ایم آئی ایم کے ناندیڑ میں 6 واٹر فلٹر پلانٹ قائم، محض دو روپئے میں دیا جا رہا بیس لیٹر پانی

Sep 12, 2017 08:08 PM IST | Updated on: Sep 12, 2017 08:08 PM IST

ناندیڑ۔ غریب عوام میں صاف اور فلٹرڈ پانی کی فراہمی کےلئے ایم آئی ایم نے ناندیڑ کے 6 مقامات پر واٹر فلٹر پلانٹ قائم کئے ہیں ۔ سالار ملت منرل واٹر پلانٹ کے نام سے قائم کیے گئےاداروں میں محض دو روپئے میں بیس لیٹر پانی دیا جا رہا ہے ۔ شہر بھر میں مجلس کی ان کوششوں کی بھر پورستائش کی جا رہی ہے ۔ بلدیہ عظمیٰ ناندیڑ کے ہر علاقے میں پینے کے لئے صاف پانی پہنچانے کی ذمہ دار ہے ۔ لیکن ناندیڑکے کئی علاقوں میں بلدیہ عظمی صاف پانی پہنچانے میں ناکام ہے ۔غریب پسماندہ علاقوں میں نلوں کے ذریعہ جو پانی پہنچایا جاتا ہے وہ پانی نالیوں اور ڈرینیج لائن سے گذرکرجاتا ہے جس کی وجہ سےاس پانی سے استفادہ کرنے والے اکثر دواخانوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ایم آئی ایم نے اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئےعوام کو پینے کا صاف اورشفاف پانی مفت فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ ناندیڑ میں 6 الگ الگ مقامات پر سالار ملت منرل واٹر پلانٹ قائم کئےگئے ہیں ۔ پارٹی کے ریاستی صدرسید معین نے اپنے ہاتھوں سے منرل واٹر پلانٹ کا افتتاح کیا ۔

نلوں سے آلودہ پانی کی سپلائی ہونے سے لوگوں کو مجبوراً پینے کا پانی خرید کر پینا پڑ رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شہر بھر میں پینے کے پانی کی فروخت زوروں پر چل رہی ہے ۔ایک اوسط اور دولت مند خاندان تو صاف اور شفاف پانی خرید نے کےلئے ماہانہ ڈیڑھ سے دو ہزار روپئے خرچ کردیتا ہے لیکن غریب اور مزدور پیشہ لوگ دو وقت کی روٹی سے محروم ہوتے ہیں تو پینے کیلئے صاف پانی کہاں سے خرید پائیں گے ۔ لیکن آج کل غریبوں کوایک ایک روپئے کے دو سکے ڈالنے پر بیس لیٹر فلٹر پانی دستیاب ہو رہا ہے ۔  بازار میں اتنا ہی پانی خریدنے پر بیس سے 25 روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

ایم آئی ایم کے ناندیڑ میں 6 واٹر فلٹر پلانٹ قائم، محض دو روپئے میں دیا جا رہا بیس لیٹر پانی

ناندیڑ شہر میں اس طرح کا یہ پہلا تجربہ ہے جو ایم آئی ایم کی جانب سے کیا گیا ہے ۔ ان پلانٹوں میں جدید طرزکی مشینیں نصب کی گئی ہیں اور پانی کی نکاسی کیلئے کوائن باکس بھی لگائے گئے ہیں ۔ اس کمی کو دور کرنے کے لئے مجلس نے محض دو روپئے میں بیس لیٹر پانی دیکر لوگوں کو بڑی راحت پہنچانے کا کام کیا ہے ۔ اس کی وجہ سےغریب عوام  کافی خوش ہے۔ اس پروجیکٹ سے غریب اور مزدور پیشہ لوگوں کو  کافی راحت ملی ہے اور اپنے بچوں کی صحت کے متعلق بھی یہ لوگ کچھ حد تک بے فکر بھی ہوگئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز