جب دکھی آشا پاریکھ کرنا چاہتی تھیں خودکشی!۔

Apr 12, 2017 03:01 PM IST
1 of 8
  • ساٹھ کی دہائی کی مشہور اداکارہ آشا پاریکھ نے ممبئی میں اپنی سوانح عمری 'دی ہٹ گرل' کا اجرا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی زندگی سے منسلک کئی اہم راز کھولے۔ آشا نے فلمیں چھوڑنے کے بارے میں بھی بتایا۔ امیتابھ بچن کو خوش قسمت کہا کہ انہیں فلموں میں دوبارہ موقع ملا۔

    ساٹھ کی دہائی کی مشہور اداکارہ آشا پاریکھ نے ممبئی میں اپنی سوانح عمری 'دی ہٹ گرل' کا اجرا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی زندگی سے منسلک کئی اہم راز کھولے۔ آشا نے فلمیں چھوڑنے کے بارے میں بھی بتایا۔ امیتابھ بچن کو خوش قسمت کہا کہ انہیں فلموں میں دوبارہ موقع ملا۔

  • آشا بتاتی ہیں کہ ایک دور ایسا بھی تھا جب انہیں ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔ '' میرے لئے وہ ایک انتہائی برا دور تھا۔ میں نے اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔ میں بالکل اکیلی تھی اور مجھے سب کچھ خود ہی سنبھالنا پڑتا تھا۔ میں بے حد دکھی تھی اور کئی بار مجھے خود کشی کے خیالات بھی آتے تھے۔ پھر میں اس سے باہر نکلی۔ وہ کافی جدوجہد بھرا ہوا تھا، مجھے ان سب سے نکلنے کے لئے ڈاکٹر کی مدد لینی پڑی۔

    آشا بتاتی ہیں کہ ایک دور ایسا بھی تھا جب انہیں ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔ '' میرے لئے وہ ایک انتہائی برا دور تھا۔ میں نے اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔ میں بالکل اکیلی تھی اور مجھے سب کچھ خود ہی سنبھالنا پڑتا تھا۔ میں بے حد دکھی تھی اور کئی بار مجھے خود کشی کے خیالات بھی آتے تھے۔ پھر میں اس سے باہر نکلی۔ وہ کافی جدوجہد بھرا ہوا تھا، مجھے ان سب سے نکلنے کے لئے ڈاکٹر کی مدد لینی پڑی۔

  • آشا کہتی ہیں کہ اداکاری کی دنیا میں دوسرا موقع ملنا نایاب ہے اور ایسا موقع صرف امیتابھ بچن کو ہی ملا۔ انہوں نے کہا، 'میرے پاس کام کم ہو گیا، لوگوں نے مجھ سے ماں کے کردار کے لئے رابطہ کیا۔ میں نے کچھ کردار کئے لیکن میں وہ کرکے خوش نہیں تھی۔ میں اس کو لے کر پراعتماد نہیں تھی کہ جو میں کر رہی ہوں وہ صحیح ہے۔

    آشا کہتی ہیں کہ اداکاری کی دنیا میں دوسرا موقع ملنا نایاب ہے اور ایسا موقع صرف امیتابھ بچن کو ہی ملا۔ انہوں نے کہا، 'میرے پاس کام کم ہو گیا، لوگوں نے مجھ سے ماں کے کردار کے لئے رابطہ کیا۔ میں نے کچھ کردار کئے لیکن میں وہ کرکے خوش نہیں تھی۔ میں اس کو لے کر پراعتماد نہیں تھی کہ جو میں کر رہی ہوں وہ صحیح ہے۔

  • آشا نے بتایا، '' مجھے یاد ہے کہ ایک فلم تھی جس میں میں نے مظلوم محسوس کیا کیونکہ ہیرو صبح ساڑھے نو بجے کی شفٹ کے لئے شام کے ساڑھے چھ بجے آتا تھا۔ اس میں میرے لئے کام کرنا مشکل تھا۔

    آشا نے بتایا، '' مجھے یاد ہے کہ ایک فلم تھی جس میں میں نے مظلوم محسوس کیا کیونکہ ہیرو صبح ساڑھے نو بجے کی شفٹ کے لئے شام کے ساڑھے چھ بجے آتا تھا۔ اس میں میرے لئے کام کرنا مشکل تھا۔

  • اداکارہ نے کہا کہ 'ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا میں ان سب میں خود کو فٹ بٹھا سکوں۔ میں شاٹ دینے کے لئے صبح سے شام تک انتظار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب کام نہیں کرنا چاہتی۔

    اداکارہ نے کہا کہ 'ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا میں ان سب میں خود کو فٹ بٹھا سکوں۔ میں شاٹ دینے کے لئے صبح سے شام تک انتظار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب کام نہیں کرنا چاہتی۔

  • اپنے فلمی کیریئر پر بریک لگنے کے سوال پر انہوں نے کہا، '' یہ کوئی مشکل فیصلہ نہیں تھا۔ آپ کو زندگی میں کچھ حالات قبول کرنے ہوتے ہیں۔ میری عمر ہو رہی تھی اور میں نے اسے قبول کر لیا۔ مسٹر بچن کو دوسرا موقع ملا۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ خدا نے انہیں آشیرواد دیا۔

    اپنے فلمی کیریئر پر بریک لگنے کے سوال پر انہوں نے کہا، '' یہ کوئی مشکل فیصلہ نہیں تھا۔ آپ کو زندگی میں کچھ حالات قبول کرنے ہوتے ہیں۔ میری عمر ہو رہی تھی اور میں نے اسے قبول کر لیا۔ مسٹر بچن کو دوسرا موقع ملا۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ خدا نے انہیں آشیرواد دیا۔

  • چوہتر سالہ اس اداکارہ نے کہا کہ '' گڑكری کا بیان ٹھیک نہیں تھا۔ مجھے اس سے چوٹ پہنچی ہے۔ جو انہوں نے کیا وہ درست نہیں تھا۔ لیکن میں نے اسے ایک چٹکی نمک کے ساتھ نگل لیا۔ میرے لئے یہ معنی نہیں ركھتا۔ تنازع فلم انڈسٹری کا ایک حصہ ہے۔

    چوہتر سالہ اس اداکارہ نے کہا کہ '' گڑكری کا بیان ٹھیک نہیں تھا۔ مجھے اس سے چوٹ پہنچی ہے۔ جو انہوں نے کیا وہ درست نہیں تھا۔ لیکن میں نے اسے ایک چٹکی نمک کے ساتھ نگل لیا۔ میرے لئے یہ معنی نہیں ركھتا۔ تنازع فلم انڈسٹری کا ایک حصہ ہے۔

  • آشا پاریکھ کو 1992 میں پدم شری اور 2014 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

    آشا پاریکھ کو 1992 میں پدم شری اور 2014 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

  • آشا بتاتی ہیں کہ ایک دور ایسا بھی تھا جب انہیں ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔ '' میرے لئے وہ ایک انتہائی برا دور تھا۔ میں نے اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔ میں بالکل اکیلی تھی اور مجھے سب کچھ خود ہی سنبھالنا پڑتا تھا۔ میں بے حد دکھی تھی اور کئی بار مجھے خود کشی کے خیالات بھی آتے تھے۔ پھر میں اس سے باہر نکلی۔ وہ کافی جدوجہد بھرا ہوا تھا، مجھے ان سب سے نکلنے کے لئے ڈاکٹر کی مدد لینی پڑی۔
  • آشا کہتی ہیں کہ اداکاری کی دنیا میں دوسرا موقع ملنا نایاب ہے اور ایسا موقع صرف امیتابھ بچن کو ہی ملا۔ انہوں نے کہا، 'میرے پاس کام کم ہو گیا، لوگوں نے مجھ سے ماں کے کردار کے لئے رابطہ کیا۔ میں نے کچھ کردار کئے لیکن میں وہ کرکے خوش نہیں تھی۔ میں اس کو لے کر پراعتماد نہیں تھی کہ جو میں کر رہی ہوں وہ صحیح ہے۔
  • آشا نے بتایا، '' مجھے یاد ہے کہ ایک فلم تھی جس میں میں نے مظلوم محسوس کیا کیونکہ ہیرو صبح ساڑھے نو بجے کی شفٹ کے لئے شام کے ساڑھے چھ بجے آتا تھا۔ اس میں میرے لئے کام کرنا مشکل تھا۔
  • اداکارہ نے کہا کہ 'ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا میں ان سب میں خود کو فٹ بٹھا سکوں۔ میں شاٹ دینے کے لئے صبح سے شام تک انتظار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب کام نہیں کرنا چاہتی۔
  • اپنے فلمی کیریئر پر بریک لگنے کے سوال پر انہوں نے کہا، '' یہ کوئی مشکل فیصلہ نہیں تھا۔ آپ کو زندگی میں کچھ حالات قبول کرنے ہوتے ہیں۔ میری عمر ہو رہی تھی اور میں نے اسے قبول کر لیا۔ مسٹر بچن کو دوسرا موقع ملا۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ خدا نے انہیں آشیرواد دیا۔
  • چوہتر سالہ اس اداکارہ نے کہا کہ '' گڑكری کا بیان ٹھیک نہیں تھا۔ مجھے اس سے چوٹ پہنچی ہے۔ جو انہوں نے کیا وہ درست نہیں تھا۔ لیکن میں نے اسے ایک چٹکی نمک کے ساتھ نگل لیا۔ میرے لئے یہ معنی نہیں ركھتا۔ تنازع فلم انڈسٹری کا ایک حصہ ہے۔
  • آشا پاریکھ کو 1992 میں پدم شری اور 2014 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

تازہ ترین تصاویر