Live Results Assembly Elections 2018

گجرات : قیاس آرائی کا دور ختم ، وجے روپانی پھرسے بنیں گے وزير اعلی ، نتن پٹیل نائب وزیر اعلی

گجرات کے وزیر اعلی وجے روپاني کو آج متفقہ طور پر ریاست میں بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ان کے مسلسل دوسری بار ریاست کی کمان سنبھالنے کا راستہ صاف ہو گیا ۔

Dec 22, 2017 06:33 PM IST | Updated on: Dec 22, 2017 06:33 PM IST

گاندھی نگر: گجرات کے وزیر اعلی وجے روپاني کو آج متفقہ طور پر ریاست میں بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ان کے مسلسل دوسری بار ریاست کی کمان سنبھالنے کا راستہ صاف ہو گیا ۔ سینئر پٹیل لیڈر نتن پٹیل کو قانون ساز پارٹی کا ڈپٹی لیڈر منتخب کیا گیا ہے اور وہ بھی مسلسل دوسری بار نائب وزیر اعلی کے عہدے پر فائز ہوں گے۔ مرکزی وزیر خزانہ اور گجرات میں بی جے پی کے انچارج ارون جیٹلی کی موجودگی میں آج یہاں پارٹی کے ریاستی صدر دفتر شري كملم میں پارٹی کے نو منتخب اراکین کی میٹنگ ہوئی، جس میں مسٹر روپاني اور مسٹر نتن پٹیل کو متفقہ طور پر بالترتیب لیڈر اور ڈپٹی لیڈر کے طور پر منتخب کیا گیا۔

دونوں کے نام کی تجویز سینئر ممبر اسمبلی بھوپندرسنگھ چوڈاسما نے پیش کی تھی۔ مسٹر جیٹلی نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کی تشکیل کا عمل مسٹر روپاني اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر طے کریں گے۔ اجلاس میں بی جے پی کے تمام نو منتخب اراکین اسمبلی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حلف برداری کی تاریخ طے ہونے پر بتا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ 9 اور 14 دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو 99 سیٹیں ملی تھیں ۔ اجلاس میں مسٹر جیٹلی کے علاوہ مرکزی مشاہد کے طور پر قومی جنرل سکریٹری محترمہ سروج پانڈے موجود تھیں۔ اس میں گجرات انچارج بھوپندر یادو بھی موجود تھے۔

گجرات : قیاس آرائی کا دور ختم ، وجے روپانی پھرسے بنیں گے وزير اعلی ، نتن پٹیل نائب وزیر اعلی

اکتوبر 2014 میں راجکوٹ مغربی سیٹ پر ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے پہلی بار رکن اسمبلی بنے مسٹر روپاني، محترمہ آنندی بین پٹیل کے استعفی کے بعد 7 اگست 2016 کو وزیر اعلی بنے تھے۔ چھ بار رکن اسمبلی رہ چکے مسٹر نتن پٹیل کو مسٹر روپاني کے ساتھ نائب وزیر اعلی بنایا گیا تھا۔ بی جے پی نے اس سال انتخابات میں دونوں کی قیادت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ انتخابات میں بی جے پی کی نسبتا کمزور کارکردگی (182 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کی نشستیں 115 سے گھٹ کر 99 ہونے) کے چلتے ایسی قیاس آرائی لگائی جا رہی تھی کہ شاید اس بار سب سے اعلی عہدے میں ردوبدل ہو گا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز