حیدرآباد کی سالانہ کل ہند صنعتی نمائش زور وشور سے جاری، دیکھیں تصویریں

Jan 17, 2017 07:02 PM IST
1 of 10
  • حیدرآباد کی سالانہ کل ہند صنعتی نمائش  زور وشور سے جاری ہے ۔ ہر سال یکم جنوری سے پندرہ  فروری تک جاری رہنے  والی اس نمائش میں  کشمیری تاجر اپنے اسٹالس کے ذریعہ اپنی مخصوص  مصنوعات اور اشیاء کی نمائش اور اس کی فروخت کرتے ہیں۔  حیدر آباد کے آخری نظام میر عثمان علی خان نے مقامی کاریگروں کی حوصلہ افزائی کے لئے سنہ انیس سو اڑتیس میں نمائش مصنوعات کی بنیاد ڈالی تھی۔ دیکھیں تصویریں۔

    حیدرآباد کی سالانہ کل ہند صنعتی نمائش زور وشور سے جاری ہے ۔ ہر سال یکم جنوری سے پندرہ فروری تک جاری رہنے والی اس نمائش میں کشمیری تاجر اپنے اسٹالس کے ذریعہ اپنی مخصوص مصنوعات اور اشیاء کی نمائش اور اس کی فروخت کرتے ہیں۔ حیدر آباد کے آخری نظام میر عثمان علی خان نے مقامی کاریگروں کی حوصلہ افزائی کے لئے سنہ انیس سو اڑتیس میں نمائش مصنوعات کی بنیاد ڈالی تھی۔ دیکھیں تصویریں۔

  •  آزادی کے بعد اس نمائش کو کل ہند صنعتی نمائش میں تبدیل کر دیا گیا۔

    آزادی کے بعد اس نمائش کو کل ہند صنعتی نمائش میں تبدیل کر دیا گیا۔

  •  گزشتہ ستہتر سالوں سے  حیدرآبادیوں کے لئے یہ نمائش نہ صرف خرید و فروخت بلکہ تفریح کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے ۔

    گزشتہ ستہتر سالوں سے حیدرآبادیوں کے لئے یہ نمائش نہ صرف خرید و فروخت بلکہ تفریح کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے ۔

  • نمائش میں آنے والوں کی تعداد  اوسطا پچیس لاکھ ہوتی ہے۔

    نمائش میں آنے والوں کی تعداد اوسطا پچیس لاکھ ہوتی ہے۔

  •  اس سال نمائش میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے  تاجروں  کی ڈھائی ہزار دکانیں لگائی گئی  ہیں جس میں  تین سو دکانیں کشمیریوں کی ہیں ۔

    اس سال نمائش میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے تاجروں کی ڈھائی ہزار دکانیں لگائی گئی ہیں جس میں تین سو دکانیں کشمیریوں کی ہیں ۔

  • کشمیری تاجروں کا حیدرآباد کی صنعتی نمائش میں حصہ لینے کا سلسلہ ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوا تھا۔

    کشمیری تاجروں کا حیدرآباد کی صنعتی نمائش میں حصہ لینے کا سلسلہ ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوا تھا۔

  • یہ کشمیری تاجر گزشتہ پچپن سالوں سے خشک میوے، قالین، فرنیچر،زیور، ملبوسات اورچپل لے کر آتے ہیں۔

    یہ کشمیری تاجر گزشتہ پچپن سالوں سے خشک میوے، قالین، فرنیچر،زیور، ملبوسات اورچپل لے کر آتے ہیں۔

  •  ہر سال مسلسل آمد سے یہ تاجر یہاں کے ماحول اور زبان سے اس قدر مانوس ہو چکے ہیں کہ ان میں سے کئی  تاجر تلگو زبان میں بھی گفتگو کر نے لگے ہیں ۔

    ہر سال مسلسل آمد سے یہ تاجر یہاں کے ماحول اور زبان سے اس قدر مانوس ہو چکے ہیں کہ ان میں سے کئی تاجر تلگو زبان میں بھی گفتگو کر نے لگے ہیں ۔

  •  حیدرآباد کی کل ہند صنعتی  نمائش میں کشمیری اسٹالس کو کافی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔

    حیدرآباد کی کل ہند صنعتی نمائش میں کشمیری اسٹالس کو کافی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔

  •  کشمیری تاجروں کو امید ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی وہ بڑی مقدار میں اپنی اشیاء اور مصنوعات کو یہاں فروخت کر پائیں گے۔

    کشمیری تاجروں کو امید ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی وہ بڑی مقدار میں اپنی اشیاء اور مصنوعات کو یہاں فروخت کر پائیں گے۔

  •  آزادی کے بعد اس نمائش کو کل ہند صنعتی نمائش میں تبدیل کر دیا گیا۔
  •  گزشتہ ستہتر سالوں سے  حیدرآبادیوں کے لئے یہ نمائش نہ صرف خرید و فروخت بلکہ تفریح کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے ۔
  • نمائش میں آنے والوں کی تعداد  اوسطا پچیس لاکھ ہوتی ہے۔
  •  اس سال نمائش میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے  تاجروں  کی ڈھائی ہزار دکانیں لگائی گئی  ہیں جس میں  تین سو دکانیں کشمیریوں کی ہیں ۔
  • کشمیری تاجروں کا حیدرآباد کی صنعتی نمائش میں حصہ لینے کا سلسلہ ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوا تھا۔
  • یہ کشمیری تاجر گزشتہ پچپن سالوں سے خشک میوے، قالین، فرنیچر،زیور، ملبوسات اورچپل لے کر آتے ہیں۔
  •  ہر سال مسلسل آمد سے یہ تاجر یہاں کے ماحول اور زبان سے اس قدر مانوس ہو چکے ہیں کہ ان میں سے کئی  تاجر تلگو زبان میں بھی گفتگو کر نے لگے ہیں ۔
  •  حیدرآباد کی کل ہند صنعتی  نمائش میں کشمیری اسٹالس کو کافی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔
  •  کشمیری تاجروں کو امید ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی وہ بڑی مقدار میں اپنی اشیاء اور مصنوعات کو یہاں فروخت کر پائیں گے۔

تازہ ترین تصاویر