لوک سبھا میں تین طلاق بل پاس ہونے کے باوجود دارالقضا پر لوگوں کا اعتماد اب بھی قائم

Jan 09, 2018 08:07 PM IST | Updated on: Jan 09, 2018 08:07 PM IST

مالیگاؤں۔ تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں بل پیش کرکے اُسے منظورکرلیا۔ یہ بل راجیہ سبھا میں معلق ہے۔ لوک سبھا میں منظور ہونے کے بعد پورے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی۔ شریعت میں مداخلت کو دیکھتے ہوئےالگ الگ خیالات سامنے آٗئے۔ دارالقضاء کے تعلق سے یہاں کے مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ ہم آج بھی ہمارے دارالقضا پر بھروسہ کرتے ہیں اورانہیں سے رجوع ہوں گے۔ قانون کو منظوری ملنے کے بعد بھی لوگ اور خاص طور سے خواتین آج بھی دارالقضاء میں جانا پسند کررہی ہیں ۔ پچھلے چالیس سالوں سے مالیگاؤں شہر میں جاری دارالقضاء آج بھی جاری ہے اور بخوبی خدمات انجام دے رہا ہے۔

لوک سبھا میں تین طلاق بل پاس ہونے کے باوجود دارالقضا پر لوگوں کا اعتماد اب بھی قائم

سن 1973 میں جب ملک میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ مسلمانوں کو اپنے خواندگی مسئلوں کو حل کرنے کے لئے دارالقضاء کی ضرورت ہے۔ اس وقت مدرسہ معہد ملت میں سب سے پہلے دارالقضاء شروع کیا گیا۔ 1973ء سے 2017ء تک اس دارالقضاء کے ذریعے ہزاروں فیصلے سنائے گئے۔ دونوں فریقین فیصلے سے خوش رہے۔ کبھی بھی کسی کو ناراض یا خوش کرکے شریعت کے دائرے سے باہر جاکر فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پارلیمنٹ میں تین طلاق کے تعلق سے بل منظور ہونے کے بعد بھی یہ دارالقضاء اچھی طرح بخوبی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مالیگاؤں شہر جہاں 80 فیصدی آبادی مسلمانوں کی ہے، آس پاس کے تقریباً 5؍اضلاع کو جوڑںے کا کام کرتی ہے۔ دھولیہ ، نندور بار ، جلگاؤں ، احمد نگر اور ناسک ان اضلاع کے شرعی مسئلوں کو حل کرنے کے لئے مالیگاؤں شہر میں دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا۔ آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مالیگاؤں شہر میں واقع سبھی مسلک کے دارالقضا سے رجوع ہوتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز