مسلم پرسنل لا میں کسی بھی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی: علما

May 22, 2017 05:23 PM IST | Updated on: May 22, 2017 05:23 PM IST

ممبرا۔ ملک بھر میں ان دنوں تین طلاق کو لیکرایک عجیب سی گہما گہمی مچی ہوئی ہے ۔ مختلف بنیادی و سماجی مسائل سے دوچار مسلمانوں کو اب طلاق و نکاح جیسے حساس مذہبی

سوالات میں یہ کہہ کرالجھا یا جارہا ہے کہ طلاق جائز ہے یا نہیں۔ اس میں بھی تین طلاق درست ہے یا نہیں َ؟ اس بات کو لیکر ملک بھر میں مسلم پرسنل کی حمایت و بیداری کے سلسلے میں جلسے منعقد ہو رہے ہیں ۔ اسی سلسلے میں ممبرا میں بھی ایک جسلہ عام منعقد کیا گیا ۔ ممبرا میں رحمانی قومی فاؤنڈیشن کی جانب سے مسلم پرسنل لا بورڈ کی حمایت اور مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ایک جلسہ عام میں علمائے کرام نے کہا کہ قرآن میں نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور پیغمبر اعظم نے بھی اس پرعمل کیا ہے  لیکن کہیں بھی طلاق کا ذکر نہیں ہے ۔ لیکن طلاق ایک ایسا جائز فعل لیکن معیوب و مکروہ فعل ہے جو اللہ کو بھی پسند نہیں ہے لیکن حالات ناگفتہ میں اسے دیا جا سکتا ہے یہ دو خاندانوں میں علیحدگی کا ایک جائز طریقہ ہے ۔

مسلم پرسنل لا میں کسی بھی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی: علما

وہیں علمائے کرام نے بتایا کہ اسلام میں خواتین کو بہت ہی بلند مقام حاصل ہے۔ انھیں یوں ہی طلاق دے کر چھوڑدینے کا حکم نہیں ہے بلکہ لڑکیوں و عورتوں کو انکے شوہر، انکے والد

اور انکے بھائیوں کی ملکیت میں حق دیا گیا ہے تا کہ عورت کبھی بھی مجبور نہ بن سکے ۔علما و دانشوارن نے کہا کہ تحفظ اسلام کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ آج جو حالات ہیں اس سے بھی زیادہ سنگین حالات اس تاریخ اسلام نے دیکھے ہیں لیکن اسلام کو آج تک کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا ہے اور نہ  ہی پہنچا سکے گا۔ اس لیے شریعت پر کسی قسم کی مداخلت ممکن ہوگی،  ایسا سوچنا بھی فضول ہے ۔

اس دوران علمائے کرام نے  بتایا کہ مسلم پرسنل لا کی بنیاد 1973 میں ممبئی میں رکھی گئی اور آج تک مسلمانوں کے سبھی مسالک کے ذمہ داران بورڈ کے ساتھ  ہیں اور آگے بھی رہیں گے ۔ مسلم پرسنل کا تحفظ ہمارا مذہبی معاملہ اور ذمہ داری ہے ۔  جلسہ میں جماعت اسلامی، جمعیۃ علما، جمعیت اہلحدیث، شیعہ اثنا عشری جماعت کے علاوہ مقامی ملی ، سیاسی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز