ممبئی یونیورسٹی میں جلد ہی تعمیر ہوگا اردو بھون ، حکومت نے ایک ہفتہ میں ماسٹر پلان تیار کرنے کی دی ہدایت

Mar 15, 2017 09:27 AM IST | Updated on: Mar 15, 2017 09:27 AM IST

ممبئی : ممبئی یونیورسٹی میں سابقہ کانگریس حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے ’ اردو بھون‘ کی تعمیر کے لئے ماسٹر پلان ایک ہفتے کے اندر تیار کیا جائے تاکہ اس کی باقاعدہ تعمیراتی مراحل کا آغاز عمل میں آسکےاس قسم کے احکامات مہاراشٹر وزیر تعلیم ونود تاؤڑے نے ممبئی یونیورسٹی کے وائس چانسلر دیشمکھ اور دیگر اعلیٰ افسران کو یونیورسٹی میں تعمیر ہونےوالے ڈاکٹر ذاکر حسین اردو بھون کےتعلق سے سابق اقلیتی امور وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان کی ایما پر بلائی گئی ایک میٹنگ کے دوران دیئے۔

ودھان بھون میں منعقدہ اس میٹنگ میں نسیم خان نےوزیر تعلیم کو بتلایا کہ سابقہ کانگریس حکومت نےاردو بھون کی تعمیر کے لئے کابینہ میں منظوری دی تھی اور ممبئی یونیورسٹی کی قطعہ اراضی پر اسے تعمیر کیا جانا طے کیا گیا تھا ۔ نیز اس کا 2014میں باقاعدہ سنگ بنیاد بھی رکھا گیا تھا لیکن ریاست میں اقتدار میں تبدیلی کے سبب اب تک اس کی تعمیری کام التوا میں پڑا ہوا ہے ۔  انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت اس کام کو فوری طور پر آغاز کریں اور اسے پایہ تکمیل تک پہونچائے نیز اس کی تعمیری لاگت کے لئے ریاستی حکومت نے چار کروڑ پچانوےلاکھ روپیہ دیا جانا منظور کیا جبکہ بقیہ رقم شہری ترقیاتی اداروں سے جاری کی جائے گی ۔

ممبئی یونیورسٹی میں جلد ہی تعمیر ہوگا اردو بھون ، حکومت  نے ایک ہفتہ میں ماسٹر پلان تیار کرنے کی دی ہدایت

اس موقع پروائس چانسلردیشمکھ نےکہا کہ اردو بھون کی تعمیر یونیورسٹی کے قلعہ اراضی پر ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے لئےدرکار رقم چار سو پچانوے کروڑ روپیہ ہے نیز سابقہ حکومت نے اردو بھون میں اردو اکیڈمی کا دفتر بھی منتقل کیا جانا طے کیا تھا جو کہ اس لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اردو اکیڈمی کے ممبران کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہوتا ہےاور یونیورسٹی کسی بھی سیاسی پارٹی کی آماجگاہ نہیں بنانا چاہتی ہے ۔  وزیر تعلیم ونود تاوڑے کے روبرو برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ وائس چانسلر وزیرتعلیم سمیت شرکا میٹنگ کو گمراہ کررہے ہے کیونکہ حکومت نے اس کی تعمیر کی ابتدائی لاگت چار اعشاریہ پچانوے کروڑ دیا جانا منظور کیا ہے جسے وائس چانسلر چار سو پچانوے کروڑ بتلا کر پیش کررہے ہے ۔ اور وہ یونیورسٹی میں اردو بھون کی تعمیر کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔

نسیم خان نے مزید کہا کہ وائس چانسلراردو اکیڈمی کے دفتر کو سیاسی پارٹیوں کے افراد کا دفترتعبیر کررہے ہیں جو کہ سراسر بے بنیاد اور غلط ہے جبکہ اردو اکیڈمی کے ممبران کی اکثریت کا تعلق اردو ادب سے ہے اور آج بھی اردو اکیڈمی کا دفتر ممبئی کلکٹر کی عمارت میں موجود ہے لہذا ان کے عہدہ دار ان سیاسی اور غیر سیاسی ہونے کا جواز یہاں نہیں پش کیا جاسکتا ہے ۔  اسی درمیان مختلف باتوں کو لے کروائس چانسلر اور نسیم خا ن کےدرمیان نوک جھونک بھی ہوئی بعد میں وزیرتعلیم نےمداخلت کی اور کہا کہ ریاستی حکومت ہر قیمت پر اردو بھون تعمیر کرکے رہے گی اور وہ ریاست میں اردو کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں ۔

ونود تاؤڑے نے اس موقع پر وائس چانسلر کو حکم دیا کہ اس ضمن میں جن متعلقہ محکموں سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے اسے فوری طور پر مکمل کیا جائے اور ایک ہفتے کے اندر ڈاکٹر ذاکر حسین اردو بھون کی تعمیر کا ماسٹر پلان حکومت کےروبرو پیش کیاجائے

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز