آسمان کے نیچے گزاری راتیں، کھانے تک کو نہیں تھے پیسے، ایسی ہے جاوید اختر کی کہانی

Jan 17, 2017 01:20 PM IST
1 of 8
  • تقریبا تین دہائیوں سے اپنے نغموں سے موسیقی کی دنیا کو شرابور کرنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے رومانی نغمے آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جنہیں سن کر سامعین کے دل سے بس ایک ہی آواز نکلتی ہے "جب چھائے تیرا جادو کوئی بچ نہ پائے۔ سال 1981 میں ہدایت کار یش چوپڑا پنی نئی فلم ’سلسلہ‘ کیلئے نغمہ نگار کی تلاش میں تھے۔ان دنوں فلم انڈسٹری میں جاوید اختر بطور مکالمہ نگار اپنی شناخت بنا چکے تھے، یش چوپڑا نے جاوید اختر سے فلم سلسلہ کے گیت لکھنے کی پیشکش کی. فلم "سلسلہ" میں جاوید اختر کے گیت "دیکھا ایک خواب تو سلسلے ہوئے "اور" یہ کہاں آ گئے ہم " بے انتہا مقبول ہوئے۔  فلم سلسلہ میں اپنے نغموں کی کامیابی سے حوصلہ پاکر جاوید اختر نے نغمہ نگار کے طور پر بھی کام کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد جاوید اختر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ تصویر: گیٹی امیجیز۔

    تقریبا تین دہائیوں سے اپنے نغموں سے موسیقی کی دنیا کو شرابور کرنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے رومانی نغمے آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جنہیں سن کر سامعین کے دل سے بس ایک ہی آواز نکلتی ہے "جب چھائے تیرا جادو کوئی بچ نہ پائے۔ سال 1981 میں ہدایت کار یش چوپڑا پنی نئی فلم ’سلسلہ‘ کیلئے نغمہ نگار کی تلاش میں تھے۔ان دنوں فلم انڈسٹری میں جاوید اختر بطور مکالمہ نگار اپنی شناخت بنا چکے تھے، یش چوپڑا نے جاوید اختر سے فلم سلسلہ کے گیت لکھنے کی پیشکش کی. فلم "سلسلہ" میں جاوید اختر کے گیت "دیکھا ایک خواب تو سلسلے ہوئے "اور" یہ کہاں آ گئے ہم " بے انتہا مقبول ہوئے۔ فلم سلسلہ میں اپنے نغموں کی کامیابی سے حوصلہ پاکر جاوید اختر نے نغمہ نگار کے طور پر بھی کام کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد جاوید اختر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ تصویر: گیٹی امیجیز۔

  • جاوید اختر 17 جنوری 1945 کو پیدا ہوئے۔ ا ن کے والد جاں نثار اختر بھی اردو کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے متعدد فلموں کے لئے گیت لکھے۔

    جاوید اختر 17 جنوری 1945 کو پیدا ہوئے۔ ا ن کے والد جاں نثار اختر بھی اردو کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے متعدد فلموں کے لئے گیت لکھے۔

  • بچپن سے ہی شاعری سے جاوید اختر کا گہرا رشتہ تھا۔ ان کے گھر پر شعرو شاعری کی محفلیں سجا کرتی تھیں جنہیں وہ بڑے شوق سے سنا کرتے تھے۔ جاوید اختر نے زندگی کے نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا تھا اس لئے ان کی شاعری میں زندگی کی بھر پور عکاسی نظر آتی ہے۔ جاوید اختر کی گیتوں کی یہ خوبی رہی ہے کہ وہ اپنی بات بڑی آسانی سے دوسروں کو سمجھاتے ہیں۔ ان کی پیدائش کے کچھ وقت کے بعد ان کا خاندان لکھنؤ آ گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ سے مکمل کی۔ کچھ وقت تک لکھنؤ رہنے کے بعد وہ علی گڑھ آگئے جہاں وہ اپنی خالہ کے ساتھ رہنے لگے۔

