ڈاکٹر ذاکر نائیک اشتہاری مجرم قرار، جائیدادیں قرق کرنے کے لئےعدالت سے اجازت طلب

Jul 29, 2017 01:54 PM IST | Updated on: Jul 29, 2017 01:54 PM IST

ممبئی۔ معروف اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے اوردو مرکزی تفتیشی ایجنسیوں انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اورنیشنل انویسٹی گیشن (این آئی اے) نے ان کی جائیدادیں ضبط کر نے اور انہیں سیل کرنے کاعمل شروع کرنے کے لئے سبھی قانونی کارروائی مکمل کرلی ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر نائیک ملک واپس نہیں لوٹے ہیں اور ان پر اشتعال انگیزی کرنے اور غیر قانونی طور پر بیرون ملک سے رقم حاصل کرنے کا الزام عائد کیاگیا ہے۔ گزشتہ ہفتے این آئی اے نے عدالت میں نائیک کو بھگوڑا قرار دینے کی عرضی داخل کی تھی اورخصوصی عدالت سے ان کی پراپرٹی سیل کرنے کے لئے بھی اجازت طلب کی گئی ۔ پیر کو عدالت میں سماعت ہوگی۔

بتایا جاتا ہے کہ این آئی اے نے ڈاکٹر نائیک کے گھرسمیت پانچ پراپرٹی سیل کرنے کی درخواست کی ہے ۔انہیں اشتہاری مجرم قرار دینے کے لیے پہلے ہی منظوری مل چکی ہے۔امسال اپریل میں ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ کیونکہ نائیک پر نوجوانوں کو اشتعال دلانے کا الزام لگایاگیا ہے۔ جس سے انہوں نے انکار کیا ہے۔این آئی اے  کا الزا م ہے کہ ڈاکٹر نائیک نے ہندوستان میں اپنی تقاریر کے ذریعہ مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پھیلائی اور بیرون ملک بھی اس کا اثر پڑا۔ ان پر مسلم نوجوانوں کو انتہاپسند سرگرمیوں میں ملوث کر نے کا بھی الزام ہے۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک اشتہاری مجرم قرار، جائیدادیں قرق کرنے کے لئےعدالت سے اجازت طلب

ڈاکٹر ذاکر نائیک: فائل فوٹو

این آئی اے نے ان کے خلاف 18نومبر 2016 کوغیر قانونی اور ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کیس درج کیا تھا۔ دراصل بنگلہ دیش میں ایک دہشت گردانہ حملہ کے ملزم کے بارے میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ وہ ڈاکٹر نائیک کی تقاریر سے متاثر تھا۔ کیس درج کرنے کے ایک روز بعد حکومت نے ان کی تنظیم اسلامک ریسرچ فاونڈیشن(آئی آر ایف) پر پابندی عائد کردی۔ مذکورہ کارروائیاں تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت کی گئی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز