ممبئی میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے تعلیمی حقوق پر ورکشاپ کا انعقاد

Sep 14, 2017 11:36 PM IST | Updated on: Sep 14, 2017 11:36 PM IST

گوونڈی ممبئی : قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے عروس البلاد ممبئی کے مضافاتی علاقے کرلامیں واقع انجمن اسلام اسکول میں’ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلباء کی تعلیمی حقوق‘ پرایک ورکشاپ کا انعقادکیاجس میں مدارس ومکاتب کے ذمہ داران ونیزشہرکے معززعلمی شخصیات کومدعو کیاگیا۔اس ورکشاپ میں یہ انقلابی قراددادمنظورکیاگیاکہ مدارس اسلامیہ میں دینی وعصری تعلیم کانظم کیاجائے اورایک ایساہمہ گیرتعلیمی نصاب متعین ہوجومدارس کے تعلیمی نصاب سے مداخلت نہ کرتے ہوئے بہتراورکوالٹی تعلیم کے طورپرقابل قبول ہو۔آئین ہندکے دفعہ ۲۱؍کے تحت ہرشہری کوجوبنیادی حقوق حاصل ہیں حکومت اس کے اطلاق کے لیے حتی المقدورکوشش کرے،کمیشن اس معاملے میں حکومت سے ان مطالبات کومنوانے کی تمام ترکوششیں کرے گا۔قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کے رکن پرینک قانون گونے کہاکہ اس ملک کی مٹی نے زبان سے کبھی کوئی امتیازنہیں کیاہے پہلے ملک کے مدارس معیاری اوراعلی درجے کی تعلیم کے مراکزہواکرتے تھے مدارس ہی سے فارغ التحصیل ملک کے پہلے اورسب سے عظیم وزیرتعلیم مولاناابوالکلام آزادکی مثال ہمارے سامنے ہے۔ڈاکٹرراجندرپرساد،راجہ رام موہن رائے،پریم چنداورملک کے دیگرعہدوں پرفائزرہ چکی بہت سی شخصیات نے مدارس ہی سے تعلیم حاصل کی تھیںلیکن آج یہاں تعلیمی حالت ناسازگارہے، مدرسے کے طلباء معیاری تعلیم سے دورہیں ۔انہوںنے بتایاکہ ملک کی اٹھارہ فیصدآبادی والے مسلم طبقے میں خوانگی کی شرح محض اڑتالیس فیصدی ہی ہے ان حالات کوبدلنے کی ضرورت ہے ،انہوںنے مزیدکہاکہ کمیشن کامقصدمدرسوںمیں مفت تعلیم اوربلاامتیازمذہب بچوںکوان کے تعلیمی حقوق دلاناہے ۔انہوںنے کہاکہ غیرایڈیڈمدرسوںمیں تعلیم حاصل کرنے والوں طلباء کاحکومت کے یہاں کوئی گنتی نہیں ہوپارہی ہے جس سے مسلم طبقہ کے تعلیمی شرح مزیدسامنے نہیں آپارہی ہے ،ضرورت ہے کہ مدارس ومکاتب میں تعلیم حاصل کرنے بچوں کوصحیح سمت دکھائی جائے تاکہ وہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بہرہ ورہوسکیں۔

انجمن اسلام کے صدرڈاکٹرقاضی ظہیرنے کہادراصل مدارس والوں میں حکومت کے تئیں بے اطمینانی پائی جاتی ہے کہ اگرہم حکومت سے تعاون حاصل کرتے ہیں توحکومت ہمارے نظام تعلیم میں مداخلت کرے گی ،مذہبی تعلیم ہرمذہب میں دی جاتی ہے جوان کاواجبی حق ہے،تعلیمی بجٹ بھی ناکافی ہے جس سے مسائل مزیدپیچیدہ ہوتے جارہے ہیں جس کے چلتے یہ مدارس زکاۃ وصدقات کے پیسوں سے قائم ہیں۔

ممبئی میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے تعلیمی حقوق پر ورکشاپ کا انعقاد

قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال حکومت مہاراسٹرکے چیئرمین پروین شیواجی راؤگھوگے نے کہاکہ ہمارے لیے فکرکی بات ہے کہ قانون بنانے سے نظام درست نہیں ہوگابلکہ عملداری سے مسئلہ کا حل ممکن ہے ،کوالٹی ایجوکیشن ملنی چاہیے ،چاہے وہ مدرسہ ہو،حکومتی ادارہ ہویا پھراین جی اوزکے تحت چلنے والے اسکول وکالجز۔سبھی کاتعلیمی نصاب متعین ہوناچاہیے تاکہ طالب علم ایک بہترانسان بنے ۔ انہوںنے مزیدکہاکہ اقلیتی یااکثریتی طبقہ کے مسائل کولے کراس طرح کی بحث ہونی ضروری ہے تاکہ نقطہ سامنے آسکے جوبظاہرنظرآتاہے وہ اوپری اورسطحی حصہ ہوتاہے ۔ سروسکشاابھیان کی نائب سنچالک نے بھی خطاب کیا۔اس ورکشاپ میں ممبئی ومضافات کے مختلف مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی ،اس موقع پر مدرسہ رحمانیہ گوونڈی کے صدرمدرس مولانافیض الرحمن رحمانی نے سوال کیاکہ حفظ کے ساتھ ساتھ ہم مکتب میں اردوہندی ریاضی اورسائنس بھی پڑھاتے ہیںاس کے باوجودمدارس کے طلبہ کی سندکوتسلیم نہیں کیاجاتاجس کی وجہ سے اب سرپرست مدارس سے منہ موڑ رہے ہیں۔پرینک گونے اس کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ بھوپال میںہم نے تجربہ کیاتھااورکچھ مکاتب نے ہماری درخواست پردینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی دی،مدھیہ پردیش حکومت نے ایسے طلباء کی فیس اپنی جانب سے اداکی تھی یہ تجربہ ہم دوسری ریاستوں میں بھی عمل میں لاسکتے ہیں ۔

گاپڑیہ نگرکرلاکے مدرسہ کے ذمہ دارشاہ عالم نے سوال کیاکہ کمیشن سے مدارس کس طرح فیض اٹھاسکتے ہیں اورطلباء کوکیاسہولتیں فراہم ہوسکتی ہیں،جواب میں قانون گونے کہاکہ مدارس میں جودرس نظام پڑھایاجارہاہے اس سے بہترکوئی نصاب نہیں ،ہماری کوشش یہ ہیکہ اس کے ساتھ بنیادی عصری تعلیم بھی دی جائے، ہمیں ایساطریقہ اختیارکرناچاہیے جودونوں طرزتعلیم سے مطابقت رکھتاہو۔واضح ہوکہ اس تعلیمی بہبودی ورکشاپ میں سوال وجواب کاسیشن رکھاگیاتھااوربہترمشوروں کوپارلیمنٹ تک پہونچانے کی بات کہی گئی ہے، ورکشاپ میں اس معاملے پرغورکیاگیاکہ مدارس کے روحانی تقدس کوبرقراررکھتے ہوئے وہاں زیرتعلیم طلباء کوعصری تعلیم سے بہرورکیاجائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز