کشمیر میں 8 ویں محرم کے تاریخی ماتمی جلوس پر پھر پابندی ، عزاداروں کے خلاف آنسو گیس کا استعمال

Sep 29, 2017 05:09 PM IST
1 of 10
  • جموں وکشمیر حکومت کے دعوے کہ ’کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے‘ کے محض دو روز بعد کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے روز گرمائی دارالحکومت سری نگر کے آٹھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سیکورٹی پابندیاں عائد کرکے سول سکریٹریٹ سے کچھ دوری پر واقع گروبازار علاقہ سے برآمدہونے والے 8 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوس کو مسلسل 28 ویں دفعہ برآمد ہونے سے روک لیا۔

    جموں وکشمیر حکومت کے دعوے کہ ’کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے‘ کے محض دو روز بعد کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے روز گرمائی دارالحکومت سری نگر کے آٹھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سیکورٹی پابندیاں عائد کرکے سول سکریٹریٹ سے کچھ دوری پر واقع گروبازار علاقہ سے برآمدہونے والے 8 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوس کو مسلسل 28 ویں دفعہ برآمد ہونے سے روک لیا۔

  •  اگرچہ سینکڑوں عزاداروں نے سیکورٹی پابندیاں توڑتے ہوئے اس تاریخی ماتمی جلوس کو نکالنے کی کوشش کی، لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور شدید لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔  درجنوں عزاداروں کو تحویل میں بھی لیا گیا۔

    اگرچہ سینکڑوں عزاداروں نے سیکورٹی پابندیاں توڑتے ہوئے اس تاریخی ماتمی جلوس کو نکالنے کی کوشش کی، لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور شدید لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ درجنوں عزاداروں کو تحویل میں بھی لیا گیا۔

  • سیکورٹی فورسز نے ڈلگیٹ علاقہ میں جمع ہونے والے عزاداروں کے خلاف آنسو گیس کے متعدد گولے داغے اور شدید لاٹھی چارج کیا۔ بتہ مالو اور تاریخی لال چوک میں جمع ہونے والے عزاداروں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق مولانا آزاد روڑ پر بھی آنسو گیس کے کچھ گولے داغے گئے۔ سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں متعدد عزاداروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    سیکورٹی فورسز نے ڈلگیٹ علاقہ میں جمع ہونے والے عزاداروں کے خلاف آنسو گیس کے متعدد گولے داغے اور شدید لاٹھی چارج کیا۔ بتہ مالو اور تاریخی لال چوک میں جمع ہونے والے عزاداروں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق مولانا آزاد روڑ پر بھی آنسو گیس کے کچھ گولے داغے گئے۔ سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں متعدد عزاداروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

  •  واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 27 ستمبر کو ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ ’سری نگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روز نامہ میں گمراہ کن رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے‘۔

    واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 27 ستمبر کو ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ ’سری نگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روز نامہ میں گمراہ کن رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے‘۔

  •  اس بیان سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ وادی میں 27 برس کے وقفہ کے بعد 8 ویں اور 10 ویں محرم کے ماتمی جلوسوں پر کوئی قدغن عائد نہیں کی جائے گی، لیکن حکومتی دعویٰ محض ایک سراب ثابت ہوا اور سری نگر میں ایک بار پھر پابندیاں عائد کرکے 8 ویں محرم کے تاریخی ماتمی جلوس کو برآمد ہونے سے روک لیا گیا۔

    اس بیان سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ وادی میں 27 برس کے وقفہ کے بعد 8 ویں اور 10 ویں محرم کے ماتمی جلوسوں پر کوئی قدغن عائد نہیں کی جائے گی، لیکن حکومتی دعویٰ محض ایک سراب ثابت ہوا اور سری نگر میں ایک بار پھر پابندیاں عائد کرکے 8 ویں محرم کے تاریخی ماتمی جلوس کو برآمد ہونے سے روک لیا گیا۔

  •  عینی شاہدین نے بتایا کہ اگرچہ جمعہ کو درجنوں عزادار بتہ مالو اور تاریخی لال چوک میں نمودار ہوئے اور’یا حسین یاحسین، یا عباس یا عباس ‘ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ڈلگیٹ کی طرف بڑھنے لگے لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور ان میں سے کئیوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے حراست میں لے لیا۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ اگرچہ جمعہ کو درجنوں عزادار بتہ مالو اور تاریخی لال چوک میں نمودار ہوئے اور’یا حسین یاحسین، یا عباس یا عباس ‘ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ڈلگیٹ کی طرف بڑھنے لگے لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور ان میں سے کئیوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے حراست میں لے لیا۔

