دونوں ہاتھوں سے معذورہونے کے باوجود ٹائپنگ کمپٹیشن میں شریک ہوا ویبھو

Aug 08, 2017 06:08 PM IST | Updated on: Aug 08, 2017 06:08 PM IST

 ناندیڑ۔ معذوری کے سبب لوگ ہمت ہارجاتے ہیں اورساری زندگی دوسروں پر منحصر رہتے ہیں ۔ لیکن ناندیڑ میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو معذوری کو شکست دیکر خود کفیل بننے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔ ہم بات  کررہے ویبھو نامی نوجوان کی جو دونوں ہاتھوں سے معذور ہونے کے باجود ٹائپنگ کے امتحان میں شریک ہوا ۔ دونوں ہاتھوں کی معذوری کے باوجود ویبھو ٹائپ رائٹنگ کی مدد سے اپنا کیریئر بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔ دونوں ہاتھوں کی معذوری لانے والا یہ حادثہ دس سال قبل پچپن میں پتنگ اڑانے کے شوق کی وجہ سے پیش آیا تھا ۔ پتنگ بازی کی دھن میں اچانک پیش آئے حادثہ میں اسکے دونوں ہاتھ ناکارہ ہو گئے ۔ بڑی مشکل سے آج وہ اس مقام تک پہنچ پایا ہے ۔

حادثہ کے بعد ویبھو نے اپنی ہمت پوری طرح پست کردی تھی اوراس فکر میں مبتلا ہوگیا تھا کہ اب ساری زندگی محتاجی کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ایسے میں اس کے گھروالوں نے اسے حوصلہ دیا اور یہ احساس دلایا کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح سارے کام کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کیلئے اسے جی جان سے کوشش کرنی ہوگی ۔ گھر والوں  کے دئے ہوئے حوصلے نے اس کی زندگی میں تبدیلی لانے کا عمل شروع کیا اور آج وہ اپنی صلاحیتوں کو منوانے میں لگا ہوا ہے ۔

دونوں ہاتھوں سے معذورہونے کے باوجود ٹائپنگ کمپٹیشن میں شریک ہوا ویبھو

ٹائپ رائٹنگ سیکھ کر ویبھو سرکاری ملازمت حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ آج کا یہ امتحان اس کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ اس کا مقابلہ ایسے افراد سے ہو رہا ہے جن کے دونوں ہاتھ صحیح سلامت ہیں ۔ امتحانی نتائج پر مستقبل کا سارا دارومدار ٹکا ہوا ہے ۔ امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کیلئے اس نے کافی دل وجان سے محنت کی ہے اور یہ امید لگا رکھی ہے کہ امتحان میں کامیابی پا کر سرکاری ملازمت کا حقدار بن جائے گا۔ نصابی تعلیم میں وہ ان دنوں ایم ایس ڈبلیو کی تعلیم حاصل کررہا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز