جموں و کشمیر :سات سالہ بچی کی ہلاکت کے بعد وادی میں حالات پھر کشیدہ ، سری نگر میں پولیس نے کی فوٹو جرنلسٹوں کی پٹائی

Mar 16, 2017 06:28 PM IST
1 of 11
  •  شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران ایک 7 سالہ کمسن بچی کی ہلاکت اور اس کے 6 سالہ بھائی کے زخمی ہونے سے وادی میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہےاور حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔ جہاں کمسن بچن کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ میں واقع اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں طلبہ نے جمعرات کو احتجاجی مظاہرہ منظم کیا۔ وہیں کشمیری سوشل میڈیا صارفین نے اس ہلاکت پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے فیس بک اور ٹویٹر پر سخت مذمتی پیغامات تحریر کئے۔

    شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران ایک 7 سالہ کمسن بچی کی ہلاکت اور اس کے 6 سالہ بھائی کے زخمی ہونے سے وادی میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہےاور حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔ جہاں کمسن بچن کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ میں واقع اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں طلبہ نے جمعرات کو احتجاجی مظاہرہ منظم کیا۔ وہیں کشمیری سوشل میڈیا صارفین نے اس ہلاکت پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے فیس بک اور ٹویٹر پر سخت مذمتی پیغامات تحریر کئے۔

  • خیال رہے کہ کپواڑہ کے ہایہامہ میں بدھ کے روز ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ تین جنگجوؤں کے علاوہ ایک 7 سالہ کمسن بچن کنیزہ بھی جاں بحق ہوئی۔ جبکہ مذکورہ بچی کا 6 سالہ بھائی فیصل احمد بھی زخمی ہوا۔

    خیال رہے کہ کپواڑہ کے ہایہامہ میں بدھ کے روز ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ تین جنگجوؤں کے علاوہ ایک 7 سالہ کمسن بچن کنیزہ بھی جاں بحق ہوئی۔ جبکہ مذکورہ بچی کا 6 سالہ بھائی فیصل احمد بھی زخمی ہوا۔

  • پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کمسن بھائی بہن آوارہ گولیاں (سٹرے بلٹس) لگنے سے زخمی ہوئے تھے ، اگرچہ دونوں کو فوری طور پر نذدیکی اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن کنیزہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھی۔ کمسن کنیزہ کی ہلاکت پر عوامی حلقوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی زبردست برہمی کا اظہار کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کمسن بھائی بہن آوارہ گولیاں (سٹرے بلٹس) لگنے سے زخمی ہوئے تھے ، اگرچہ دونوں کو فوری طور پر نذدیکی اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن کنیزہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھی۔ کمسن کنیزہ کی ہلاکت پر عوامی حلقوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی زبردست برہمی کا اظہار کیا۔

  • سوشل میڈیا پر بعض کشمیری صارفین نے استفسار کیا کہ آوارہ گولیاں ہر وقت صرف عام شہریوں کے جسموں کو ہی چھلنی کیوں کررہی ہیں۔ ایک فیس بک صارف نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ’حیران ہوں کہ یہ آوارہ گولیاں ہر وقت صرف ایک عام شہری کے جسم کو ہی چھلنی کیوں کررہی ہیں۔ ہمارا ہر طرف سے نقصان ہورہا ہے‘۔

    سوشل میڈیا پر بعض کشمیری صارفین نے استفسار کیا کہ آوارہ گولیاں ہر وقت صرف عام شہریوں کے جسموں کو ہی چھلنی کیوں کررہی ہیں۔ ایک فیس بک صارف نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ’حیران ہوں کہ یہ آوارہ گولیاں ہر وقت صرف ایک عام شہری کے جسم کو ہی چھلنی کیوں کررہی ہیں۔ ہمارا ہر طرف سے نقصان ہورہا ہے‘۔

  • ایک نوجوان صحافی نے لکھا کہ کپواڑہ تصادم میں آج لشکر طیبہ کے تین جنگجوؤں کے علاوہ ایک 7 سالہ دہشت گرد کو بھی ہلاک کیا گیا۔ نثار احمد نامی ایک ریسرچ اسکالر نے لکھا کہ ایک سات سالہ دہشت گرد کو کل تی فوج نے گھر میں، ماں کی گود میں مار ڈالا۔

    ایک نوجوان صحافی نے لکھا کہ کپواڑہ تصادم میں آج لشکر طیبہ کے تین جنگجوؤں کے علاوہ ایک 7 سالہ دہشت گرد کو بھی ہلاک کیا گیا۔ نثار احمد نامی ایک ریسرچ اسکالر نے لکھا کہ ایک سات سالہ دہشت گرد کو کل تی فوج نے گھر میں، ماں کی گود میں مار ڈالا۔

  • ادھر جموں وکشمیر پولیس نے جمعرات کو کئی ایک فوٹو جرنلسٹوں کو اُس وقت زدوکوب کیا جب وہ اپنی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں دارالحکومت سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی مشترکہ مجوزہ پریس کانفرنس کور کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔

    ادھر جموں وکشمیر پولیس نے جمعرات کو کئی ایک فوٹو جرنلسٹوں کو اُس وقت زدوکوب کیا جب وہ اپنی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں دارالحکومت سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی مشترکہ مجوزہ پریس کانفرنس کور کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔

  • تاہم یہ پہلا موقعہ نہیں کہ جب وادی میں میڈیا اہلکاروں کو ریاستی پولیس کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔ 2016 ء کی ایجی ٹیشن کے دوران یو این آئی کے فوٹو جرنلسٹ سمیت درجنوں دیگر میڈیا اہلکاروں کو سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا شکار ہونا پڑا تھا۔

    تاہم یہ پہلا موقعہ نہیں کہ جب وادی میں میڈیا اہلکاروں کو ریاستی پولیس کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔ 2016 ء کی ایجی ٹیشن کے دوران یو این آئی کے فوٹو جرنلسٹ سمیت درجنوں دیگر میڈیا اہلکاروں کو سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا شکار ہونا پڑا تھا۔

  • مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جمعرات کو مقامی ، قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ درجنوں فوٹو جرنلسٹ اور رپورٹرس علیحدگی پسند قیادت کی پریس کانفرنس کور کرنے کے لئے مسٹر گیلانی کی حیدرپورہ رہائش گاہ پہنچے۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جمعرات کو مقامی ، قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ درجنوں فوٹو جرنلسٹ اور رپورٹرس علیحدگی پسند قیادت کی پریس کانفرنس کور کرنے کے لئے مسٹر گیلانی کی حیدرپورہ رہائش گاہ پہنچے۔

  • ان رپورٹوں کے مطابق فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے فوٹو جرنلسٹ توصیف مصطفی کے علاوہ مقامی انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے مبشر خان، یورپی پریس فوٹو ایجنسی کے فاروق جاوید خان، قومی نجی نیوز چینل ٹائمز نو کے عمر شیخ، انڈین ایکسریس کے شعیب مسعودی اور ڈی این اے کے عمران نثار کو پولیس اہلکاروں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان رپورٹوں کے مطابق فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے فوٹو جرنلسٹ توصیف مصطفی کے علاوہ مقامی انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے مبشر خان، یورپی پریس فوٹو ایجنسی کے فاروق جاوید خان، قومی نجی نیوز چینل ٹائمز نو کے عمر شیخ، انڈین ایکسریس کے شعیب مسعودی اور ڈی این اے کے عمران نثار کو پولیس اہلکاروں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔

  • بتایا جارہا ہے کہ اس موقعہ پر پولیس اہلکاروں نے کئی ایک نامہ نگاروں کے ساتھ بدسلوکی۔ درجنوں میڈیا اہلکاروں نے بعدازاں پریس کالونی سری نگر میں دھرنا دیا اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔

    بتایا جارہا ہے کہ اس موقعہ پر پولیس اہلکاروں نے کئی ایک نامہ نگاروں کے ساتھ بدسلوکی۔ درجنوں میڈیا اہلکاروں نے بعدازاں پریس کالونی سری نگر میں دھرنا دیا اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔

  • اس دوران کشمیر پریس فوٹو گرافرس ایسو سی ایشن (کے پی پی اے) اور کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے حیدرپورہ میں پیش آئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    اس دوران کشمیر پریس فوٹو گرافرس ایسو سی ایشن (کے پی پی اے) اور کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے حیدرپورہ میں پیش آئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

  • خیال رہے کہ کپواڑہ کے ہایہامہ میں بدھ کے روز ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ تین جنگجوؤں کے علاوہ ایک 7 سالہ کمسن بچن کنیزہ بھی جاں بحق ہوئی۔ جبکہ مذکورہ بچی کا 6 سالہ بھائی فیصل احمد بھی زخمی ہوا۔
  • پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کمسن بھائی بہن آوارہ گولیاں (سٹرے بلٹس) لگنے سے زخمی ہوئے تھے ، اگرچہ دونوں کو فوری طور پر نذدیکی اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن کنیزہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھی۔ کمسن کنیزہ کی ہلاکت پر عوامی حلقوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی زبردست برہمی کا اظہار کیا۔
  • سوشل میڈیا پر بعض کشمیری صارفین نے استفسار کیا کہ آوارہ گولیاں ہر وقت صرف عام شہریوں کے جسموں کو ہی چھلنی کیوں کررہی ہیں۔ ایک فیس بک صارف نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ’حیران ہوں کہ یہ آوارہ گولیاں ہر وقت صرف ایک عام شہری کے جسم کو ہی چھلنی کیوں کررہی ہیں۔ ہمارا ہر طرف سے نقصان ہورہا ہے‘۔
  • ایک نوجوان صحافی نے لکھا کہ کپواڑہ تصادم میں آج لشکر طیبہ کے تین جنگجوؤں کے علاوہ ایک 7 سالہ دہشت گرد کو بھی ہلاک کیا گیا۔ نثار احمد نامی ایک ریسرچ اسکالر نے لکھا کہ ایک سات سالہ دہشت گرد کو کل تی فوج نے گھر میں، ماں کی گود میں مار ڈالا۔
  • ادھر جموں وکشمیر پولیس نے جمعرات کو کئی ایک فوٹو جرنلسٹوں کو اُس وقت زدوکوب کیا جب وہ اپنی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں دارالحکومت سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی مشترکہ مجوزہ پریس کانفرنس کور کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔
  • تاہم یہ پہلا موقعہ نہیں کہ جب وادی میں میڈیا اہلکاروں کو ریاستی پولیس کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔ 2016 ء کی ایجی ٹیشن کے دوران یو این آئی کے فوٹو جرنلسٹ سمیت درجنوں دیگر میڈیا اہلکاروں کو سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا شکار ہونا پڑا تھا۔
  • مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جمعرات کو مقامی ، قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ درجنوں فوٹو جرنلسٹ اور رپورٹرس علیحدگی پسند قیادت کی پریس کانفرنس کور کرنے کے لئے مسٹر گیلانی کی حیدرپورہ رہائش گاہ پہنچے۔
  • ان رپورٹوں کے مطابق فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے فوٹو جرنلسٹ توصیف مصطفی کے علاوہ مقامی انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے مبشر خان، یورپی پریس فوٹو ایجنسی کے فاروق جاوید خان، قومی نجی نیوز چینل ٹائمز نو کے عمر شیخ، انڈین ایکسریس کے شعیب مسعودی اور ڈی این اے کے عمران نثار کو پولیس اہلکاروں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔
  • بتایا جارہا ہے کہ اس موقعہ پر پولیس اہلکاروں نے کئی ایک نامہ نگاروں کے ساتھ بدسلوکی۔ درجنوں میڈیا اہلکاروں نے بعدازاں پریس کالونی سری نگر میں دھرنا دیا اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔
  • اس دوران کشمیر پریس فوٹو گرافرس ایسو سی ایشن (کے پی پی اے) اور کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے حیدرپورہ میں پیش آئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

تازہ ترین تصاویر