کیفی اعظمی نے کہا تھا: اماں ایک دن بہت بڑا شاعر بن کر دکھاوں گا

Jan 14, 2017 03:47 PM IST
1 of 8
  •  فلمی دنیا کے مشہور شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی کی شعرو شاعری کی صلاحیت بچپن کے دنوں سے ہی نظر آنے لگی تھی۔   14 جنوری 1919 کو اتر پردیش میں اعظم گڑھ ضلع کے مجواں گاؤں میں پیدا ہوئے سید اطہر حسین رضوی عرف کیفی اعظمی کے والد زمیندار تھے۔ والد حسین انہیں اعلی سے اعلی تعلیم دینا چاہتے تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے ان کا داخلہ لکھنؤ کے مشہور سیمنری "سلطان الحق مدارس" میں کرایا تھا۔

    فلمی دنیا کے مشہور شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی کی شعرو شاعری کی صلاحیت بچپن کے دنوں سے ہی نظر آنے لگی تھی۔ 14 جنوری 1919 کو اتر پردیش میں اعظم گڑھ ضلع کے مجواں گاؤں میں پیدا ہوئے سید اطہر حسین رضوی عرف کیفی اعظمی کے والد زمیندار تھے۔ والد حسین انہیں اعلی سے اعلی تعلیم دینا چاہتے تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے ان کا داخلہ لکھنؤ کے مشہور سیمنری "سلطان الحق مدارس" میں کرایا تھا۔

  •  کیفی اعظمی کے اندر کا شاعر بچپن سے زندہ تھا۔ محض گیارہ سال کی عمر سے ہی کیفی اعظمی نے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا جہاں انہیں بہت داد بھی ملا کرتی تھی لیکن بہت سے لوگ جن میں ان کے والد بھی شامل تھے ایسا سوچا کرتے تھے کہ کیفی اعظمی مشاعروں کے دوران خود کی نہیں بلکہ اپنے بڑے بھائی کی غزلوں کو سنایا کرتے ہیں۔ ایک بار بیٹے کا امتحان لینے کے لئے والد نے انہیں گانے کی ایک لائن دی اور اس پر انہیں غزل لکھنے کو کہا۔ کیفی اعظمی نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور اس لائن پر ایک غزل کی تخلیق کی. ان کی یہ غزل ان دنوں کافی مقبول ہوئی اور بعد میں معروف پلے بیک گلوکار بیگم اختر نے اسے اپنی آواز دی۔ غزل کے بول کچھ اس طرح سے تھے "اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے" نہ ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے۔

    کیفی اعظمی کے اندر کا شاعر بچپن سے زندہ تھا۔ محض گیارہ سال کی عمر سے ہی کیفی اعظمی نے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا جہاں انہیں بہت داد بھی ملا کرتی تھی لیکن بہت سے لوگ جن میں ان کے والد بھی شامل تھے ایسا سوچا کرتے تھے کہ کیفی اعظمی مشاعروں کے دوران خود کی نہیں بلکہ اپنے بڑے بھائی کی غزلوں کو سنایا کرتے ہیں۔ ایک بار بیٹے کا امتحان لینے کے لئے والد نے انہیں گانے کی ایک لائن دی اور اس پر انہیں غزل لکھنے کو کہا۔ کیفی اعظمی نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور اس لائن پر ایک غزل کی تخلیق کی. ان کی یہ غزل ان دنوں کافی مقبول ہوئی اور بعد میں معروف پلے بیک گلوکار بیگم اختر نے اسے اپنی آواز دی۔ غزل کے بول کچھ اس طرح سے تھے "اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے" نہ ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے۔

  • کیفی اعظمی محفلوں میں شرکت کرتے وقت نظموں کو بڑے پیار سے سنایا کرتے تھے۔ اس کیلئے انہیں کئی بار ڈانٹ بھی سننی پڑتی تھی جس کے بعد وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس جاتے اور کہتے "اماں دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا۔ "  کیفی اعظمی کبھی بھی اعلی تعلیم کی خواہش مند نہیں رہے۔ مدرسہ میں اپنے تعلیمی سفر کے دوران وہاں کے نظام کو دیکھ کر انہوں نے طالب علم یونین کا قیام کیا اور اپنے مطالبات کی تکمیل نہ ہونے پر طالب علموں سے ہڑتال پر جانے کی اپیل کی۔ ان کی اپیل پر طالب علم ہڑتال پر چلے گئے اور اس دوران ان کا دھرنا تقریباً ڈیڑھ سال تک چلا. لیکن اس ہڑتال کی وجہ سے کیفی اعظمی کو مدرسہ سے نکال دیا گیا۔

    کیفی اعظمی محفلوں میں شرکت کرتے وقت نظموں کو بڑے پیار سے سنایا کرتے تھے۔ اس کیلئے انہیں کئی بار ڈانٹ بھی سننی پڑتی تھی جس کے بعد وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس جاتے اور کہتے "اماں دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا۔ " کیفی اعظمی کبھی بھی اعلی تعلیم کی خواہش مند نہیں رہے۔ مدرسہ میں اپنے تعلیمی سفر کے دوران وہاں کے نظام کو دیکھ کر انہوں نے طالب علم یونین کا قیام کیا اور اپنے مطالبات کی تکمیل نہ ہونے پر طالب علموں سے ہڑتال پر جانے کی اپیل کی۔ ان کی اپیل پر طالب علم ہڑتال پر چلے گئے اور اس دوران ان کا دھرنا تقریباً ڈیڑھ سال تک چلا. لیکن اس ہڑتال کی وجہ سے کیفی اعظمی کو مدرسہ سے نکال دیا گیا۔

  • اس ہڑتال سے کیفی اعظمی کو فائدہ بھی پہنچا اور اس دوران اس وقت کے کچھ ترقی پسند مصنفین کی نظر ان پر پڑی جو ان کی قیادت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے تھے۔ ان کے اندر انہیں ایک ابھرتا ہوا شاعر دکھائی دیا اور انہوں نے ان کو حوصلہ افزائی کرنے اور ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش کی اس کے بعد ایک طالب علم لیڈر اطہر حسین کے اندر شاعر کیفی اعظمی نے جنم لے لیا۔  سال 1942 میں کیفی اعظمی اردو اور فارسی کی اعلی تعلیم کے لیے لکھنؤ اور الہ آباد بھیجے گئے لیکن کیفی نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت حاصل کرکے پارٹی کارکن کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور پھر ہندوستان چھوڑو تحریک میں شامل ہو گئے۔

    اس ہڑتال سے کیفی اعظمی کو فائدہ بھی پہنچا اور اس دوران اس وقت کے کچھ ترقی پسند مصنفین کی نظر ان پر پڑی جو ان کی قیادت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے تھے۔ ان کے اندر انہیں ایک ابھرتا ہوا شاعر دکھائی دیا اور انہوں نے ان کو حوصلہ افزائی کرنے اور ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش کی اس کے بعد ایک طالب علم لیڈر اطہر حسین کے اندر شاعر کیفی اعظمی نے جنم لے لیا۔ سال 1942 میں کیفی اعظمی اردو اور فارسی کی اعلی تعلیم کے لیے لکھنؤ اور الہ آباد بھیجے گئے لیکن کیفی نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت حاصل کرکے پارٹی کارکن کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور پھر ہندوستان چھوڑو تحریک میں شامل ہو گئے۔

  • اس درمیان مشاعروں میں کیفی اعظمی کی شرکت جاری رہی۔ سال 1947 میں ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے وہ حیدرآباد پہنچے جہاں ان کی ملاقات شوکت اعظمی سے ہوئی اور ان کی یہ ملاقات جلد ہی شادی میں تبدیل ہو گئی۔ آزادی کے بعد ان کے والد اور بھائی پاکستان چلے گئے لیکن کیفی اعظمی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔

    اس درمیان مشاعروں میں کیفی اعظمی کی شرکت جاری رہی۔ سال 1947 میں ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے وہ حیدرآباد پہنچے جہاں ان کی ملاقات شوکت اعظمی سے ہوئی اور ان کی یہ ملاقات جلد ہی شادی میں تبدیل ہو گئی۔ آزادی کے بعد ان کے والد اور بھائی پاکستان چلے گئے لیکن کیفی اعظمی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔

  • شادی کے بعد بڑھتے اخراجات کو دیکھ کر کیفی اعظمی نے ایک اردو اخبار کے لئے لکھنا شروع کر دیا جہاں سے انہیں 150 روپے ماہانہ تنخواہ ملا کرتی تھی۔ ان کی پہلی نظم "سرفراز" لکھنؤ میں شائع ہوئی۔ شادی کے بعد ان کے گھر کا خرچ بہت مشکل سے چل پاتا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے روزنامہ اخبار میں طنزو مزاح کا کالم بھی لکھنا شروع کیا. اس کے بعد اپنے گھر کے بڑھتے اخراجات کو دیکھ کیفی اعظمی نے فلمی نغمات لکھنے کا فیصلہ کیا۔

    شادی کے بعد بڑھتے اخراجات کو دیکھ کر کیفی اعظمی نے ایک اردو اخبار کے لئے لکھنا شروع کر دیا جہاں سے انہیں 150 روپے ماہانہ تنخواہ ملا کرتی تھی۔ ان کی پہلی نظم "سرفراز" لکھنؤ میں شائع ہوئی۔ شادی کے بعد ان کے گھر کا خرچ بہت مشکل سے چل پاتا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے روزنامہ اخبار میں طنزو مزاح کا کالم بھی لکھنا شروع کیا. اس کے بعد اپنے گھر کے بڑھتے اخراجات کو دیکھ کیفی اعظمی نے فلمی نغمات لکھنے کا فیصلہ کیا۔

  • کیفی اعظمی نے سب سے پہلے شاہد لطیف کی فلم "بزدل" کے لئے دو نغمے لکھے جس کے بدلے میں انہیں 1000 روپے ملے. اس کے بعد سال 1959 میں آئی فلم ’’کاغذ کے پھول ‘‘کے لئے کیفی اعظمی نے "وقت نے کیا کیا حسیں ستم ، ہم رہے نہ تم ہم رہے نہ ہم" جیسا سدا بہار گیت لکھا. سال 1965 میں آئی فلم "حقیقت" میں "کر چلے ہم فدا جانوں تن ساتھیو اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں" کی کامیابی کے بعد کیفی اعظمی کامیابی کی چوٹی پر جا پہنچے۔

    کیفی اعظمی نے سب سے پہلے شاہد لطیف کی فلم "بزدل" کے لئے دو نغمے لکھے جس کے بدلے میں انہیں 1000 روپے ملے. اس کے بعد سال 1959 میں آئی فلم ’’کاغذ کے پھول ‘‘کے لئے کیفی اعظمی نے "وقت نے کیا کیا حسیں ستم ، ہم رہے نہ تم ہم رہے نہ ہم" جیسا سدا بہار گیت لکھا. سال 1965 میں آئی فلم "حقیقت" میں "کر چلے ہم فدا جانوں تن ساتھیو اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں" کی کامیابی کے بعد کیفی اعظمی کامیابی کی چوٹی پر جا پہنچے۔

  • کثیر الجہت صلاحیت کے مالک کیفی اعظمی نے فلم گرم ہوا کی کہانی مکالمے اور اسکرین پلے بھی لکھا جن کیلئے انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا. فلم ہیر رانجھا کے ڈائیلاگ کے ساتھ ساتھ کیفی اعظمی نے شیام بینیگل کی فلم "منتھن " کی اسکرپٹ بھی لکھی۔ تقریبا 75 سال کی عمر کے بعد کیفی اعظمی نے اپنے گاؤں مجوا ں میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے مشہور گیتوں سے سامعین کو محظوظ کرنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی 10 مئی، 2002 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    کثیر الجہت صلاحیت کے مالک کیفی اعظمی نے فلم گرم ہوا کی کہانی مکالمے اور اسکرین پلے بھی لکھا جن کیلئے انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا. فلم ہیر رانجھا کے ڈائیلاگ کے ساتھ ساتھ کیفی اعظمی نے شیام بینیگل کی فلم "منتھن " کی اسکرپٹ بھی لکھی۔ تقریبا 75 سال کی عمر کے بعد کیفی اعظمی نے اپنے گاؤں مجوا ں میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے مشہور گیتوں سے سامعین کو محظوظ کرنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی 10 مئی، 2002 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

