اب وی ایچ پی صدر پروین توگڑیانے کہا : بابر کے نام پر اجودھیا تو کیا ملک میں کہیں بھی نہیں بننی چاہئے مسجد

وشو ہندو پریشد کے صدر پروین توگڑیا نے کہا کہ سردار پٹیل کی کوششوں سے سومناتھ مندر کی از سر نو تعمیر کے طرز پر رام جنم بھومی پر مندر بنانے کا واحد راستہ پارلیمنٹ میں قانون کے ذریعہ ہے

Mar 26, 2017 07:45 PM IST | Updated on: Mar 26, 2017 07:45 PM IST

احمدآباد: وشو ہندو پریشد کے صدر پروین توگڑیا نے کہا کہ سردار پٹیل کی کوششوں سے سومناتھ مندر کی از سر نو تعمیر کے طرز پر رام جنم بھومی پر مندر بنانے کا واحد راستہ پارلیمنٹ میں قانون کے ذریعہ ہے۔ لیکن اجودھیا یا ملک میں کہیں بھی بابر کے نام پر مسجد نہیں بننی چاہئے۔ مسٹر توگڑیا نے آج یہاں جی ایم ڈی سی میدان پر وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے مشترکہ ہندو سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے سبھی شہریوں کو صرف ایک بیوی اور دو بچوں کی اجازت دینے والے آبادی کے یکساں قانون اور یکساں سول کوڈ اور اقلیتوں کے طرز پر ہندوؤں کے بچوں کو بھی حکومت کی طرف سے مفت تعلیم دینے اور اسلامی جہاد سے تحفظ کے لئے ہر ضلع میں آئی پی ایس درجہ کے ایک افسر کی تقرری کرنے سمیت بارہ نکاتی مطالبات مرکزی حکومت کے سامنے پیش کئے۔

اپنی پرجوش تقریر کے دوران مسٹر توگڑیا نے کہا کہ سردار پٹیل نے سومناتھ مندر کی تعمیر کے لئے مسلمانوں کی داڑھی نہیں پکڑی تھی اور نہ ہی کسی ٹوپی والے کو گلے لگایا تھا۔ اس وقت کی مرکزی حکومت کی رضامندی سے ڈنکے کی چوٹ پر مندر کی تعمیر ہوگئی تھی۔ ایسا بھی رام مندر کے لئے کئے جانا بھی چاہئے اور پارلیمنٹ میں قانون کے ذریعے مندر بناناہی واحد راستہ ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو لوگ اجودھیا کوچ کریں گے۔ انہوں نے موجود حاضرین سے اس کے لئے نعرے بھی لگوائے۔

اب وی ایچ پی صدر پروین توگڑیانے کہا : بابر کے نام پر اجودھیا تو کیا ملک میں کہیں بھی نہیں بننی چاہئے مسجد

fiel photo

مسٹر توگڑیانے کہا کہ مرکزی حکومت کو کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ بابر کے نام پر کوئی مسجد اجودھیا میں تو کیا پورے ملک میں کہیں نہیں بننی چاہئے۔ مرکز کو صرف سردار پٹیل کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ ان کا طرز عمل بھی اختیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 95 لاکھ مسلمان طلبہ کے لئے معاشی امداد دیتی ہے جو ہندؤوں کے پیسے سے ہی ہوتی ہے۔ ہندوؤں کے لئے بھی ایسا ہی انتظام ہونا چاہئے۔ اقلیتوں کو چار بیویاں رکھنے اور پچیس بچے پیدا کرنے کی اجازت دینے سے ان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ان کا خرچ سرکار ہندوؤں کے توسط سے حاصل ہوئی رقم کے ذریعے اٹھارہی ہے۔ اس پر روک لگنی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو یکساں آبادی پالیسی قانون تیار کرنا چاہئے۔ بلڈ پریشر، کینسر اور ٹی بی جیسی بیماریوں سے متاثر افراد کے لئے سستی دوا ملنی چاہئے اور پندرہ کروڑ ہندوؤں بیروزگاروں کے لئے روزگار کا انتظام ہونا چاہئے۔ مسٹر توگڑیا نے اپنے مطالبات میں کشمیر سے ترک سکونت کرنے والے کشمیری پنڈتوں کو پھر سے وہاں آباد کرنے، بنگلہ دیشی دراندازوں کو چھ مہینے میں ملک سے باہر نکالنے، ذبیحہ گاہوں پر مکمل پابند ی کرنے جیسے معاملوں کو بھی شامل کیا۔

کسانوں کی بات کرتے ہوئے وی ایچ پی رہنما نے کہا کہ پچھلے نو برسوں میں چار لاکھ کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی معقول قیمت ملنی چاہئے۔ وی ایچ پی رہنما نے اپنی تقریر میں مرکز کی نریندر مودی حکومت پر بھی براہ راست اور بالواسطہ طور پر حملے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم اپنے دم پر صرف احمدآباد میں پچاس ہزار نوجوانوں کو روزگار کی تربیت دے کر انہیں آٹھ سے بیس ہزار روپے ماہوار تک کی آمدنی تک مواقع فراہم کرائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز