تنقید کرنے والی کئی میڈیا تنظیموں کو ٹرمپ انتظامیہ نے پریس بریفنگ میں شامل ہونے سے روکا

Feb 25, 2017 02:52 PM IST | Updated on: Feb 25, 2017 02:52 PM IST

واشنگٹن۔ امریکہ میں وائٹ ہاؤس نے عوامی طور پر اس کی تنقید کرنے سے ناراض ہوکر کچھ میڈیا تنظیموں پر پریس کانفرنس میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ترجمان شان اسپائسر کی پریس کانفرنس میں بی بی سی، دی نیو یارک ٹائمز، اور سی این این جیسے اداروں کے صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور انہیں اندر نہیں جانے دیا گیا۔ تاہم صحافیوں کو پریس کانفرنس سے باہر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ پریس کانفرنس میں رائٹرسمیت کل ملاکر 10 میڈیا تنظیموں کو ہی پریس کانفرنس کے لیے اندر جانے دیا گیا۔ میری لینڈ میں ہوئی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تقریر کے چند گھنٹے بعد ہی میڈیا اور ٹرمپ کے تعلقات میں نئی محاذ آرائی دیکھنے کو ملی ہے۔

ٹرمپ نے غیر مصدقہ ذرائع کے حوالے سے خبر دینے کے لئے میڈیا کی تنقید کی۔ اگرچہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ کن خبروں سے ناراض ہیں۔ صدر کے اس اقدام سے ناراض میڈیا تنظیموں نے ان کی سخت تنقید کی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور ٹائم میگزین کے صحافیوں نے بھی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ دی نیو یارک ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ڈین بیکوے نے ایک بیان میں کہا، "ایسا اخبار کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ ہم مضبوطی کے ساتھ نیویارک ٹائمز اور دیگر میڈیا تنظیموں کے بائیکاٹ کی مخالفت کرتے ہیں۔ قومی مفاد کیلئے آزاد میڈیا کا ہونا ضروری ہے۔

تنقید کرنے والی کئی میڈیا تنظیموں کو ٹرمپ انتظامیہ نے پریس بریفنگ میں شامل ہونے سے روکا

رائٹرز

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز