امراوتی کا لال کھڑی اردو اسکول بدحالی کا شکار، طلبہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم

Jan 20, 2017 07:43 PM IST | Updated on: Jan 20, 2017 07:43 PM IST

امراوتی : تعلیم کسی بھی قوم ،ملک اور علاقہ کی ترقی میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے طلبہ کو اسکول کی جانب راغب کرنے کے لئے اسکولوں کو پرکشش بنایا جاتا ہے ۔ تاکہ طلبہ اسکولوں کی جانب راغب ہوں اور ملک و قوم کے معیار تعلیم کو بلند کیاجاسکے ۔ لیکن اس کے برعکس مہاراشٹر کے امراوتی کے اقلیتی علاقہ میں واقع بلدیہ کے اردو اسکول میں تمام بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ۔اس اسکول کے طلبہ تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے علاقہ کے بچے مراٹھی اور ہندی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔

مہاراشٹر میں فڑنویس حکومت تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کا دعوی کرتی ہے۔ لیکن حکومت یہ دعویٰ لال کھڑی بسم اللہ نگرعلاقہ میں واقع اردو اسکول کی بدحالی کو دیکھ کھوکھلا نظر آتا ہے ۔ اسکول میں درجہ اول تا ہفتم 140 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ ان 140 طلبہ کے لئے صرف تین کمرے ہیں ، جو طلبہ کی تعداد کے حساب سے پوری طرح سے ناکافی ہیں ۔ علاوہ ازیں اسکول میں صرف دو اساتذہ ہیں ، جن پر ان تمام طلبہ کو پڑھانے کی ذمہ داری ہے ۔

امراوتی کا لال کھڑی اردو اسکول بدحالی کا شکار، طلبہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم

اسکول میں نہ تو طلبہ کو بیٹھنے کے لئے معقول بندوبست ہے اور نہ کھیلنے کے لئے کوئی میدان۔ اتنا ہی نہیں ، لوازمات سے فراغت کے لئے بھی ان اسکولی طلبہ کے لئے کوئی انتظام ہے۔ یہی وجہ ہے گذرتے وقت کے ساتھ علاقہ کے بچے مراٹھی اور ہندی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبورہیں۔ سیاسی لیڈران کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔

اس پورے معاملہ جب ای ٹی وی نے مہانگر پالیکا ایجوکیشن افسر سے بات کی ، تو انہوں نے جلد از جلد اسکولی طلبہ کو ہو رہی پریشانیوں کے حل کا یقین دلایا۔ ساتھ ہی اسکول کے لیے نئی عمارت تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز