اورنگ آباد کا نام بدل کر سمبھاجی نگر کرنے کی کوششیں تیز، مخالفت میں اٹھیں آوازیں

Jan 12, 2017 01:15 PM IST
1 of 9
  • اورنگ آباد شہر کا نام  بدل کر اسے سمبھاجی نگر کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں ۔ ایک مراٹھی اخبار کی اس خبر سے شہر کا سیاسی پارہ چڑھ گیا ہے اور بیان بازیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔  لیکن ان سب کے بیچ شہر کا دانشور طبقہ اسے شیوسینا۔ بی جے پی کی سیاست سے تعبیر کررہا ہے ۔ سیاسی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہر محاذ پر ناکام شیوسینا۔ بی جےپی حکومت  اتنا بڑا سیاسی خطرہ مول لے گی ، اس بات  کے امکانات کم ہی ہیں۔ مستقبل میں کیا ہوگا، یہ کہنا مشکل ہے لیکن تین دہائیوں بعد ایک ایسے مسئلہ کو ایک بار پھر اچھالا جارہا ہے جسے عوام تقریباً فراموش کرچکے تھے۔

    اورنگ آباد شہر کا نام بدل کر اسے سمبھاجی نگر کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں ۔ ایک مراٹھی اخبار کی اس خبر سے شہر کا سیاسی پارہ چڑھ گیا ہے اور بیان بازیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ لیکن ان سب کے بیچ شہر کا دانشور طبقہ اسے شیوسینا۔ بی جے پی کی سیاست سے تعبیر کررہا ہے ۔ سیاسی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہر محاذ پر ناکام شیوسینا۔ بی جےپی حکومت اتنا بڑا سیاسی خطرہ مول لے گی ، اس بات کے امکانات کم ہی ہیں۔ مستقبل میں کیا ہوگا، یہ کہنا مشکل ہے لیکن تین دہائیوں بعد ایک ایسے مسئلہ کو ایک بار پھر اچھالا جارہا ہے جسے عوام تقریباً فراموش کرچکے تھے۔

  • اورنگ آباد سے حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مراٹھی اخبار نے اورنگ آباد کے رابطہ وزیر رام داس کدم کے حوالے سے خبر شائع کی ہیکہ اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔  ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری بھگوان سہائے کا کہنا ہے کہ  اس سلسلے میں  ریاست کے  محکمہ محصول سے رپورٹ طلب کی گئی ہے ، رپورٹ کی روشنی میں نام بدلا جائیگا ۔

    اورنگ آباد سے حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مراٹھی اخبار نے اورنگ آباد کے رابطہ وزیر رام داس کدم کے حوالے سے خبر شائع کی ہیکہ اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔ ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری بھگوان سہائے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ریاست کے محکمہ محصول سے رپورٹ طلب کی گئی ہے ، رپورٹ کی روشنی میں نام بدلا جائیگا ۔

  • شعبہ جرنلزم ،ڈاکٹر بابا صاب امبیڈکر یونیورسٹی، اورنگ آباد کے پروفیسر پروفیسر جے  دیو ڈولے نے اس پر کہا کہ بی جے پی شیوسینا پچھلے پچیس برسوں سے اورنگ آباد کا نام بدلنے کی کوشش میں لگی ہیں ۔ اس کوشش کے پیچھے تفرقہ پیدا کرنے کی سازش’’ معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمانوں میں دوریاں پیدا کرنے کی  یہ کوشش ہے ۔ نام بدل جانے سے شہر بہتر ہو جائیگا ایسا نہیں ہے۔

    شعبہ جرنلزم ،ڈاکٹر بابا صاب امبیڈکر یونیورسٹی، اورنگ آباد کے پروفیسر پروفیسر جے دیو ڈولے نے اس پر کہا کہ بی جے پی شیوسینا پچھلے پچیس برسوں سے اورنگ آباد کا نام بدلنے کی کوشش میں لگی ہیں ۔ اس کوشش کے پیچھے تفرقہ پیدا کرنے کی سازش’’ معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمانوں میں دوریاں پیدا کرنے کی یہ کوشش ہے ۔ نام بدل جانے سے شہر بہتر ہو جائیگا ایسا نہیں ہے۔

  • انہوں نے سوال کیا کہ ملک میں کئی شہروں کے نام بدلے گئے لیکن کیا ان سے لوگوں کے معیارزندگی میں کوئی تبدیلی آئی ؟  شہر کا نقشہ بدلا کیا ؟ تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس طرح سے تاریخ بنائی جاسکتی ہے‘‘ ۔

    انہوں نے سوال کیا کہ ملک میں کئی شہروں کے نام بدلے گئے لیکن کیا ان سے لوگوں کے معیارزندگی میں کوئی تبدیلی آئی ؟ شہر کا نقشہ بدلا کیا ؟ تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس طرح سے تاریخ بنائی جاسکتی ہے‘‘ ۔

  •  انہوں نے کہا کہ تاریخ کو کھلے ذہن سے دیکھنا ضروری ہے۔ حکمراں ہندو تھا یا مسلمان، یہ نہیں دیکھا جاتا۔ حکمراں کا کوئی ذات یا مذہب نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ تاریخ کو کھلے ذہن سے دیکھنا ضروری ہے۔ حکمراں ہندو تھا یا مسلمان، یہ نہیں دیکھا جاتا۔ حکمراں کا کوئی ذات یا مذہب نہیں ہوتا۔

