مسلمانوں کی اکثریت قرآن کو مانتی ہے ، لیکن قرآن کی نہیں مانتی

Oct 20, 2017 07:44 PM IST | Updated on: Oct 20, 2017 07:44 PM IST

جودھپور: اس اعتراف کے ساتھ کہ مسلمان دنیا کے سامنے اسلام کی مثبت تصویر پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں‘ مسلم علما ء اور دانشوروں نے آج یہاں ہندوستان میں برادران وطن کے تئیں اپنے فکری رویوں کوبدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انسٹیٹیوٹ آ ف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے زیر اہتمام یہاں مولانا آزادیونیورسٹی کے تعاون سے ’’ہندوستان کے موجودہ سیا ق میں مساوات‘ انصاف اور بھائی چارے کی جانب : ایک بہتر مستقبل کی تخلیق‘ بذریعہ اسلامیات‘‘کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ سمینار کا کلیدی خطبہ دیتے ہوئے معروف ماہر اسلامیات اور مولانا آزاد یونیورسٹی کے صدر پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ ہم نے دنیا کے سامنے نہ تو نظری طورپر اور نہ ہی عملی طورپر اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ ہم اچھائیوں کو بھی اسی طرح چھپاتے رہے جس طرح کچھ لوگ اپنی برائیوں کوچھپاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسلمان کسی غیرمسلم اکثریتی ملک میں جس طرح اپنے لئے حقوق اور اختیارات چاہتے ہیں وہی حیثیت مسلم اکثریتی ملک میں غیر مسلم اقلیتوں کو دینے کے لئے تیار ہیں؟۔

پروفیسر اخترالواسع کا کہنا تھا کہ مسلمان آج خود کو جس طرح کی پریشانیوں میں دوچار ہونے کی شکایت کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ’’قرآن کوتو مانتے ہیں لیکن قرآن کی نہیں مانتے۔‘‘انہوں نے مسلمانوں کو اپنے فکری رویوں کو بدلنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہمارے کرنے کے جو کام تھے وہ آج ہم نے اللہ کے سپرد کردئے ہیں اور جو کام اللہ کے ہیں وہ ہم نے اپنے ذمے لے رکھے ہیں۔ انہوں نے مسلکی عناد کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیتے ہوئے کہا کہ جب دین میں کو ئی جبر نہیں ہے تو بھلا مسلک میں کیوں کر جبر ہوسکتا ہے۔

مسلمانوں کی اکثریت قرآن کو مانتی ہے ، لیکن قرآن کی نہیں مانتی

آئی او ایس کے چئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے صدارتی خطبہ میں ملک میں جاری مختلف النوع کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے اسلام‘ اسلامی علوم و فنون‘ اسلامی تہذیب و تمدن‘ اسلامی ثقافت‘ اسلامی عدل و مساوات ‘ اسلامی جذبہ خدمت و انسانیت کی روشنی میں ایک نئے مستقبل کی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا‘ جس سے ملک میں ہر طرف خوشی‘ خوشحالی‘ امن اور بقائے باہم اور رواداری کی فضا پیدا ہو۔

ڈاکٹر عالم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فکری وسعت کی کمی کی وجہ سے بہت سارے مسائل میں نہ تو اجتہاد ہوسکا اور نہ ہی رہنمائی کی جاسکی۔خواتین کے سیاسی نظام میں شرکت‘ ان کے ووٹ دینے کا مسئلہ‘ ان کے مساجد میں نماز پڑھنے کا مسئلہ‘ جدید ذرائع ابلاغ بالخصوص ٹیلی ویزن کے استعمال کا مسئلہ ‘ سودی نظام معیشت سے استفادہ کا مسئلہ جیسے بیشمار مسائل کو علم کی کمی اور ناقص فہم کی وجہ سے یونہی معلق رکھا گیا انہو ں نے علماء اور اسلامی علوم کے ماہرین سے جدید ہندوستان کے مسائل کا حل‘ اسلامی مطالعات اور علم و تحقیق ‘ تجدید وا جتہادسے پیش کرنے پر زور دیا۔

قبل ازیں ندوۃ العلما ء لکھنؤ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر سعیدالاعظمی نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ جس طرح بعض چیزیں اصلی اور نقلی ہوتی ہے اسی طرح آج دین بھی اصلی او رنقلی ہوگیا ہے اور نقلی کو اصلی کی شکل میں اتنا خوشنما بنا کر پیش کیا جارہا ہے کہ لوگ دھوکہ کھاجاتے ہیں۔آج کے انحطاط پذیردینی ماحول میں یہی مسئلہ رائج الوقت ہوگیا ہے۔ آج کے بازار میں اصلی مسئلے کے ساتھ نقلی مسئلے بھی داخل ہوگئے ہیں اور ان کا فرق مشکل ہوگیا ہے ۔لیکن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نقلی سے دست بردار ہوکر اصلی کو اپنائیں گے۔

اس موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سابق پرووائس چانسلر بریگیڈیر(ریٹائرڈ) ایس احمد علی اور برطانیہ میں حکمراں کنزرویٹیو پارٹی کے رکن اور سابق ڈپٹی چےئرمین مسٹر عظمت حسین ‘آئی او ایس کے فائنانس سکریٹری پروفیسر اشتیاق دانش ‘میوار مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی ‘ جودھ پور کے چےئرمین مسٹر عبدالعزیز نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس دوروزہ کانفرنس میں ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں اور جامعات کے پروفیسر حضرات‘ ریسرچ اسکالر اور ماہرین اسلامیات شرکت کررہے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز