گجرات فسادات کیس: ذکیہ جعفری کی درخواست پر 21 اگست کو فیصلہ سنائے گا ہائی کورٹ

Aug 10, 2017 11:38 AM IST | Updated on: Aug 10, 2017 11:38 AM IST

احمد آباد۔ گجرات ہائی کورٹ 2002 کے فسادات کے معاملے میں ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی اور دیگر کو نچلی عدالت کی جانب سے کلین چٹ دئے جانے کو چیلنج کرنے والی مرحوم کانگریس لیڈر احسان جعفری کی بیوی ذکیہ جعفری کی درخواست پر اب 21 اگست کو اپنا فیصلہ سنائے گا۔ جسٹس سونیا گوكانی نے ذکیہ جعفری کے وکلاء، ایس آئی ٹی اور ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ 21 اگست کو فیصلہ سنائیں گی۔ اس معاملے کی سماعت تین جولائی کو مکمل ہو گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے اس سے پہلے فیصلہ سنانے کے لئے بدھ کی تاریخ مقرر کی تھی۔

کورٹ نے جعفری اور سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کی غیر سرکاری تنظیم 'سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس' کی نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کی۔عرضی میں 2002 کے فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی مجرمانہ سازش ہونے کے معاملے میں خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے کلین چٹ دئے جانے کو صحیح ٹھہرانے کے نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔

گجرات فسادات کیس: ذکیہ جعفری کی درخواست پر 21 اگست کو فیصلہ سنائے گا ہائی کورٹ

جسٹس سونیا گوكانی نے ذکیہ جعفری کے وکلاء، ایس آئی ٹی اور ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ 21 اگست کو فیصلہ سنائیں گی: گیٹی امیجیز۔

درخواست گزاروں نے نئے سرے سے جانچ کی مانگ کی ہے۔ پٹیشن میں مودی اور 59 دیگر کو فسادات کو لے کر مجرمانہ سازش رچنے کا ملزم بنائے جانے کی مانگ کی گئی ہے۔ غور طلب ہے کہ 28 فروری، 2002 کو گجرات کے گلبرگ سوسائٹی میں بھیڑ نے جعفری سمیت قریب 68 لوگوں کا قتل کر دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز