مہاراشٹر میں جاری وقف جائیدادوں کے سروے کو لے کر عوام اور ملّی تنظیموں میں شدید ناراضگی

Jul 24, 2017 11:24 PM IST | Updated on: Jul 24, 2017 11:24 PM IST

اورنگ آباد : مہاراشٹر میں جاری وقف جائیدادوں کے سروے کو لے کر عوام اور ملّی تنظیموں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ تحریک اوقاف نے اس سروے کو کاغذی خانہ پوری سے تعبیر کیا ہے۔ اس تعلق سے تحریک کا ایک وفد جلد ہی وزیراعلی دیویندر فڑنویس سے جلد ملاقات کرے گا ۔ پہلے مرحلے کے تحت پونہ اور پربھنی میں وقف جائیدادوں کا سروے کیا جا رہا ہے ۔ مہاراشٹر میں تقریباً 95000 ایکڑ زمین وقف اراضی ہیں ۔ لیکن 70 فیصد وقف جائیدادوں پر سرکاری، نیم سرکاری اورناجائز قبضہ جات ہیں ۔

اے ٹی اے کے شیخ کمیشن کی رپورٹ میں اس کا تفصیلی ذکر موجود ہے ۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے کیے جا رہے سروے سے امید کی جا رہی تھی کہ وقف کی گمشدہ جائیدادوں کی بازیافت کو یقینی بنایا جائے گا ، لیکن پہلے مرحلے میں ہی سروے پر سوالات کا اٹھنے سے وقف جائیداد کے سروے کو لے کر وقف بورڈ حکام اورحکومت کتنی سنجیدہ اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔

مہاراشٹر میں جاری وقف جائیدادوں کے سروے کو لے کر عوام اور ملّی تنظیموں میں شدید ناراضگی

مہاراشٹر حکومت کی جانب سے پائلیٹ پروجیکٹ کے تحت وقف جائیدادوں کا سروے کیا جارہا ہے۔ پہلے مرحلے میں پونہ اور پربھنی میں وقف جائیدادوں کا سروے جاری ہے۔ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے ریاست گیر سطح پر سرگرم تنظیم تحریک اوقاف نے وقف سروے کو کاغذی خانہ پوری سے تعبیر کیا ہے۔ تحریک اوقاف کےصدر شبیر انصاری کا الزام ہے کہ سروے کے تعلق سے حکومت نے جو جی آر جاری کیا تھا ، سرکاری حکام اس کا قطعی پاس نہیں رکھ رہے ہیں ۔

مہاراشٹر میں وقف جائیدادوں کا مکمل سروے ابھی تک نہیں کیا جا سکا ہے۔ کانگریس -این سی پی دور حکومت میں اے ٹی اے کے شیخ کمیشن نے وقف جائیدادوں پرجائز اور ناجائز قبضہ جات کی جانچ کی تھی ۔ کمیشن نے 2011 میں اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ حکومت کو پیش کردی تھی اور وقف جائیدادوں کے سروے کے لیے کمیشن کی میعاد میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا ۔ لیکن سابقہ ریاستی حکومت نےاس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ موجودہ بی جے پی حکومت نے پائلیٹ پروجیکٹ کے تحت سروے کا آغاز کیا ہے ، لیکن اس پورے معاملہ میں ریاستی وقف بورڈ کی خاموشی پرسوالات اٹھ رہے ہیں ۔

مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کی حالیہ میٹنگوں میں تحریک اوقاف کے چنندہ کارکنوں کو وقف جائیدادوں کے سروے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اس کا باضابطہ اعلان بھی کیا گیا تھا ، لیکن سیاسی مصلحتوں کے چلتے یہ فیصلہ بھی کاغذی خانہ پوری ثابت ہوا ۔ تحریک اوقاف نے پائلیٹ پروجیکٹ میں کی جا رہی کوتاہیوں کو لے کر وزیراعلی سے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز