کشمیر میں ایک ہفتے بعد کالج کھل گئے، طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں

Apr 24, 2017 06:30 PM IST
1 of 12
  • وادئ کشمیر کے کالجوں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں مسلسل ایک ہفتے تک معطل رہنے کے بعد پیر کے روز بحال ہوگئیں۔ تاہم طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ایک بار پھر شدید جھڑپیں دیکھنے کو ملیں۔ طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا آغاز گرمائی دارالحکومت سری نگر میں واقع تاریخی سری پرتاب (ایس پی) کالج اور ایس پی ہائر سکینڈری اسکول سے ہوا، اور بعد ازاں سیول لائنز کے متعدد علاقوں بشمول تاریخی لال چوک، ریگل چوک، مائسمہ، ایکسچینج روڑتک پھیل گئیں۔

    وادئ کشمیر کے کالجوں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں مسلسل ایک ہفتے تک معطل رہنے کے بعد پیر کے روز بحال ہوگئیں۔ تاہم طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ایک بار پھر شدید جھڑپیں دیکھنے کو ملیں۔ طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا آغاز گرمائی دارالحکومت سری نگر میں واقع تاریخی سری پرتاب (ایس پی) کالج اور ایس پی ہائر سکینڈری اسکول سے ہوا، اور بعد ازاں سیول لائنز کے متعدد علاقوں بشمول تاریخی لال چوک، ریگل چوک، مائسمہ، ایکسچینج روڑتک پھیل گئیں۔

  • سیکورٹی فورسز نے احتجاجی طلباء اور دیگر آزادی حامی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور ہوائی فائرنگ کی۔ ان جھڑپوں میں قریب ڈیڑھ درجن افراد بشمول 3 فوٹو جرنلسٹوں، طالب علموں، راہگیروں اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جھڑپوں کے بعد سیول لائنز میں دکانداروں نے آناً فاناً اپنی دکانیں بند کردیں اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل ہوکر رہ گئی۔

    سیکورٹی فورسز نے احتجاجی طلباء اور دیگر آزادی حامی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور ہوائی فائرنگ کی۔ ان جھڑپوں میں قریب ڈیڑھ درجن افراد بشمول 3 فوٹو جرنلسٹوں، طالب علموں، راہگیروں اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جھڑپوں کے بعد سیول لائنز میں دکانداروں نے آناً فاناً اپنی دکانیں بند کردیں اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل ہوکر رہ گئی۔

  • موصولہ اطلاعات کے مطابق پیر کو کالجوں کے ایک ہفتے بعد کھلنے کے ساتھ ہی سری نگر میں واقع ایس پی کالج اور ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے مصروف ترین مولانا آزاد روڈ پر نکل آئے۔ احتجاجی طلباء نے جب مولانا آزاد روڑ پر گاڑیوں کی نقل وحرکت مسدود کی، تو وہاں موجود سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے پہلے رنگین پانی کی بوچھاریں اور بعدازاں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    موصولہ اطلاعات کے مطابق پیر کو کالجوں کے ایک ہفتے بعد کھلنے کے ساتھ ہی سری نگر میں واقع ایس پی کالج اور ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے مصروف ترین مولانا آزاد روڈ پر نکل آئے۔ احتجاجی طلباء نے جب مولانا آزاد روڑ پر گاڑیوں کی نقل وحرکت مسدود کی، تو وہاں موجود سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے پہلے رنگین پانی کی بوچھاریں اور بعدازاں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

  • سیکورٹی فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کئے جانے کی وجہ سے احتجاجی طلباء مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے۔ احتجاجی طلباء اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

    سیکورٹی فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کئے جانے کی وجہ سے احتجاجی طلباء مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے۔ احتجاجی طلباء اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

  • جھڑپوں کے دوران جہاں قریب 6 طالب علموں کو حراست میں لیا گیا، وہیں متعدد افراد بشمول راہگیر اور سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ایس پی کالج و ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے طالب علموں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران نزدیک میں واقع وومنز کالج میں زیر تعلیم طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج احاطے کے اندر دھرنا دیا۔

    جھڑپوں کے دوران جہاں قریب 6 طالب علموں کو حراست میں لیا گیا، وہیں متعدد افراد بشمول راہگیر اور سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ایس پی کالج و ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے طالب علموں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران نزدیک میں واقع وومنز کالج میں زیر تعلیم طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج احاطے کے اندر دھرنا دیا۔

  •  اگرچہ کالج انتظامیہ نے طالبات کو کئی گھنٹوں تک کالج سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی، تاہم طلباء نے بعدازاں کالج احاطے سے باہر نکل کر مولانا آزاد روڑ پر اپنا احتجاج درج کیا۔

    اگرچہ کالج انتظامیہ نے طالبات کو کئی گھنٹوں تک کالج سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی، تاہم طلباء نے بعدازاں کالج احاطے سے باہر نکل کر مولانا آزاد روڑ پر اپنا احتجاج درج کیا۔

  • اس دوران گرلز ہائر سکینڈری اسکول کوٹھی باغ نے اپنے اسکول سے باہر آکر آزادی حامی نعرے بازی شروع کی۔ جب احتجاجی طالبات کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے پرتاب پارک کی طرف بڑھنے لگیں تو سیکورٹی فورسز نے انہیں بھی منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس کے بعد طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں سیول لائنز کے متعدد علاقوں بشمول تاریخی لال چوک، ریگل چوک، مائسمہ، ایکسچینج روڑتک پھیل گئیں۔

    اس دوران گرلز ہائر سکینڈری اسکول کوٹھی باغ نے اپنے اسکول سے باہر آکر آزادی حامی نعرے بازی شروع کی۔ جب احتجاجی طالبات کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے پرتاب پارک کی طرف بڑھنے لگیں تو سیکورٹی فورسز نے انہیں بھی منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس کے بعد طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں سیول لائنز کے متعدد علاقوں بشمول تاریخی لال چوک، ریگل چوک، مائسمہ، ایکسچینج روڑتک پھیل گئیں۔

  • سیکورٹی فورسز نے ایکسچینج روڑ پر یو این آئی کے سری نگر آفس کے باہر بھی احتجاجی طالب علموں اور دیگر نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی۔ جھڑپوں کے دوران کچھ ایک جگہوں پر نوجوانوں کی جانب سے پاکستانی پرچم بھی لہرائے گئے۔ وادی کے متعدد دیگر تعلیمی اداروں سے بھی طلباء کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ 15 اپریل کو سیکورٹی فوروسز کی جانب سے جنوبی کشمیر کے ڈگری کالج پلوامہ میں داخل ہوکر وہاں طالب علموں کو مبینہ طور پر شدید زد وکوب کرنے کے خلاف 17 اپریل (بروز پیر) کو وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں شدید آزادی حامی احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے تھے جس کے بعد کشمیر انتظامیہ نے وادی کے تمام کالجوں میں تعطیل کے اعلان کا سلسلہ 22 اپریل تک جاری رکھا۔

    سیکورٹی فورسز نے ایکسچینج روڑ پر یو این آئی کے سری نگر آفس کے باہر بھی احتجاجی طالب علموں اور دیگر نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی۔ جھڑپوں کے دوران کچھ ایک جگہوں پر نوجوانوں کی جانب سے پاکستانی پرچم بھی لہرائے گئے۔ وادی کے متعدد دیگر تعلیمی اداروں سے بھی طلباء کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ 15 اپریل کو سیکورٹی فوروسز کی جانب سے جنوبی کشمیر کے ڈگری کالج پلوامہ میں داخل ہوکر وہاں طالب علموں کو مبینہ طور پر شدید زد وکوب کرنے کے خلاف 17 اپریل (بروز پیر) کو وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں شدید آزادی حامی احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے تھے جس کے بعد کشمیر انتظامیہ نے وادی کے تمام کالجوں میں تعطیل کے اعلان کا سلسلہ 22 اپریل تک جاری رکھا۔

  • گذشتہ ہفتے کے دوران وادی کے تمام ہائر سکینڈری اسکول بھی صوبائی انتظامیہ کے احکامات پر دو دن (18 اور 21 اپریل کو) بند رہے۔ 15 اپریل کو ڈگری کالج پلوامہ کے طالب علموں نے کالج کے باب الداخلے کے سامنے سیکورٹی فورسز کی جانب سے ناکہ بٹھانے کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے کالج احاطے کے اندر گھس کر شدید لاٹھی چارج، ٹیئر گیس اور پیلٹ کی شیلنگ کرکے قریب 60 طالب علموں کو زخمی کردیا تھا۔

    گذشتہ ہفتے کے دوران وادی کے تمام ہائر سکینڈری اسکول بھی صوبائی انتظامیہ کے احکامات پر دو دن (18 اور 21 اپریل کو) بند رہے۔ 15 اپریل کو ڈگری کالج پلوامہ کے طالب علموں نے کالج کے باب الداخلے کے سامنے سیکورٹی فورسز کی جانب سے ناکہ بٹھانے کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے کالج احاطے کے اندر گھس کر شدید لاٹھی چارج، ٹیئر گیس اور پیلٹ کی شیلنگ کرکے قریب 60 طالب علموں کو زخمی کردیا تھا۔

  • سیکورٹی فورسز کی اس کاروائی کے خلاف 17 اپریل کو وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھنے کے بعد انتظامیہ نے مزید احتجاجی خدشوں کے پیش نظر تمام کالجوں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں مسلسل ایک ہفتے تک معطل رکھیں۔

    سیکورٹی فورسز کی اس کاروائی کے خلاف 17 اپریل کو وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھنے کے بعد انتظامیہ نے مزید احتجاجی خدشوں کے پیش نظر تمام کالجوں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں مسلسل ایک ہفتے تک معطل رکھیں۔

  • گذشتہ ہفتے کے دوران جہاں کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) نے بھی درس و تدریس کی سرگرمیاں معطل رکھیں، وہیں دونوں یونیورسٹیوں نے 20 اپریل سے امتحانات لینے کا سلسلہ شیڈول کے مطابق جاری رکھا۔

    گذشتہ ہفتے کے دوران جہاں کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) نے بھی درس و تدریس کی سرگرمیاں معطل رکھیں، وہیں دونوں یونیورسٹیوں نے 20 اپریل سے امتحانات لینے کا سلسلہ شیڈول کے مطابق جاری رکھا۔

  • موصولہ اطلاعات کے مطابق قریب ایک ہفتے تک وادی کے تمام کالجوں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں معطل رہنے کے بعد پیر کو بحال ہوگئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق سبھی کالجوں میں طلباء کی اچھی خاصی حاضری ریکارڈ کی گئی۔

    موصولہ اطلاعات کے مطابق قریب ایک ہفتے تک وادی کے تمام کالجوں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں معطل رہنے کے بعد پیر کو بحال ہوگئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق سبھی کالجوں میں طلباء کی اچھی خاصی حاضری ریکارڈ کی گئی۔

  • سیکورٹی فورسز نے احتجاجی طلباء اور دیگر آزادی حامی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور ہوائی فائرنگ کی۔ ان جھڑپوں میں قریب ڈیڑھ درجن افراد بشمول 3 فوٹو جرنلسٹوں، طالب علموں، راہگیروں اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جھڑپوں کے بعد سیول لائنز میں دکانداروں نے آناً فاناً اپنی دکانیں بند کردیں اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل ہوکر رہ گئی۔
  • موصولہ اطلاعات کے مطابق پیر کو کالجوں کے ایک ہفتے بعد کھلنے کے ساتھ ہی سری نگر میں واقع ایس پی کالج اور ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے طلباء کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے مصروف ترین مولانا آزاد روڈ پر نکل آئے۔ احتجاجی طلباء نے جب مولانا آزاد روڑ پر گاڑیوں کی نقل وحرکت مسدود کی، تو وہاں موجود سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے پہلے رنگین پانی کی بوچھاریں اور بعدازاں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
  • سیکورٹی فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کئے جانے کی وجہ سے احتجاجی طلباء مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے۔ احتجاجی طلباء اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
  • جھڑپوں کے دوران جہاں قریب 6 طالب علموں کو حراست میں لیا گیا، وہیں متعدد افراد بشمول راہگیر اور سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ایس پی کالج و ایس پی ہائر سکینڈری اسکول کے طالب علموں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران نزدیک میں واقع وومنز کالج میں زیر تعلیم طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج احاطے کے اندر دھرنا دیا۔
  •  اگرچہ کالج انتظامیہ نے طالبات کو کئی گھنٹوں تک کالج سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی، تاہم طلباء نے بعدازاں کالج احاطے سے باہر نکل کر مولانا آزاد روڑ پر اپنا احتجاج درج کیا۔
  • اس دوران گرلز ہائر سکینڈری اسکول کوٹھی باغ نے اپنے اسکول سے باہر آکر آزادی حامی نعرے بازی شروع کی۔ جب احتجاجی طالبات کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے پرتاب پارک کی طرف بڑھنے لگیں تو سیکورٹی فورسز نے انہیں بھی منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس کے بعد طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں سیول لائنز کے متعدد علاقوں بشمول تاریخی لال چوک، ریگل چوک، مائسمہ، ایکسچینج روڑتک پھیل گئیں۔
  • سیکورٹی فورسز نے ایکسچینج روڑ پر یو این آئی کے سری نگر آفس کے باہر بھی احتجاجی طالب علموں اور دیگر نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی۔ جھڑپوں کے دوران کچھ ایک جگہوں پر نوجوانوں کی جانب سے پاکستانی پرچم بھی لہرائے گئے۔ وادی کے متعدد دیگر تعلیمی اداروں سے بھی طلباء کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ 15 اپریل کو سیکورٹی فوروسز کی جانب سے جنوبی کشمیر کے ڈگری کالج پلوامہ میں داخل ہوکر وہاں طالب علموں کو مبینہ طور پر شدید زد وکوب کرنے کے خلاف 17 اپریل (بروز پیر) کو وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں شدید آزادی حامی احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے تھے جس کے بعد کشمیر انتظامیہ نے وادی کے تمام کالجوں میں تعطیل کے اعلان کا سلسلہ 22 اپریل تک جاری رکھا۔
  • گذشتہ ہفتے کے دوران وادی کے تمام ہائر سکینڈری اسکول بھی صوبائی انتظامیہ کے احکامات پر دو دن (18 اور 21 اپریل کو) بند رہے۔ 15 اپریل کو ڈگری کالج پلوامہ کے طالب علموں نے کالج کے باب الداخلے کے سامنے سیکورٹی فورسز کی جانب سے ناکہ بٹھانے کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے کالج احاطے کے اندر گھس کر شدید لاٹھی چارج، ٹیئر گیس اور پیلٹ کی شیلنگ کرکے قریب 60 طالب علموں کو زخمی کردیا تھا۔
  • سیکورٹی فورسز کی اس کاروائی کے خلاف 17 اپریل کو وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھنے کے بعد انتظامیہ نے مزید احتجاجی خدشوں کے پیش نظر تمام کالجوں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں مسلسل ایک ہفتے تک معطل رکھیں۔
  • گذشتہ ہفتے کے دوران جہاں کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) نے بھی درس و تدریس کی سرگرمیاں معطل رکھیں، وہیں دونوں یونیورسٹیوں نے 20 اپریل سے امتحانات لینے کا سلسلہ شیڈول کے مطابق جاری رکھا۔
  • موصولہ اطلاعات کے مطابق قریب ایک ہفتے تک وادی کے تمام کالجوں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں معطل رہنے کے بعد پیر کو بحال ہوگئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق سبھی کالجوں میں طلباء کی اچھی خاصی حاضری ریکارڈ کی گئی۔

تازہ ترین تصاویر