بچوں کو بڑوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے کو کہا اور ان کی تصویریں کھینچیں ،خود بھی کرتا سیکس

یہی نہیں اس نے بچوں کو بڑوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے کو کہا اور ان کی تصویریں کھینچیں۔ بے شرمی کی حد تو یہ تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ بھی سیکس کرتا اور دوسروں کو بھی اس کیلئے اکساتا تھا۔ آئے جانتے ہیں کیا ہے پوری کہانی۔۔

Oct 09, 2018 09:04 PM IST | Updated on: Oct 16, 2018 03:35 PM IST

ڈیوڈ برگ نام کے ایک شخص نے سال 1968 میں " چلڈرین آف گاڈ " نام کا ایک ادارہ کا قیام کیا۔ شروعات میں تو یہ کسی دوسرے ہپی گروپ کی طرح ہی تھا۔ اس گروپ کے لوگ آپس میں گاتے ۔ بجاتے تھے لیکن ڈیوڈ برگ کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا

اس نےعوام کے سامنے تو بھگوان کی باتیں کرنی شروع کیں اور اس کی آڑ میں وہ بچیوں کا جنسی استحصال کرانے لگا۔ اس کا ماننات ھا کہ 12 سال کے بعد لڑکے اور لڑکیوں کو تعلقات بنانے چاہئے۔

بچوں کو بڑوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے کو کہا اور ان کی تصویریں کھینچیں ،خود بھی کرتا سیکس

علامتی تصویر

یہی نہیں اس نے بچوں کو بڑوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے کو کہا اور ان کی تصویریں کھینچیں۔ بے شرمی کی حد تو یہ تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ بھی سیکس کرتا اور دوسروں کو بھی اس کیلئے اکساتا تھا۔ آئے جانتے ہیں کیسے اس نے ایک معمولی ادارہ کو سیکس کے بلبوتے پوری دنیا میں پھیلا دیا۔

برگ 60 دہائی میں وہ کئی گرجا گھروں میں گیا ، 1967 میں وہ کیلیفورنیا کے ہنٹنگ بیچ پہنچا، برگ کو لگا دنیا سیکس کیلئے پاگل ہے۔ اس نے منصوبہ بنایا اور نوجوان لڑکے ۔ لڑکیوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ پہلے وہ " ٹینس آف کرائسٹ " کے نام سے ادارہ چلاتا تھا جس کا نام بدل کر 'چلڈرن آف گاڈ ' رکھ دیا۔

Loading...

پہلے تو اس نے معصوم بچوں نو جوانوں کو اپنی باتوں میں پھنسانا شروع کیا۔ 1969 تک اس نے 50 لوگوں کو اس بدکاری میں شامل کر لیا تھا۔ اس کے بعد اس نے پورے ملک میں " چلڈرن آف گاڈ ' کے نام سے کئی رہائشی ٹھکانے بنائے۔

جو لوگ اس روش پر چلنے لگے تھے وہ لوگ ان ٹھکانوں پر گھر کی طرح رہتے تھے۔ سال 1972 میں پوری دنیا میں ’چلڈرین آف گاڈ‘ پھیلنے لگا۔ اسے اور بڑھانے کیلئے اس نے ’فلرٹی فشنگ‘ کا منصوبہ بنایا جس میں لڑکیوں کو نوجوان لڑکوں سے تعلق بنا کر اپنے گروپ میں شامل کرنا تھا۔

منصوبہ کامیاب رہا۔ اس نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ ’گاڈ کے لئے‘ اپنے جسم کو قربان کر رہ رہی ہیں۔ اس منصوبہ کے بعد تقریبا 19,000 لوگ ’چلڈرین آف گاڈ‘ میں شامل ہوئے۔ 1981 تک جن لڑکیوں نے جنسی تعلقات قائم کئے تھے ان کے کئی بچے بھی ہو گئے۔ برگ نے آرٹ کے نام پر سیکس کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بنایا۔ سیکس کو وہ ’گاڈس لو‘ کہا کرتا تھا۔

feed

اسے وہ 'سیکشوئل شیئرنگ' کہتا تھا کہ 1 سال کے بعد لڑکے اور لڑکیوں کو تعلقات بنانا چاہئے۔ " مائی لیٹل فش " نام سے چھپی ایک تحریر میں کئی سارے بچوں کو آپس میں و بڑوں کے ساتھ تعلقات بناتے دکھایا گیا تھا۔

اس کا کہنا تھا کہ " بھگوان کے بنائے ہوئے انسان کے ساتھ تعلقات بنانے میں ہمیں کوئی ہچک نہیں دکھانی چاہئے۔ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ بھی کنسی تعلقات بناتا تھا اور دورے لو گوں کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ تعلقات بنانے کیلئے کہتا تھا۔

حیرانی کی بات تو یہ تھی کہ برگ کے پیروکاراسے بہت مانتے تھے اس کی کہی باتوں کو آنکھ بند کر کے فالو کرتے تھے۔ اب اسے ’دی فیملی انٹرنیشنل‘ کے نام سے چلایا جاتا ہے۔ تاہم اب اسے قانون کے دائرے میں رکھ دیا گیا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں برباد ہوئی، لوگ برباد ہوئے اور سب سے اہم بات کی ان کے سوچنے سمجھنے کی سلاہیت برباد ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : دو لڑکیوں کا عجب پیار: شادی کے لئے کروایا سیکس چینج ، اب بیوی مانگ رہی طلاق

Loading...

ری کمنڈیڈ اسٹوریز