یشونت سنہا کا مودی حکومت پر پھر نشانہ، کہا میرے مشورے پر عمل کرے تو بدل سکتے ہیں حالات

Nov 14, 2017 08:43 PM IST | Updated on: Nov 14, 2017 08:43 PM IST

احمدآباد۔ سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے آج دعویٰ کیا کہ اگر مودی حکومت جی ایس ٹی میں تبدیلی کیلئے ان کے مشوروں پر عمل کرے تو اگلے بجٹ سے پہلے ہی معیشت میں بہتری شروع ہوجائے گی۔ مسٹر سنہا نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ جی ایس ٹی اور نوٹوں کی منسوخی سے معیشت کو دھکا لگا ہے ۔نوٹوں کی منسوخی کے پیش نظر 20لاکھ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔معیشت میں اضافہ کی شرح نئے اعدادو شمار کے مطابق گر کر 5.7فیصد(پرانے اعدادو شمار کے حساب سے 3.5فیصد) پر آگئی ہے جبکہ یہ متحدہ ترقی پسند اتحادی حکومت کی آخری تماہی کے دوران نئے اعدادو شمار کے لحاظ سے 6.5(پرانی 4.7)تھی۔ کالے دھن کو ختم کرنے سمیت نوٹوں کی منسوخی کا کوئی بھی اعلان کیا گیا مقصد پورا نہیں ہوا۔ جی ایس ٹی جیسے اچھے ٹیکس نظام کو خراب ڈھنگ سے نافذ کرنے سے نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ مودی حکومت کو وراثت میں بینک کے قابل استعمال اثاثوں (این پی اے) اور رکے ہوئے منصوبوں کا انبار ملا تھا اور گزشتہ قریب تین برس میں اس میں سے کچھ ہی بہتری ہوئی ہے پر اب بھی آٹھ لاکھ کروڑ کے این پی اے اور قریب 18لاکھ کروڑ روپے کے منصوبے زیر التوا ہیں۔

یشونت سنہا کا مودی حکومت پر پھر نشانہ، کہا میرے مشورے پر عمل کرے تو بدل سکتے ہیں حالات

سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا : فائل فوٹو۔

ملک میں اپنی ہی پارٹی کی حکومت کی اقتصادی پالیسی کی سخت تنقید کے پیش نظر سرخیوں میں آئے مسٹر سنہا نے کہا کہ جی ایس ٹی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ہی 2003 میں جی ایس ٹی کو نافذ کرنے کی سفارش کرنے والے 13ویں فائننس کمیشن کے چیئرمین وجے کیلکر کی قیادت میں چار پانچ ماہرین کی کمیٹی تشکیل ہونی چاہئے جو وقت وقت پر حکومت اور وزارت خزانہ کو جی ایس ٹی کے سلسلے میں مشورہ دے۔ایسا کرنےسے ایک دو ماہ میں ہی بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے اور اگلے بجٹ سے پہلے ہی معیشت پٹری پر لوٹ سکتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز