تمام تر نامساعد حالات کے باوجود وادی کشمیر میں مذہبی بھائی چارہ ابھی ہے باقی ، یہ ہے تازہ مثال

Jan 04, 2018 11:35 PM IST
1 of 8
  • کشمیرکے نامساعد حالات کے باوجود بھی یہاں کا مذہبی بھائی چارہ متاثر نہیں ہوا ہے۔ اس کی تازہ مثال قاضی گنڈ کے لیو ڈورہ میں نمایاں ہے۔ جہاں پر فوت ہوئے ایک پنڈت جوڑے کے بچوں کی دیکھ ریکھ مقامی مسلمان کر رہے ہیں۔ تاہم ماں باپ کا سایہ چھن جانے کے بعد یہ کمسن بچے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں ، جہاں پر نہ آگے جانا کا راستہ ہے اور نا ہی پیچھے مڑنے کی گنجائش۔ ایسے میں ان بچوں کےلئے ہر گزرتا وقت مزید مشکلات لے کر آتا ہے۔

    کشمیرکے نامساعد حالات کے باوجود بھی یہاں کا مذہبی بھائی چارہ متاثر نہیں ہوا ہے۔ اس کی تازہ مثال قاضی گنڈ کے لیو ڈورہ میں نمایاں ہے۔ جہاں پر فوت ہوئے ایک پنڈت جوڑے کے بچوں کی دیکھ ریکھ مقامی مسلمان کر رہے ہیں۔ تاہم ماں باپ کا سایہ چھن جانے کے بعد یہ کمسن بچے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں ، جہاں پر نہ آگے جانا کا راستہ ہے اور نا ہی پیچھے مڑنے کی گنجائش۔ ایسے میں ان بچوں کےلئے ہر گزرتا وقت مزید مشکلات لے کر آتا ہے۔

  • کہتے ہیں کہ وقت کی مار سب سے زیادہ بے رحم ہوتی ہے۔ کل تک اننت ناگ کےلیوڈورہ قاضی گنڈ میں رہائش پزیرمہاراج کرشن کول کا واحد پنڈت کنبہ ایک خوشحال گھر تھا،  لیکن گزشتہ سال مہاراج کرشن اور ٹھیک ایک سال کے بعد انکی اہلیہ نینسی کول کی موت نے اس ہنستے کھیلتے گھر کو صحرا میں تبدیل کر دیا۔

    کہتے ہیں کہ وقت کی مار سب سے زیادہ بے رحم ہوتی ہے۔ کل تک اننت ناگ کےلیوڈورہ قاضی گنڈ میں رہائش پزیرمہاراج کرشن کول کا واحد پنڈت کنبہ ایک خوشحال گھر تھا، لیکن گزشتہ سال مہاراج کرشن اور ٹھیک ایک سال کے بعد انکی اہلیہ نینسی کول کی موت نے اس ہنستے کھیلتے گھر کو صحرا میں تبدیل کر دیا۔

  •  فوت شدہ اس پنڈت جوڑے کےچار کمسن بچے اب مصیبت اور بے بسی کی مار جیل رہے ہیں، کیونکہ ان کے گھر کی واحد کماؤ نینسی کول بھی اب ان کے ساتھ نہیں ہے۔

    فوت شدہ اس پنڈت جوڑے کےچار کمسن بچے اب مصیبت اور بے بسی کی مار جیل رہے ہیں، کیونکہ ان کے گھر کی واحد کماؤ نینسی کول بھی اب ان کے ساتھ نہیں ہے۔

  • اگرچہ مقامی مسلمانوں نے علاقے میں رہائش پذیر اس پنڈت کنبے کی ہمیشہ مدد کی ، لیکن والدین کا ساتھ کھونےکے بعد یہ بچے اب تذبذب کے شکار ہیں۔

    اگرچہ مقامی مسلمانوں نے علاقے میں رہائش پذیر اس پنڈت کنبے کی ہمیشہ مدد کی ، لیکن والدین کا ساتھ کھونےکے بعد یہ بچے اب تذبذب کے شکار ہیں۔

  • ایک جانب کچھ رشتہ دار ان کو جموں جانے کی صلاح دے رہے ہیں تو دوسری جانب یہ بچے گاؤں والوں کے بھروسے اپنے گھر کو چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ ایسے میں ان کی نظریں اب سرکار اور متعلقین پرٹکی ہوئی ہیں۔

    ایک جانب کچھ رشتہ دار ان کو جموں جانے کی صلاح دے رہے ہیں تو دوسری جانب یہ بچے گاؤں والوں کے بھروسے اپنے گھر کو چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ ایسے میں ان کی نظریں اب سرکار اور متعلقین پرٹکی ہوئی ہیں۔

  • پنڈت جوڑے کی موت کے وقت جہاں مقامی آبادی نے پھر ایک بار کشمیریت اور مذہبی بھائی چارے کی مثال کو تازہ کیا، وہیں یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کمسن بچے اپنے ہی گھر میں اپنے ہی لوگوں کے بیچ رہے۔

    پنڈت جوڑے کی موت کے وقت جہاں مقامی آبادی نے پھر ایک بار کشمیریت اور مذہبی بھائی چارے کی مثال کو تازہ کیا، وہیں یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کمسن بچے اپنے ہی گھر میں اپنے ہی لوگوں کے بیچ رہے۔

  • لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی ماں نے گاؤں والوں سے یہ وعدہ لیا تھا کہ ان کی پرورش اور دیکھ بال اپنے ہی علاقے میں کی جائے۔ لیکن بچوں کی کمسنی کی حالت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگرچہ ہندو ومسلم کے دونوں فرقے ان کی مدد کےلئے آگے آ رہے ہیں ، لیکن ساتھ ہی موجودہ حکومت سے بھی بچوں کے بہتر مستقبل کی گہار لگائی جا رہی ہے۔

    لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی ماں نے گاؤں والوں سے یہ وعدہ لیا تھا کہ ان کی پرورش اور دیکھ بال اپنے ہی علاقے میں کی جائے۔ لیکن بچوں کی کمسنی کی حالت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگرچہ ہندو ومسلم کے دونوں فرقے ان کی مدد کےلئے آگے آ رہے ہیں ، لیکن ساتھ ہی موجودہ حکومت سے بھی بچوں کے بہتر مستقبل کی گہار لگائی جا رہی ہے۔

  •  واضح رہےکہ ماہراج کرشن نے اس وقت کشمیر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا جب گاؤں کے دیگر پنڈت گھرانے 1990 میں وادی سے ہجرت کر گئے۔ لیکن آج تک گاؤں کی برادری کے بے لوث پیار کی وجہ سے مہاراج کرشن کو اپنے فرقے کے لوگوں کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ ایسے میں ان کے کمسن بچے بھی والدین کے نقش   قدم پر چل کر اپنے آبائی وطن میں ہی اپنے لوگوں کے بیچ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

    واضح رہےکہ ماہراج کرشن نے اس وقت کشمیر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا جب گاؤں کے دیگر پنڈت گھرانے 1990 میں وادی سے ہجرت کر گئے۔ لیکن آج تک گاؤں کی برادری کے بے لوث پیار کی وجہ سے مہاراج کرشن کو اپنے فرقے کے لوگوں کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ ایسے میں ان کے کمسن بچے بھی والدین کے نقش قدم پر چل کر اپنے آبائی وطن میں ہی اپنے لوگوں کے بیچ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

  • کہتے ہیں کہ وقت کی مار سب سے زیادہ بے رحم ہوتی ہے۔ کل تک اننت ناگ کےلیوڈورہ قاضی گنڈ میں رہائش پزیرمہاراج کرشن کول کا واحد پنڈت کنبہ ایک خوشحال گھر تھا،  لیکن گزشتہ سال مہاراج کرشن اور ٹھیک ایک سال کے بعد انکی اہلیہ نینسی کول کی موت نے اس ہنستے کھیلتے گھر کو صحرا میں تبدیل کر دیا۔
  •  فوت شدہ اس پنڈت جوڑے کےچار کمسن بچے اب مصیبت اور بے بسی کی مار جیل رہے ہیں، کیونکہ ان کے گھر کی واحد کماؤ نینسی کول بھی اب ان کے ساتھ نہیں ہے۔
  • اگرچہ مقامی مسلمانوں نے علاقے میں رہائش پذیر اس پنڈت کنبے کی ہمیشہ مدد کی ، لیکن والدین کا ساتھ کھونےکے بعد یہ بچے اب تذبذب کے شکار ہیں۔
  • ایک جانب کچھ رشتہ دار ان کو جموں جانے کی صلاح دے رہے ہیں تو دوسری جانب یہ بچے گاؤں والوں کے بھروسے اپنے گھر کو چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ ایسے میں ان کی نظریں اب سرکار اور متعلقین پرٹکی ہوئی ہیں۔
  • پنڈت جوڑے کی موت کے وقت جہاں مقامی آبادی نے پھر ایک بار کشمیریت اور مذہبی بھائی چارے کی مثال کو تازہ کیا، وہیں یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کمسن بچے اپنے ہی گھر میں اپنے ہی لوگوں کے بیچ رہے۔
  • لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی ماں نے گاؤں والوں سے یہ وعدہ لیا تھا کہ ان کی پرورش اور دیکھ بال اپنے ہی علاقے میں کی جائے۔ لیکن بچوں کی کمسنی کی حالت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگرچہ ہندو ومسلم کے دونوں فرقے ان کی مدد کےلئے آگے آ رہے ہیں ، لیکن ساتھ ہی موجودہ حکومت سے بھی بچوں کے بہتر مستقبل کی گہار لگائی جا رہی ہے۔
  •  واضح رہےکہ ماہراج کرشن نے اس وقت کشمیر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا جب گاؤں کے دیگر پنڈت گھرانے 1990 میں وادی سے ہجرت کر گئے۔ لیکن آج تک گاؤں کی برادری کے بے لوث پیار کی وجہ سے مہاراج کرشن کو اپنے فرقے کے لوگوں کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ ایسے میں ان کے کمسن بچے بھی والدین کے نقش   قدم پر چل کر اپنے آبائی وطن میں ہی اپنے لوگوں کے بیچ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

تازہ ترین تصاویر