Live Results Assembly Elections 2018

مسنگ چلڈرن ڈے: سوتیلے والد کے خوف سے 11 سال کی عمر میں چھوڑا تھا گھر، نشے کی لت بھی رہی، لیکن اب ہے کامیاب گائڈ

آج ورلڈ مسنگ چلڈرن ڈے ہے۔ بچوں پر کام کرنے والی تنظیم (چائلڈ رائٹس انڈ یو )کے مطابق ہندوستان میں ہر روز 180 سے زیادہ بچے کھو جاتے ہیں ۔

May 25, 2018 03:57 PM IST | Updated on: May 25, 2018 10:41 PM IST

آج ورلڈ مسنگ چلڈرن ڈے ہے۔ بچوں پر کام کرنے والی تنظیم کرائی (چائلڈ رائٹس اینڈ یو ) کے مطابق ہندوستان میں ہر روز 180 سے زیادہ بچے کھو جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کبھی اپنے گھر واپس نہیں آپاتے۔ آج اس موقع پر پڑھیں ایسے ہی ایک بچے خورشید کی کہانی۔

اس روز سوتیلے والد نے مجھے بہت مارا تھا۔ پیٹنے اور برا بھلا کہنے کے لئے یہ ایک وجہ ہی کافی تھی کہ میں ان کی اپنی اولاد نہیں۔ والد کے پیٹنے سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کی امی کھڑی دیکھتے رہیں ۔ میں روتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا ۔ابو کی یاد آرہی تھی اور اس امی کی جو کبھی میرے آنسودیکھ کر خود ہی رو پڑتی تھی۔ ابو کے انتقال کے بعد غریبی کے چلتے امی کو دوسری شادی کرنی پڑی اور پھر سب بدل گیا ۔ یہی سب سوچتے سوچتے میں گھر سے کافی دور آگیا۔

مسنگ چلڈرن ڈے: سوتیلے والد کے خوف سے 11 سال  کی عمر میں چھوڑا تھا گھر، نشے کی  لت بھی رہی، لیکن اب ہے کامیاب گائڈ

Loading...

پٹائی کے درد کی جگہ اب بھوک نے لے لی تھی۔ میں دیر تک کھانے کے لئے ایک ٹھیلے کے سامنے کھڑا رہا ۔ مانگنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ چوری زیادہ آسان لگی۔ وہ پہلا موقع تھا ۔ پھر میں نے نہ جانے کتنی مرتبہ چوری کی۔ کبھی پیٹ کے لئے، کبھی نشے کے لئے۔ گھر کی کوئی فکر نہیں تھی۔ جانتا تھا ، کوئی میں خیر خبر یا مجھے ڈھونڈنے والا نہیں ہے ۔

نئی دہلی ریلوے اسٹیشن میرا نیا گھر تھا۔ وہاں پانی کی خالی بوتلیں جمع کرتا اور پھر کباڑیوں کوانہیں بیچتا ۔ کبھی تھوڑے پیسہ ملتے تو کئی بار وہ لوگ بوتلیں لے لیتے اور پیٹ کر بھگا دیتے۔

اسٹریٹ چلڈرن کا نشے اور دیگر عادتوں میں پڑنا بہت عام بات ہے ۔ خورشید کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ خورشید کو بھوک سے زیادہ نشے کے لت ستانے لگی۔ وہ یاد کرتا ہے، پہلی مرتبہ نشہ  کیا تھا تو دن بھر بے ہوش میں نہیں تھا۔ ہوش آیا تو پہلا خیال دوبارہ نشہ کرنے کا آیا ۔ میں گھر کو، امی کے بیگانےپن کو ، نئی ابو کی مار کو، بھولنا چاہتا تھا۔  ریلوے اسٹیشن پر بوتلیں جمع کرتا ، ہرمنگل ہنومان مندر کے جوتے اسٹینڈ پر جوتے چپل جمع کرتا ۔ جو پیسہ آتے ان سے روٹی بعد میں لیتا پہلے نشہ خرید لیتا۔

خورشید 11 برس کی عمر میں نشے کا عادی بن چکا تھا ۔ جب پہلی مرتبہ شلٹر ہوم لایا گیا تو گھنٹوں سوتا رہا ۔ سلام بالک ٹرسٹ کے ایگزیکٹیو کونسل کےممبر انجنی تیواری یاد کرتے ہیں کہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہماری ٹیم نے اس لڑکے کو دیکھا ۔ وہ بات کرنے کی حالت میں نہیں تھا،  لیکن بعد میں خورشید کو وہیں سہارا ملا۔ اور زندگی جینے کا نیا سہارا بھی۔

وقت پر کھانا، سونا اورپڑھائی کرنا ۔ خورشید میں پہلے چڑچڑا پن بہت تھی۔  ایک وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر چکا خورشید دوبارہ موقع کی تلاش میں رہتا۔ ایسے میں ان بچوں کو خوب پیار اور خیال  کی ضرورت ہوتی ہے۔ انجنی بتاتے ہیں کہ کوششیں رنگ لا ئیں، خورشید نہ صرف پڑھنے لگا، بلکہ بہت اچھا پڑھنے لگا ۔ لیکن اسے سب سے زیادہ پسند تھا تھیٹر کرنا۔

گھر سے بھاگا ہوا بچہ، جو پیٹ بھرنے کے لئے چوری کیا کرتا تھا، یاچھوٹے موٹے کام۔   اسےکوئی بھی نئی چیز نشے کے لئے ہی متوجہ کرتی ہے ۔ میں نے کئی طرح کے ناٹکوں میں حصہ لیا۔ آرڈیشنس دیئے۔ شارٹ فلمیں کیں۔ دو ناٹکوں، نو ویئر ٹو سم ویئر اور ان دا شیڈ آف بنیان ٹری نے مجھے بین الاقوامی اسٹیج پر پرفارم کرنے کا موقع دیا۔ ہم گلاسگو گئے اور پھر میری زندگی نے ایک نیا موڑ لیا ۔

میں 18 سال کا ہونے جا رہا ہوں ، تاہم میں ہوم شلٹر چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، لیکن کام کرنا ضروری تھا۔ میں اچھی انگریزی بولا کرتا تھا، بیرون ملک جا چکا تھا۔ اب میں غیر ملکی سیاحوں کو پرانی دلی دکھاتا ہوں۔ صبح 9 بجے جامع مسجد کے گیٹ نمبر 3 سے میرا کام شروع ہوتا ہے ۔ تقریباََ روز سیاحوں کو میں وہ دہلی دکھاتا ہوں، جس دہلی میں رہنے والوں نے بھی اس کا تصورشاید نہیں کیا ہو۔ پتلی گلیوں ، بازاروں سے ہوتے ہوئے اس ٹور کا آخر وہیں ہوتا ہے جہاں میری زندگی کی شروعات ہوئی تھی ۔ یعنی شلٹر ہوم۔

 

Loading...

ری کمنڈیڈ اسٹوریز