  • کشمیری شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ محرم جلوسوں پر عائد پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’عالمی منشور اور ہندوستانی آئین کے تحت مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں کو مذہبی معاملات بجا لانے ، مذہبی تقریبات کا انعقاد کرنے اور مذہبی جلوس نکالنے کا حق حاصل ہے مگر کشمیر میں انتظامیہ حالات کو بنیاد بناکر دو تاریخی محرم جلوسوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

    کشمیری شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ محرم جلوسوں پر عائد پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’عالمی منشور اور ہندوستانی آئین کے تحت مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں کو مذہبی معاملات بجا لانے ، مذہبی تقریبات کا انعقاد کرنے اور مذہبی جلوس نکالنے کا حق حاصل ہے مگر کشمیر میں انتظامیہ حالات کو بنیاد بناکر دو تاریخی محرم جلوسوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

  •  پولیس نے 8 ویں محرم کے ماتمی جلوس نکالنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے سری نگر کے آٹھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین سیکورٹی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔

    پولیس نے 8 ویں محرم کے ماتمی جلوس نکالنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے سری نگر کے آٹھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین سیکورٹی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔

  •  سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے شہید گنج، کرن نگر، مائسمہ، کوٹھی باغ، شیر گڈھی، بتہ مالو اور رام منشی باغ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں ۔

    سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے شہید گنج، کرن نگر، مائسمہ، کوٹھی باغ، شیر گڈھی، بتہ مالو اور رام منشی باغ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں ۔

  •  لال چوک کی طرف جانے والے کچھ اہم راستوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا جبکہ ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری لال چوک اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تعینات کردی گئی تھی۔

    لال چوک کی طرف جانے والے کچھ اہم راستوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا جبکہ ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری لال چوک اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تعینات کردی گئی تھی۔

  •  اگرچہ سینکڑوں عزاداروں نے سیکورٹی پابندیاں توڑتے ہوئے اس تاریخی ماتمی جلوس کو نکالنے کی کوشش کی، لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور شدید لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔  درجنوں عزاداروں کو تحویل میں بھی لیا گیا۔
  • سیکورٹی فورسز نے ڈلگیٹ علاقہ میں جمع ہونے والے عزاداروں کے خلاف آنسو گیس کے متعدد گولے داغے اور شدید لاٹھی چارج کیا۔ بتہ مالو اور تاریخی لال چوک میں جمع ہونے والے عزاداروں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق مولانا آزاد روڑ پر بھی آنسو گیس کے کچھ گولے داغے گئے۔ سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں متعدد عزاداروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
  •  واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 27 ستمبر کو ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ ’سری نگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روز نامہ میں گمراہ کن رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے‘۔
  •  اس بیان سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ وادی میں 27 برس کے وقفہ کے بعد 8 ویں اور 10 ویں محرم کے ماتمی جلوسوں پر کوئی قدغن عائد نہیں کی جائے گی، لیکن حکومتی دعویٰ محض ایک سراب ثابت ہوا اور سری نگر میں ایک بار پھر پابندیاں عائد کرکے 8 ویں محرم کے تاریخی ماتمی جلوس کو برآمد ہونے سے روک لیا گیا۔
  •  عینی شاہدین نے بتایا کہ اگرچہ جمعہ کو درجنوں عزادار بتہ مالو اور تاریخی لال چوک میں نمودار ہوئے اور’یا حسین یاحسین، یا عباس یا عباس ‘ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے ڈلگیٹ کی طرف بڑھنے لگے لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور ان میں سے کئیوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے حراست میں لے لیا۔
  • کشمیری شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ محرم جلوسوں پر عائد پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’عالمی منشور اور ہندوستانی آئین کے تحت مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں کو مذہبی معاملات بجا لانے ، مذہبی تقریبات کا انعقاد کرنے اور مذہبی جلوس نکالنے کا حق حاصل ہے مگر کشمیر میں انتظامیہ حالات کو بنیاد بناکر دو تاریخی محرم جلوسوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔
  •  پولیس نے 8 ویں محرم کے ماتمی جلوس نکالنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے سری نگر کے آٹھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین سیکورٹی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔
  •  سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے شہید گنج، کرن نگر، مائسمہ، کوٹھی باغ، شیر گڈھی، بتہ مالو اور رام منشی باغ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں ۔
  •  لال چوک کی طرف جانے والے کچھ اہم راستوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا جبکہ ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری لال چوک اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تعینات کردی گئی تھی۔

تازہ ترین تصاویر