  •  کیفی اعظمی کے اندر کا شاعر بچپن سے زندہ تھا۔ محض گیارہ سال کی عمر سے ہی کیفی اعظمی نے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا جہاں انہیں بہت داد بھی ملا کرتی تھی لیکن بہت سے لوگ جن میں ان کے والد بھی شامل تھے ایسا سوچا کرتے تھے کہ کیفی اعظمی مشاعروں کے دوران خود کی نہیں بلکہ اپنے بڑے بھائی کی غزلوں کو سنایا کرتے ہیں۔ ایک بار بیٹے کا امتحان لینے کے لئے والد نے انہیں گانے کی ایک لائن دی اور اس پر انہیں غزل لکھنے کو کہا۔ کیفی اعظمی نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور اس لائن پر ایک غزل کی تخلیق کی. ان کی یہ غزل ان دنوں کافی مقبول ہوئی اور بعد میں معروف پلے بیک گلوکار بیگم اختر نے اسے اپنی آواز دی۔ غزل کے بول کچھ اس طرح سے تھے "اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے" نہ ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے۔
  • کیفی اعظمی محفلوں میں شرکت کرتے وقت نظموں کو بڑے پیار سے سنایا کرتے تھے۔ اس کیلئے انہیں کئی بار ڈانٹ بھی سننی پڑتی تھی جس کے بعد وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس جاتے اور کہتے "اماں دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا۔ "  کیفی اعظمی کبھی بھی اعلی تعلیم کی خواہش مند نہیں رہے۔ مدرسہ میں اپنے تعلیمی سفر کے دوران وہاں کے نظام کو دیکھ کر انہوں نے طالب علم یونین کا قیام کیا اور اپنے مطالبات کی تکمیل نہ ہونے پر طالب علموں سے ہڑتال پر جانے کی اپیل کی۔ ان کی اپیل پر طالب علم ہڑتال پر چلے گئے اور اس دوران ان کا دھرنا تقریباً ڈیڑھ سال تک چلا. لیکن اس ہڑتال کی وجہ سے کیفی اعظمی کو مدرسہ سے نکال دیا گیا۔
  • اس ہڑتال سے کیفی اعظمی کو فائدہ بھی پہنچا اور اس دوران اس وقت کے کچھ ترقی پسند مصنفین کی نظر ان پر پڑی جو ان کی قیادت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے تھے۔ ان کے اندر انہیں ایک ابھرتا ہوا شاعر دکھائی دیا اور انہوں نے ان کو حوصلہ افزائی کرنے اور ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش کی اس کے بعد ایک طالب علم لیڈر اطہر حسین کے اندر شاعر کیفی اعظمی نے جنم لے لیا۔  سال 1942 میں کیفی اعظمی اردو اور فارسی کی اعلی تعلیم کے لیے لکھنؤ اور الہ آباد بھیجے گئے لیکن کیفی نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت حاصل کرکے پارٹی کارکن کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور پھر ہندوستان چھوڑو تحریک میں شامل ہو گئے۔
  • اس درمیان مشاعروں میں کیفی اعظمی کی شرکت جاری رہی۔ سال 1947 میں ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے وہ حیدرآباد پہنچے جہاں ان کی ملاقات شوکت اعظمی سے ہوئی اور ان کی یہ ملاقات جلد ہی شادی میں تبدیل ہو گئی۔ آزادی کے بعد ان کے والد اور بھائی پاکستان چلے گئے لیکن کیفی اعظمی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
  • شادی کے بعد بڑھتے اخراجات کو دیکھ کر کیفی اعظمی نے ایک اردو اخبار کے لئے لکھنا شروع کر دیا جہاں سے انہیں 150 روپے ماہانہ تنخواہ ملا کرتی تھی۔ ان کی پہلی نظم "سرفراز" لکھنؤ میں شائع ہوئی۔ شادی کے بعد ان کے گھر کا خرچ بہت مشکل سے چل پاتا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے روزنامہ اخبار میں طنزو مزاح کا کالم بھی لکھنا شروع کیا. اس کے بعد اپنے گھر کے بڑھتے اخراجات کو دیکھ کیفی اعظمی نے فلمی نغمات لکھنے کا فیصلہ کیا۔
  • کیفی اعظمی نے سب سے پہلے شاہد لطیف کی فلم "بزدل" کے لئے دو نغمے لکھے جس کے بدلے میں انہیں 1000 روپے ملے. اس کے بعد سال 1959 میں آئی فلم ’’کاغذ کے پھول ‘‘کے لئے کیفی اعظمی نے "وقت نے کیا کیا حسیں ستم ، ہم رہے نہ تم ہم رہے نہ ہم" جیسا سدا بہار گیت لکھا. سال 1965 میں آئی فلم "حقیقت" میں "کر چلے ہم فدا جانوں تن ساتھیو اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں" کی کامیابی کے بعد کیفی اعظمی کامیابی کی چوٹی پر جا پہنچے۔
  • کثیر الجہت صلاحیت کے مالک کیفی اعظمی نے فلم گرم ہوا کی کہانی مکالمے اور اسکرین پلے بھی لکھا جن کیلئے انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا. فلم ہیر رانجھا کے ڈائیلاگ کے ساتھ ساتھ کیفی اعظمی نے شیام بینیگل کی فلم "منتھن " کی اسکرپٹ بھی لکھی۔ تقریبا 75 سال کی عمر کے بعد کیفی اعظمی نے اپنے گاؤں مجوا ں میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے مشہور گیتوں سے سامعین کو محظوظ کرنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی 10 مئی، 2002 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

تازہ ترین تصاویر