Live Results Assembly Elections 2018

ممبئی میونسپل کارپوریشن میں اردو کا بول بالا ، طلبہ کی تعداد مراٹھی اور ہندی میڈیم بچوں سے بھی زیادہ

ممبئی میں میونسپل کارپوریشن کے زیراہتمام پرائمری ،اپرپرائمری اورسیکنڈری جماعتوں کے طلباء کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اردومیڈیم کے بچوں نے مراٹھی کے اسکولوں اور بچوں کو پیچھے چھوڑدیا ہے

Aug 20, 2017 09:08 PM IST | Updated on: Aug 20, 2017 09:08 PM IST

ممبئی: ممبئی میں میونسپل کارپوریشن کے زیراہتمام پرائمری ،اپرپرائمری اورسیکنڈری جماعتوں کے طلباء کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اردومیڈیم کے بچوں نے مراٹھی کے اسکولوں اور بچوں کو پیچھے چھوڑدیا ہے جوکہ اردوداں طبقہ کے لیے ایک خوش آئند بات ہے ۔ اس کا انکشاف اور کسی نے نہیں شیوسینا لیڈر اور ممبئی کے میئر وشواناتھ مہاڈیشورنے کیا ہے اور مسلمان مادری زبان پر فخر کرتے ہیں ،حالانکہ اردوایک قومی زبان ہے اور اس کی مٹھاس کے قائل ہیں۔

واضح رہے کہ بی ایم سی کے تحت میونسپل اسکولوں میں ہندی ،مراٹھی ،اردو، انگریزی ،گجراتی سمیت جنوبی ہندکی کنٹرڈتیلگو اور تمل زبانوں کے بچے زیرتعلیم ہیں اورسرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ حیرت انگیز طورپر اردوزبان کے طلباء کی تعداد مراٹھی مادری زبان کے طلباء سے زیادہ ہوچکی ہے۔ کیونکہ مراٹھی داں طبقہ بھی بچوں کوانگریزی میڈیم سے تعلیم دلانے کو ترجیح دے رہا ہے،لیکن ایسا لگتا ہے کہ مراٹھی والے انگریزی میڈیم کی دوڑ میں اور آگے نکلنے کے چکر میں ہیں اور اپنی زبان اور ثقافت کو نظرانداز کررہے ہیں ، جس کا الزام اردوداں طبقہ پر عائد کیا جاتا ہے۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن میں اردو کا بول بالا ، طلبہ کی تعداد مراٹھی اور ہندی میڈیم بچوں سے بھی زیادہ

file photo

ممبئی میونسپل کارپوریشن میں ہندی ،انگریزی اور اردوجیسی قومی زبانوں کے ساتھ مراٹھی اور علاقائی زبانوں کے بچے بھی زیرتعلیم ہیں۔میئر کا کہنا ہے کہ مراٹھی داں طبقہ انگریزی ذریعہ تعلیم کو ترجیح دیتا ہے جبکہ اردووالوں کا ایک بڑا طبقہ اردوذریعہ تعلیم کو ترجیح دیتا ہے جن میں متوسط اور پسماندہ طبقے شامل ہیں۔

بی ایم سی کے اعداد وشمار کے مطابق ممبئی شہر میں اردومیڈیم کے 201 اسکولوں میں طلباء کی تعداد امسال ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور دوسرے نمبر پر ہندی ذریعہ تعلیم کے بچے ہیں جن کی تعداد تقریباً 81ہزار پہنچ گئی اور تیسرا نمبر61ہزار طلباء کے ساتھ انگریزی میڈیم کے بچوں کا ہے اور حیرت انگیز طورپر مراٹھی میڈیم بچوں کی تعدادصرف 47ہزار 940پہنچی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ کارپوریشن میں برسراقتدار شیوسینا اور ایم این ایس کی مراٹھی مانس کے لیے مہم کا کوئی نتجہ نہیں نکلاہے۔حالانکہ شہر بھر میں مراٹھی کے 328اسکول اور ان میں 50اسکولوں میں بچوں کی تعداد میں کمی کے سبب انہیں بند کیا جارہا ہے۔

Loading...

بتایا جاتا ہے کہ مراٹھی کے ان اسکولوں میں پانچ سال قبل بچوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی ،لیکن انگلش میڈیم کے چکرمیں والدین نے انہیں بی ایم سی کے اسکولوں میں بھیجنا چھوڑدیا ہے ۔اس تعلق سے ماہر تعلیم سلیم الوارے کا کہنا ہے کہ اس کے دوپہلو ہیں۔ایک یہ کہ حال میں اردوکو روزگار سے وابستہ کرنے کی کوشش میں اضافہ ہوا ہے اور مہاراشٹر ایک ایسا صوبہ ہے جہاں پرائمری سطح سے اعلیٰ تعلیم اردوسے حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ ایک خوش آئند بات ہے اور ہمیں صرف کالجوں اور یونیورسٹی کی سطح پر طلباء کی تعداد بڑھانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا چاہئے ،جس کا فقدان ہے۔

ممبئی میں بچوں کے رسالہ ’گل بوٹے ‘ کے مدیر اور اردواسکولوں میں تعلیم فروغ دینے کے لیے سرگرم فاروق سیّد کے مطابق اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ممبئی میں اردومیڈیم کے طلباء کی تعدادمیں اضافہ ہوا ہے اوراس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں اور ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ بی ایم سی اسکولوں میں طلباء کو مختلف اقسام کی 27اشیاء مفت میں مہیاکرائی جاتی ہیں جبکہ ایک دہائی سے کئی تنظیمیں اور ادارے مادری زبان میں تعلیم کے لیے مہم چلارہے ہیں اوریہ اس کابھی اثر ہے کہ والدین کو مادری زبان کے بارے میں احساس پیدا ہوا ہے۔جبکہ شہر میں اردو کے ادارے اور شخصیات ہر جگہ اس کے لیے مہم چلارہے ہیں اور سوشل میڈیاپر پیغام دیتے ہیں اور اساتذہ بھی مہم شامل ہوچکے ہیں کیونکہ انہیں اپنی بقا پیاری ہے ،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسٹریٹ چلڈرن اور جھگی چھوپڑا بستیوں میں اسکولوں سے دوربچوں کو تعلیم سے جوڑنے میں اہم رول اداکیا ہے۔اردواسکول میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ایک پُرمسرت لحمہ ہے اور اسے فروغ دینے کی کوشش جاری رہنا چاہئے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز