بڈگام ہلاکتوں کے خلاف کشمیر میں ہڑتال، ریل سروس معطل، یونیورسٹی امتحانات ملتوی

Mar 29, 2017 03:01 PM IST
1 of 7
  • وادئ کشمیر میں بدھ کے روز علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ہڑتال کی کال وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے دربگ چاڈورہ میں منگل کو ہونے والی 3 شہری ہلاکتوں کے خلاف دی تھی۔  خیال رہے کہ ضلع بڈگام کے دربگ چاڈورہ میں منگل کو ہونے والے ایک مسلح تصادم اور تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں 3 عام شہری اور ایک مقامی جنگجو ہلاک جبکہ درجنوں افراد بشمول سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے۔

    وادئ کشمیر میں بدھ کے روز علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ہڑتال کی کال وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے دربگ چاڈورہ میں منگل کو ہونے والی 3 شہری ہلاکتوں کے خلاف دی تھی۔ خیال رہے کہ ضلع بڈگام کے دربگ چاڈورہ میں منگل کو ہونے والے ایک مسلح تصادم اور تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں 3 عام شہری اور ایک مقامی جنگجو ہلاک جبکہ درجنوں افراد بشمول سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے۔

  • احتجاجی مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں زاہد رشید گنائی، عامر فیاض اور اشفاق احمد نامی تین نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔ ان تینوں کی عمر 20 سے 30 سال کے درمیان تھی۔ ہلاک ہونے والے شہریوں میں پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی بھی شامل تھا۔ تینوں نوجوان بدن کے مختلف اعضاء پر گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔  دربگ چاڈورہ میں دس گھنٹوں تک جاری رہنے والی مسلح جھڑپ ایک مقامی جنگجو توصیف احمد واگے ساکنہ کولگام کی ہلاکت پر ختم ہوگئی تھی جبکہ جس رہائشی مکان میں جنگجو محصور تھا، کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا تھا۔ علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر وادی میں ریل سروس کو معطل جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    احتجاجی مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں زاہد رشید گنائی، عامر فیاض اور اشفاق احمد نامی تین نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔ ان تینوں کی عمر 20 سے 30 سال کے درمیان تھی۔ ہلاک ہونے والے شہریوں میں پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی بھی شامل تھا۔ تینوں نوجوان بدن کے مختلف اعضاء پر گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔ دربگ چاڈورہ میں دس گھنٹوں تک جاری رہنے والی مسلح جھڑپ ایک مقامی جنگجو توصیف احمد واگے ساکنہ کولگام کی ہلاکت پر ختم ہوگئی تھی جبکہ جس رہائشی مکان میں جنگجو محصور تھا، کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا تھا۔ علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر وادی میں ریل سروس کو معطل جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔

  • ایک پولیس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ اگرچہ وادی کے کسی بھی حصے میں پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہڑتال کی کال پر وادی بھر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم کچھ ایک سڑکوں پر اکا دکا نجی و چھوٹی مسافر گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ سرکاری دفاتر، بینکوں اور مالیاتی اداروں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ وسطی کشمیر کے چاڈورہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق پورے قصبے میں بدھ کو مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہیں۔

    ایک پولیس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ اگرچہ وادی کے کسی بھی حصے میں پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہڑتال کی کال پر وادی بھر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم کچھ ایک سڑکوں پر اکا دکا نجی و چھوٹی مسافر گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ سرکاری دفاتر، بینکوں اور مالیاتی اداروں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ وسطی کشمیر کے چاڈورہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق پورے قصبے میں بدھ کو مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہیں۔

  • رپورٹ کے مطابق چاڈورہ کے علاوہ بڈگام، چرار شریف، بیروہ اور خانصاحب قصبوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ سیکورٹی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ ضلع بڈگام بالخصوص چاڈورہ میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ ادھر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز بشمول جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ علاقہ میں تجارتی اور دیگر سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی۔

    رپورٹ کے مطابق چاڈورہ کے علاوہ بڈگام، چرار شریف، بیروہ اور خانصاحب قصبوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ سیکورٹی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ ضلع بڈگام بالخصوص چاڈورہ میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ ادھر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز بشمول جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ علاقہ میں تجارتی اور دیگر سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی۔

  • تاریخی لال چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، مولانا آزاد روڑ، بتہ مالو، اقبال پارک، ڈلگیٹ، ریگل چوک اور بڈشاہ چوک میں بھی تمام دکانیں بند رہیں۔ ایسی ہی صورتحال بالائی شہر کے علاقوں میں بھی نظر آئی۔ دوسری جانب جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع میں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ بارہمولہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبہ جات اور تحصیل ہیدکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ تعلیمی ادارے بند رہے۔

    تاریخی لال چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، مولانا آزاد روڑ، بتہ مالو، اقبال پارک، ڈلگیٹ، ریگل چوک اور بڈشاہ چوک میں بھی تمام دکانیں بند رہیں۔ ایسی ہی صورتحال بالائی شہر کے علاقوں میں بھی نظر آئی۔ دوسری جانب جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع میں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ بارہمولہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبہ جات اور تحصیل ہیدکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ تعلیمی ادارے بند رہے۔

  • شمالی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر وادی میں ریل سروس کو معطل جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    شمالی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر وادی میں ریل سروس کو معطل جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔

  • ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے سیکورٹی وجوہات کی بناء پر وادی میں چلنے والی تمام ٹرینیں ملتوی کردی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان آج کوئی ٹرین نہیں چلے گی، اسی طرح بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ اننت ناگ و قاضی گنڈ آج کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ ریاستی پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایڈوائزری ملنے کے بعد لیا گیا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ ریلوے کو ماضی میں ہڑتالوں کے دوران بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ وادی میں گذشتہ برس ایجی ٹیشن کے دوران ریل سروس قریب پانچ ماہ تک معطل رہی تھی۔ دریں اثنا یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔ یہ تمام تصویریں یو این آئی کی ہیں۔

    ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے سیکورٹی وجوہات کی بناء پر وادی میں چلنے والی تمام ٹرینیں ملتوی کردی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان آج کوئی ٹرین نہیں چلے گی، اسی طرح بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ اننت ناگ و قاضی گنڈ آج کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ ریاستی پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایڈوائزری ملنے کے بعد لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے کو ماضی میں ہڑتالوں کے دوران بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ وادی میں گذشتہ برس ایجی ٹیشن کے دوران ریل سروس قریب پانچ ماہ تک معطل رہی تھی۔ دریں اثنا یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔ یہ تمام تصویریں یو این آئی کی ہیں۔

  • احتجاجی مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں زاہد رشید گنائی، عامر فیاض اور اشفاق احمد نامی تین نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔ ان تینوں کی عمر 20 سے 30 سال کے درمیان تھی۔ ہلاک ہونے والے شہریوں میں پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی بھی شامل تھا۔ تینوں نوجوان بدن کے مختلف اعضاء پر گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔  دربگ چاڈورہ میں دس گھنٹوں تک جاری رہنے والی مسلح جھڑپ ایک مقامی جنگجو توصیف احمد واگے ساکنہ کولگام کی ہلاکت پر ختم ہوگئی تھی جبکہ جس رہائشی مکان میں جنگجو محصور تھا، کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا تھا۔ علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر وادی میں ریل سروس کو معطل جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔
  • ایک پولیس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ اگرچہ وادی کے کسی بھی حصے میں پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہڑتال کی کال پر وادی بھر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم کچھ ایک سڑکوں پر اکا دکا نجی و چھوٹی مسافر گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ سرکاری دفاتر، بینکوں اور مالیاتی اداروں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ وسطی کشمیر کے چاڈورہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق پورے قصبے میں بدھ کو مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہیں۔
  • رپورٹ کے مطابق چاڈورہ کے علاوہ بڈگام، چرار شریف، بیروہ اور خانصاحب قصبوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ سیکورٹی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ ضلع بڈگام بالخصوص چاڈورہ میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ ادھر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز بشمول جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ علاقہ میں تجارتی اور دیگر سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی۔
  • تاریخی لال چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، مولانا آزاد روڑ، بتہ مالو، اقبال پارک، ڈلگیٹ، ریگل چوک اور بڈشاہ چوک میں بھی تمام دکانیں بند رہیں۔ ایسی ہی صورتحال بالائی شہر کے علاقوں میں بھی نظر آئی۔ دوسری جانب جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع میں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ بارہمولہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبہ جات اور تحصیل ہیدکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ تعلیمی ادارے بند رہے۔
  • شمالی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر وادی میں ریل سروس کو معطل جبکہ یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔
  • ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے سیکورٹی وجوہات کی بناء پر وادی میں چلنے والی تمام ٹرینیں ملتوی کردی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان آج کوئی ٹرین نہیں چلے گی، اسی طرح بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ اننت ناگ و قاضی گنڈ آج کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ ریاستی پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایڈوائزری ملنے کے بعد لیا گیا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ ریلوے کو ماضی میں ہڑتالوں کے دوران بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ وادی میں گذشتہ برس ایجی ٹیشن کے دوران ریل سروس قریب پانچ ماہ تک معطل رہی تھی۔ دریں اثنا یونیورسٹیوں کی جانب سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔ یہ تمام تصویریں یو این آئی کی ہیں۔

تازہ ترین تصاویر