کشمیر میں طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین پھر جھڑپیں، کم از کم 4 گرفتار

May 22, 2017 05:55 PM IST
1 of 6
  • وادی کشمیر میں پیر کے روز سیکورٹی فورسز نے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں احتجاجی طلباء کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس دوران یہاں مولانا آزاد روڑ پر واقع سری پرتاب کالج و ہائر سکینڈری اسکول کے باب الداخلے کے نزدیک سیکورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہر ہ کے دوران چار طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔

    وادی کشمیر میں پیر کے روز سیکورٹی فورسز نے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں احتجاجی طلباء کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس دوران یہاں مولانا آزاد روڑ پر واقع سری پرتاب کالج و ہائر سکینڈری اسکول کے باب الداخلے کے نزدیک سیکورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہر ہ کے دوران چار طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔

  • موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے یہاں گاندھی میموریل کالج اور ایم پی ایم ایل ہائر سکینڈری اسکول کے احتجاجی طالب علموں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ان اطلاعات کے مطابق دونوں تعلیمی اداروں کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم جب احتجاجی طلباء نے پرامن طور پر منتشر ہونے سے انکار کیا تو سیکورٹی فورسز نے ان کے خلاف پہلے لاٹھی چارج اور بعد ازاں آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔

    موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے یہاں گاندھی میموریل کالج اور ایم پی ایم ایل ہائر سکینڈری اسکول کے احتجاجی طالب علموں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ان اطلاعات کے مطابق دونوں تعلیمی اداروں کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم جب احتجاجی طلباء نے پرامن طور پر منتشر ہونے سے انکار کیا تو سیکورٹی فورسز نے ان کے خلاف پہلے لاٹھی چارج اور بعد ازاں آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔

  • طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے مولانا آزاد روڑ پر واقع ایس پی کالج و ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے باب الداخلے کے نذدیک احتجاجی مظاہرے کے دوران کم از کم چار طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔

    طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے مولانا آزاد روڑ پر واقع ایس پی کالج و ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے باب الداخلے کے نذدیک احتجاجی مظاہرے کے دوران کم از کم چار طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔

  • دریں اثنا شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے پلہالن سے بھی طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ بائز ہائر سکینڈری اسکول پلہالن کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جن کو منتشر کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔ یہ سبھی تصویریں یو این آئی کی ہیں۔

    دریں اثنا شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے پلہالن سے بھی طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ بائز ہائر سکینڈری اسکول پلہالن کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جن کو منتشر کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔ یہ سبھی تصویریں یو این آئی کی ہیں۔

  • یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وادی میں اگرچہ ابتدائی طور پر طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 15 اپریل کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے ڈگری کالج پلوامہ میں طالب علموں کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف بطور احتجاج شروع ہوا تھا، تاہم طالب علموں کے یہ احتجاجی مظاہرے اب ’آزادی حامی احتجاجی لہر‘ کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ فائل فوٹو۔

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وادی میں اگرچہ ابتدائی طور پر طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 15 اپریل کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے ڈگری کالج پلوامہ میں طالب علموں کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف بطور احتجاج شروع ہوا تھا، تاہم طالب علموں کے یہ احتجاجی مظاہرے اب ’آزادی حامی احتجاجی لہر‘ کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ فائل فوٹو۔

  • تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح سے کنٹرول میں ہے اور وادی کے بیشتر تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو پُرتشدد احتجاج کے مرتکب ہونے والے طالب علموں سے نمٹنے کے دوران حتی الامکان صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ فائل فوٹو۔

    تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح سے کنٹرول میں ہے اور وادی کے بیشتر تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو پُرتشدد احتجاج کے مرتکب ہونے والے طالب علموں سے نمٹنے کے دوران حتی الامکان صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ فائل فوٹو۔

  • موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے یہاں گاندھی میموریل کالج اور ایم پی ایم ایل ہائر سکینڈری اسکول کے احتجاجی طالب علموں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ان اطلاعات کے مطابق دونوں تعلیمی اداروں کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم جب احتجاجی طلباء نے پرامن طور پر منتشر ہونے سے انکار کیا تو سیکورٹی فورسز نے ان کے خلاف پہلے لاٹھی چارج اور بعد ازاں آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔
  • طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے مولانا آزاد روڑ پر واقع ایس پی کالج و ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے باب الداخلے کے نذدیک احتجاجی مظاہرے کے دوران کم از کم چار طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔
  • دریں اثنا شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے پلہالن سے بھی طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ بائز ہائر سکینڈری اسکول پلہالن کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جن کو منتشر کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔ یہ سبھی تصویریں یو این آئی کی ہیں۔
  • یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وادی میں اگرچہ ابتدائی طور پر طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 15 اپریل کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے ڈگری کالج پلوامہ میں طالب علموں کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف بطور احتجاج شروع ہوا تھا، تاہم طالب علموں کے یہ احتجاجی مظاہرے اب ’آزادی حامی احتجاجی لہر‘ کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ فائل فوٹو۔
  • تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح سے کنٹرول میں ہے اور وادی کے بیشتر تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو پُرتشدد احتجاج کے مرتکب ہونے والے طالب علموں سے نمٹنے کے دوران حتی الامکان صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ فائل فوٹو۔

تازہ ترین تصاویر