کیا آپ جانتے ہیں آگرہ میں ہے ایک اور تاج محل ، 213 سال پہلے کیا گیا تھا تعمیر

Sep 08, 2016 12:08 PM IST
1 of 7
  • محبت کی نشانی  سفید تاج محل کے بارے میں توسب جانتے ہیں، لیکن اس سے تھوڑے  ہی فاصلے پر ایک لال تاج محل بھی موجود ہے۔ شاید بہت ہی کم لوگ اس تاج سے باخبر ہوں گے۔ 213 سال پہلے ایک ڈچ انگریز افسر کرنل جان ولیم هیسنگ کی بیوی نے لال تاج محل کی تعمیر اپنے شوہر کی یاد میں کروائی تھی۔  (ناصر حسین کی رپورٹ اور تصویر)

    محبت کی نشانی سفید تاج محل کے بارے میں توسب جانتے ہیں، لیکن اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک لال تاج محل بھی موجود ہے۔ شاید بہت ہی کم لوگ اس تاج سے باخبر ہوں گے۔ 213 سال پہلے ایک ڈچ انگریز افسر کرنل جان ولیم هیسنگ کی بیوی نے لال تاج محل کی تعمیر اپنے شوہر کی یاد میں کروائی تھی۔ (ناصر حسین کی رپورٹ اور تصویر)

  • لال  تاج محل کہی جانے والی یہ عمارت آگرہ میں عیسائی قبرستان کے درمیان میں واقع ہے ۔ آگرہ متھرا روڈ پر بھگوان  ٹاکیز کے پاس یہ عیسائی قبرستان موجود ہے۔ ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ اس کی دیکھ ریکھ کا کام کرتا ہے۔

    لال تاج محل کہی جانے والی یہ عمارت آگرہ میں عیسائی قبرستان کے درمیان میں واقع ہے ۔ آگرہ متھرا روڈ پر بھگوان ٹاکیز کے پاس یہ عیسائی قبرستان موجود ہے۔ ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ اس کی دیکھ ریکھ کا کام کرتا ہے۔

  • کہا جاتا ہے کہ کرنل جان ولیم سری لنکا میں ایک فوجی زندگی بسر کرنے آیا تھا۔  وہ 1765 کے مشہور کینڈی جنگ میں بھی شریک  تھا۔ اس کے بعد حیدرآباد کے نظام کی خدمت میں چلاآیا۔ 1784 میں مراٹھا سردار مهادجي سندھيا کی فوج میں شامل ہو گیا۔

    کہا جاتا ہے کہ کرنل جان ولیم سری لنکا میں ایک فوجی زندگی بسر کرنے آیا تھا۔ وہ 1765 کے مشہور کینڈی جنگ میں بھی شریک تھا۔ اس کے بعد حیدرآباد کے نظام کی خدمت میں چلاآیا۔ 1784 میں مراٹھا سردار مهادجي سندھيا کی فوج میں شامل ہو گیا۔

  • مهادجي کی موت کے بعد هیسنگ آگرہ آ گیا۔  1803 میں اس کی موت ہو گئی۔هیسنگ کی اہلیہ نے اس کی یاد میں اس عمارت کی تعمیر کروائی تھی ۔

    مهادجي کی موت کے بعد هیسنگ آگرہ آ گیا۔ 1803 میں اس کی موت ہو گئی۔هیسنگ کی اہلیہ نے اس کی یاد میں اس عمارت کی تعمیر کروائی تھی ۔

  • کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ قلعہ پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد اس کی اولاد نے اس کی تعمیر کروائی تھی ۔

    کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ قلعہ پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد اس کی اولاد نے اس کی تعمیر کروائی تھی ۔

  •  اس عمارت کی تعمیر کے وقت کافی حد تک تاج محل کی نقل کی گئی ہے۔

    اس عمارت کی تعمیر کے وقت کافی حد تک تاج محل کی نقل کی گئی ہے۔

  • یہ ایک 58 فٹ لمبےچوڑے   چبوترے  پر بنایا گیا ہے۔ تاج محل کی طرح ہی اونچے مينار بنائے ہیں۔ درمیان میں تاج محل کی طرح ہی ایک گول گنبد بھی بنا ہوا ہے۔ لال تاج محل میں ایک تہہ خانے بھی ہے۔

    یہ ایک 58 فٹ لمبےچوڑے چبوترے پر بنایا گیا ہے۔ تاج محل کی طرح ہی اونچے مينار بنائے ہیں۔ درمیان میں تاج محل کی طرح ہی ایک گول گنبد بھی بنا ہوا ہے۔ لال تاج محل میں ایک تہہ خانے بھی ہے۔

  • لال  تاج محل کہی جانے والی یہ عمارت آگرہ میں عیسائی قبرستان کے درمیان میں واقع ہے ۔ آگرہ متھرا روڈ پر بھگوان  ٹاکیز کے پاس یہ عیسائی قبرستان موجود ہے۔ ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ اس کی دیکھ ریکھ کا کام کرتا ہے۔
  • کہا جاتا ہے کہ کرنل جان ولیم سری لنکا میں ایک فوجی زندگی بسر کرنے آیا تھا۔  وہ 1765 کے مشہور کینڈی جنگ میں بھی شریک  تھا۔ اس کے بعد حیدرآباد کے نظام کی خدمت میں چلاآیا۔ 1784 میں مراٹھا سردار مهادجي سندھيا کی فوج میں شامل ہو گیا۔
  • مهادجي کی موت کے بعد هیسنگ آگرہ آ گیا۔  1803 میں اس کی موت ہو گئی۔هیسنگ کی اہلیہ نے اس کی یاد میں اس عمارت کی تعمیر کروائی تھی ۔
  • کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ قلعہ پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد اس کی اولاد نے اس کی تعمیر کروائی تھی ۔
  •  اس عمارت کی تعمیر کے وقت کافی حد تک تاج محل کی نقل کی گئی ہے۔
  • یہ ایک 58 فٹ لمبےچوڑے   چبوترے  پر بنایا گیا ہے۔ تاج محل کی طرح ہی اونچے مينار بنائے ہیں۔ درمیان میں تاج محل کی طرح ہی ایک گول گنبد بھی بنا ہوا ہے۔ لال تاج محل میں ایک تہہ خانے بھی ہے۔

تازہ ترین تصاویر