    بچپن سے ہی شاعری سے جاوید اختر کا گہرا رشتہ تھا۔ ان کے گھر پر شعرو شاعری کی محفلیں سجا کرتی تھیں جنہیں وہ بڑے شوق سے سنا کرتے تھے۔ جاوید اختر نے زندگی کے نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا تھا اس لئے ان کی شاعری میں زندگی کی بھر پور عکاسی نظر آتی ہے۔ جاوید اختر کی گیتوں کی یہ خوبی رہی ہے کہ وہ اپنی بات بڑی آسانی سے دوسروں کو سمجھاتے ہیں۔ ان کی پیدائش کے کچھ وقت کے بعد ان کا خاندان لکھنؤ آ گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ سے مکمل کی۔ کچھ وقت تک لکھنؤ رہنے کے بعد وہ علی گڑھ آگئے جہاں وہ اپنی خالہ کے ساتھ رہنے لگے۔

  • انہوں نے اپنی میٹرک کی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے منسلک منٹو سرکل کالج سے مکمل کی۔ اس کے بعد بھوپال کے صوفیہ کالج سے گریجویشن کیا۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد بھوپال سے دل بھر گیا اور وہ خوابوں کو نئی شکل دینے کے لئے سال 1964 میں ممبئی آ گئے۔ ممبئی پہنچنے پر جاوید اختر کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کچھ دنوں تک محض 100 روپے کے معاوضہ پر فلموں میں ڈائیلاگ لکھنے کا کام کرنے لگے۔ اس دوران انہوں نے کئی فلموں کیلئے ڈائیلاگ لکھے لیکن ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ جاوید اختر 1964 میں ممبئی آئے تھے۔ ایک دور ایسا تھا جب ان کے پاس کھانے تک کے پیسے نہیں تھے، انہوں نے کئی راتیں سڑکوں پر کھلے آسمان کے نیچے سوکر گزاریں۔

    انہوں نے اپنی میٹرک کی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے منسلک منٹو سرکل کالج سے مکمل کی۔ اس کے بعد بھوپال کے صوفیہ کالج سے گریجویشن کیا۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد بھوپال سے دل بھر گیا اور وہ خوابوں کو نئی شکل دینے کے لئے سال 1964 میں ممبئی آ گئے۔ ممبئی پہنچنے پر جاوید اختر کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کچھ دنوں تک محض 100 روپے کے معاوضہ پر فلموں میں ڈائیلاگ لکھنے کا کام کرنے لگے۔ اس دوران انہوں نے کئی فلموں کیلئے ڈائیلاگ لکھے لیکن ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ جاوید اختر 1964 میں ممبئی آئے تھے۔ ایک دور ایسا تھا جب ان کے پاس کھانے تک کے پیسے نہیں تھے، انہوں نے کئی راتیں سڑکوں پر کھلے آسمان کے نیچے سوکر گزاریں۔

  • ممبئی میں جاوید اختر کی ملاقات سلیم خان سے ہوئی جو فلم انڈسٹری میں بطور مکالمہ نگار اپنی شناخت بنا رہے تھے۔ اس کے بعد وہ اور سلیم خان مشترکہ طور پر کام کرنے لگے۔ سال 1970 میں آئی فلم "انداز " کی کامیابی کے بعد وہ کچھ حد تک بطور ڈائیلاگ رائٹرز فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

    ممبئی میں جاوید اختر کی ملاقات سلیم خان سے ہوئی جو فلم انڈسٹری میں بطور مکالمہ نگار اپنی شناخت بنا رہے تھے۔ اس کے بعد وہ اور سلیم خان مشترکہ طور پر کام کرنے لگے۔ سال 1970 میں آئی فلم "انداز " کی کامیابی کے بعد وہ کچھ حد تک بطور ڈائیلاگ رائٹرز فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

  • فلم "انداز " کی کامیابی کے بعد جاوید اختر اور سلیم خان کو کئی اچھی فلموں کی پیشکش ملنی شروع ہو گئی۔ ان فلموں میں "ہاتھی میرے ساتھی، سیتا اور گیتا، زنجیر، یادوں کی بارات" جیسی فلمیں شامل ہیں۔ اس کے بعد دیوار اور شعلے جیسی فلموں کے بعد تو فلم انڈسٹری میں ان کا طوطی بولنے لگا۔ جن دنوں سیتا اور گیتا بن رہی تھی ، ان کی ملاقات "ہنی ایرانی" سے ہوئی اور جلد ہی جاوید اختر نے ہنی ایرانی سے نکاح کر لیا۔ 80کی دہائی میں ہنی ایرانی سے طلاق کے بعد انہوں نے شبانہ اعظمی سے شادی کی۔

    فلم "انداز " کی کامیابی کے بعد جاوید اختر اور سلیم خان کو کئی اچھی فلموں کی پیشکش ملنی شروع ہو گئی۔ ان فلموں میں "ہاتھی میرے ساتھی، سیتا اور گیتا، زنجیر، یادوں کی بارات" جیسی فلمیں شامل ہیں۔ اس کے بعد دیوار اور شعلے جیسی فلموں کے بعد تو فلم انڈسٹری میں ان کا طوطی بولنے لگا۔ جن دنوں سیتا اور گیتا بن رہی تھی ، ان کی ملاقات "ہنی ایرانی" سے ہوئی اور جلد ہی جاوید اختر نے ہنی ایرانی سے نکاح کر لیا۔ 80کی دہائی میں ہنی ایرانی سے طلاق کے بعد انہوں نے شبانہ اعظمی سے شادی کی۔

  • سال 1987 میں آئی فلم’ مسٹر انڈیا‘ کے بعد سلیم جاوید کی سپر ہٹ جوڑی الگ ہو گئی۔ اس کے بعد بھی جاوید اختر نے فلموں کے لئےڈائیلاگ لکھنے کا کام جاری رکھا. ان کو ملے اعزاز ات پر نظر ڈالی جائے توانہیں آٹھ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

    سال 1987 میں آئی فلم’ مسٹر انڈیا‘ کے بعد سلیم جاوید کی سپر ہٹ جوڑی الگ ہو گئی۔ اس کے بعد بھی جاوید اختر نے فلموں کے لئےڈائیلاگ لکھنے کا کام جاری رکھا. ان کو ملے اعزاز ات پر نظر ڈالی جائے توانہیں آٹھ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

  • سال 1999 میں ادب کی دنیا میں گراں قدر خدمات دیکھتے ہوئے انہیں پدم شری سے نوازا گیا۔ سال 2007 میں جاوید اختر کو پدم بھوشن اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ جاوید اختر کو ان کی گیت کے لیے ساز، بارڈر، گاڈ مدر، ریفیوجی اور لگان کیلئے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا. وہ آج بھی نغمہ نگار کے طور پر فلمی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔

    سال 1999 میں ادب کی دنیا میں گراں قدر خدمات دیکھتے ہوئے انہیں پدم شری سے نوازا گیا۔ سال 2007 میں جاوید اختر کو پدم بھوشن اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ جاوید اختر کو ان کی گیت کے لیے ساز، بارڈر، گاڈ مدر، ریفیوجی اور لگان کیلئے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا. وہ آج بھی نغمہ نگار کے طور پر فلمی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔

  • جاوید اختر 17 جنوری 1945 کو پیدا ہوئے۔ ا ن کے والد جاں نثار اختر بھی اردو کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے متعدد فلموں کے لئے گیت لکھے۔
  • بچپن سے ہی شاعری سے جاوید اختر کا گہرا رشتہ تھا۔ ان کے گھر پر شعرو شاعری کی محفلیں سجا کرتی تھیں جنہیں وہ بڑے شوق سے سنا کرتے تھے۔ جاوید اختر نے زندگی کے نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا تھا اس لئے ان کی شاعری میں زندگی کی بھر پور عکاسی نظر آتی ہے۔ جاوید اختر کی گیتوں کی یہ خوبی رہی ہے کہ وہ اپنی بات بڑی آسانی سے دوسروں کو سمجھاتے ہیں۔ ان کی پیدائش کے کچھ وقت کے بعد ان کا خاندان لکھنؤ آ گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ سے مکمل کی۔ کچھ وقت تک لکھنؤ رہنے کے بعد وہ علی گڑھ آگئے جہاں وہ اپنی خالہ کے ساتھ رہنے لگے۔
  • انہوں نے اپنی میٹرک کی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے منسلک منٹو سرکل کالج سے مکمل کی۔ اس کے بعد بھوپال کے صوفیہ کالج سے گریجویشن کیا۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد بھوپال سے دل بھر گیا اور وہ خوابوں کو نئی شکل دینے کے لئے سال 1964 میں ممبئی آ گئے۔ ممبئی پہنچنے پر جاوید اختر کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کچھ دنوں تک محض 100 روپے کے معاوضہ پر فلموں میں ڈائیلاگ لکھنے کا کام کرنے لگے۔ اس دوران انہوں نے کئی فلموں کیلئے ڈائیلاگ لکھے لیکن ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ جاوید اختر 1964 میں ممبئی آئے تھے۔ ایک دور ایسا تھا جب ان کے پاس کھانے تک کے پیسے نہیں تھے، انہوں نے کئی راتیں سڑکوں پر کھلے آسمان کے نیچے سوکر گزاریں۔
  • ممبئی میں جاوید اختر کی ملاقات سلیم خان سے ہوئی جو فلم انڈسٹری میں بطور مکالمہ نگار اپنی شناخت بنا رہے تھے۔ اس کے بعد وہ اور سلیم خان مشترکہ طور پر کام کرنے لگے۔ سال 1970 میں آئی فلم "انداز " کی کامیابی کے بعد وہ کچھ حد تک بطور ڈائیلاگ رائٹرز فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
  • فلم "انداز " کی کامیابی کے بعد جاوید اختر اور سلیم خان کو کئی اچھی فلموں کی پیشکش ملنی شروع ہو گئی۔ ان فلموں میں "ہاتھی میرے ساتھی، سیتا اور گیتا، زنجیر، یادوں کی بارات" جیسی فلمیں شامل ہیں۔ اس کے بعد دیوار اور شعلے جیسی فلموں کے بعد تو فلم انڈسٹری میں ان کا طوطی بولنے لگا۔ جن دنوں سیتا اور گیتا بن رہی تھی ، ان کی ملاقات "ہنی ایرانی" سے ہوئی اور جلد ہی جاوید اختر نے ہنی ایرانی سے نکاح کر لیا۔ 80کی دہائی میں ہنی ایرانی سے طلاق کے بعد انہوں نے شبانہ اعظمی سے شادی کی۔
  • سال 1987 میں آئی فلم’ مسٹر انڈیا‘ کے بعد سلیم جاوید کی سپر ہٹ جوڑی الگ ہو گئی۔ اس کے بعد بھی جاوید اختر نے فلموں کے لئےڈائیلاگ لکھنے کا کام جاری رکھا. ان کو ملے اعزاز ات پر نظر ڈالی جائے توانہیں آٹھ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
  • سال 1999 میں ادب کی دنیا میں گراں قدر خدمات دیکھتے ہوئے انہیں پدم شری سے نوازا گیا۔ سال 2007 میں جاوید اختر کو پدم بھوشن اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ جاوید اختر کو ان کی گیت کے لیے ساز، بارڈر، گاڈ مدر، ریفیوجی اور لگان کیلئے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا. وہ آج بھی نغمہ نگار کے طور پر فلمی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔

تازہ ترین تصاویر