  • انہوں نے کہا کہ اورنگ زیب نے اپنی زندگی میں ٹوپیاں سی کر اور ہاتھ سے قرآن کریم  کے نسخے لکھ کر سادہ زندگی کی عملی مثال پیش کی اور اپنی قبر کو بھی سادہ بنانے کی وصیت کی۔

    انہوں نے کہا کہ اورنگ زیب نے اپنی زندگی میں ٹوپیاں سی کر اور ہاتھ سے قرآن کریم کے نسخے لکھ کر سادہ زندگی کی عملی مثال پیش کی اور اپنی قبر کو بھی سادہ بنانے کی وصیت کی۔

  • انہوں نے کہا کہ جب کسی حکمراں کا موازنہ کیا جاتا ہے تو خوبیاں اور خامیاں دونوں سامنے آتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ  نہیں ہے کہ سمبھاجی مہاراج  کا موازنہ اورنگ زیب سے کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ جب کسی حکمراں کا موازنہ کیا جاتا ہے تو خوبیاں اور خامیاں دونوں سامنے آتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سمبھاجی مہاراج کا موازنہ اورنگ زیب سے کیا جائے۔

  •   وہیں نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اب بی جے پی اور شیوسینا کی فرقہ پرستی کی سیاست کو کوئی طبقہ قبول نہیں کریگا ۔  ان کا کہنا ہے کہ اب لوگ بیدار ہوچکے ہیں اور وہ ترقی چاہتے ہیں ۔

    وہیں نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اب بی جے پی اور شیوسینا کی فرقہ پرستی کی سیاست کو کوئی طبقہ قبول نہیں کریگا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اب لوگ بیدار ہوچکے ہیں اور وہ ترقی چاہتے ہیں ۔

  • وہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکمراں طبقے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اورحکمرانوں کو مذہبی خانو ں میں قید کرنا کوتاہ ذہنی کی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششوں کی مخالفت ضروری ہے ۔

    وہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکمراں طبقے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اورحکمرانوں کو مذہبی خانو ں میں قید کرنا کوتاہ ذہنی کی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششوں کی مخالفت ضروری ہے ۔

  • اورنگ آباد سے حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مراٹھی اخبار نے اورنگ آباد کے رابطہ وزیر رام داس کدم کے حوالے سے خبر شائع کی ہیکہ اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔  ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری بھگوان سہائے کا کہنا ہے کہ  اس سلسلے میں  ریاست کے  محکمہ محصول سے رپورٹ طلب کی گئی ہے ، رپورٹ کی روشنی میں نام بدلا جائیگا ۔
  • شعبہ جرنلزم ،ڈاکٹر بابا صاب امبیڈکر یونیورسٹی، اورنگ آباد کے پروفیسر پروفیسر جے  دیو ڈولے نے اس پر کہا کہ بی جے پی شیوسینا پچھلے پچیس برسوں سے اورنگ آباد کا نام بدلنے کی کوشش میں لگی ہیں ۔ اس کوشش کے پیچھے تفرقہ پیدا کرنے کی سازش’’ معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمانوں میں دوریاں پیدا کرنے کی  یہ کوشش ہے ۔ نام بدل جانے سے شہر بہتر ہو جائیگا ایسا نہیں ہے۔
  • انہوں نے سوال کیا کہ ملک میں کئی شہروں کے نام بدلے گئے لیکن کیا ان سے لوگوں کے معیارزندگی میں کوئی تبدیلی آئی ؟  شہر کا نقشہ بدلا کیا ؟ تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس طرح سے تاریخ بنائی جاسکتی ہے‘‘ ۔
  •  انہوں نے کہا کہ تاریخ کو کھلے ذہن سے دیکھنا ضروری ہے۔ حکمراں ہندو تھا یا مسلمان، یہ نہیں دیکھا جاتا۔ حکمراں کا کوئی ذات یا مذہب نہیں ہوتا۔
  • انہوں نے کہا کہ اورنگ زیب نے اپنی زندگی میں ٹوپیاں سی کر اور ہاتھ سے قرآن کریم  کے نسخے لکھ کر سادہ زندگی کی عملی مثال پیش کی اور اپنی قبر کو بھی سادہ بنانے کی وصیت کی۔
  • انہوں نے کہا کہ جب کسی حکمراں کا موازنہ کیا جاتا ہے تو خوبیاں اور خامیاں دونوں سامنے آتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ  نہیں ہے کہ سمبھاجی مہاراج  کا موازنہ اورنگ زیب سے کیا جائے۔
  •   وہیں نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اب بی جے پی اور شیوسینا کی فرقہ پرستی کی سیاست کو کوئی طبقہ قبول نہیں کریگا ۔  ان کا کہنا ہے کہ اب لوگ بیدار ہوچکے ہیں اور وہ ترقی چاہتے ہیں ۔
  • وہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکمراں طبقے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اورحکمرانوں کو مذہبی خانو ں میں قید کرنا کوتاہ ذہنی کی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششوں کی مخالفت ضروری ہے ۔

تازہ ترین تصاویر