے کہ گجرات ہائی کورٹ کے ایک جج نے خود کو 2002 کے نرودا پاٹیا فسادات کیس سے وابستہ درخواستوں کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا۔ ایسا کرنے والے وہ تیسرے جج ہیں۔ عرضیاں جب سماعت کے لئے اس کی بینچ کے سامنے لائی گئیں ، جس میں جسٹس عقیل قریشی شامل ہیں، تو انہوں نے کہا کہ '' میرے سامنے نہ لائیں۔ 'گجرات کی سابق وزیر مايابین کوڈنانی اور وشو ہندو پریشد کے سابق رہنما بابو بجرنگی نے خصوصی نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز