عرس خواجہ اجمیری : تخت نشینی تنازع کے درمیان بڑے قلُ کی مجلس کی دیوان زین العابدین نے کی صدارت

عرس میلے کا آج باضابطہ اختتام ہو رہا ہے لیکن دونوں بھائیوں کے درمیان آگے بھی تنازعات ہوں گے اس خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

Apr 07, 2017 01:03 PM IST | Updated on: Apr 07, 2017 01:03 PM IST

اجمیر: راجستھان میں اجمیر درگاہ کے دیوان تخت کے سلسلے میں گذشتہ دنوں سے جاری تنازعہ کے درمیان کل دیر رات 805 ویں سالانہ عرس پر بڑےقلُ کی رسم کے لئے منعقد محفل کی صدارت درگاہ دیوان زین العابدین نے ہی کی۔ عرس میلے کا آج باضابطہ اختتام ہو رہا ہے لیکن دونوں بھائیوں کے درمیان آگے بھی تنازعات ہوں گے اس خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے چھوٹے بھائی سید علاء الدین عليمي کے ساتھ گزشتہ تین دنوں سے چل رہے دیوان کے تخت پر تنازعہ اور علاء الدین کاخود کو دیوان کا محافظ و سرپرست اعلان کئے جانے کے اعلان کے درمیان کل سالانہ عرس کے موقع پر بڑے قلُ کی رسم ِمحفل کی صدارت درگاہ دیوان زین العابدین نے ہی کی۔اس دوران کسی طرح کا تنازعہ اور احتجاج سامنے نہیں آیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ قانونی طور پر درگاہ دیوان کا تخت زین العابدین کے پاس ہی محفوظ ہے۔

عرس خواجہ اجمیری : تخت نشینی تنازع کے درمیان بڑے قلُ کی مجلس کی دیوان زین العابدین نے کی صدارت

علامتی تصویر

تنازعہ کے خدشہ کے پیش نظردرگاہ تھانہ پولیس نے سیٹی مجسٹریٹ (شہر) سے ایک استغاثہ پیش کرکے مخالفت کرنے والے علاء الدین عليمي اور دیگر چار کو درگاہ میں داخلے پر پابندی عائد کرا دی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سیٹی مجسٹریٹ نے پانچوں کو دفعہ 107 اور 116 کے تحت پابند کر دیا اور علیمی کو انہیں کے گھر میں نگرانی میں رکھا گیا ۔ پابند کئے جانے والوں میں خودعليمي کے علاوہ قاضی منور علی، موروثی عملے کے سکریٹری عثمان گھڑیالی، ضرار احمد اور غلام رسول شامل ہیں ۔

غور طلب ہے کہ تخت نشینی تنازعہ کے سلسلے میں علیمی نے خود کو دیوان کا محافظ و سرپرست اعلان کرتے ہوئے ملک بھر کے علماء سے فتوی منگانے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف دیوان زین العابدین نے اپنے بھائی کو سخت گیروں و شدت پسندوں کی جانب سے اکسانے کے الزام کے علاوہ دیوان کے تخت کا وارث ایک پریس کانفرنس میں اپنے بیٹے نصیر الدین کو بنانے کا اعلان کر دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ہٹانے کا حق صرف سپریم کورٹ کو ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز