دفعہ 35 اے کے خلاف مبینہ سازشیں: کشمیر میں ہڑتال، سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں

Aug 12, 2017 04:41 PM IST
1 of 10
  • ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کے خلاف رچی جارہی مبینہ سازشوں کے خلاف وادی کشمیر کے دس اضلاع اورجموں کے خطہ چناب و پیرپنچال کے بعض حصوں میں ہفتہ کو مثالی ہڑتال رہی جس سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ ہڑتال کے دوران کشمیر انتظامیہ نے ریاست کی گرمائی دارالحکومت سری نگر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کئے رکھیں۔

    ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کے خلاف رچی جارہی مبینہ سازشوں کے خلاف وادی کشمیر کے دس اضلاع اورجموں کے خطہ چناب و پیرپنچال کے بعض حصوں میں ہفتہ کو مثالی ہڑتال رہی جس سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ ہڑتال کے دوران کشمیر انتظامیہ نے ریاست کی گرمائی دارالحکومت سری نگر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کئے رکھیں۔

  • ہڑتال کی کال کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی جبکہ دیگر علیحدگی پسند جماعتوں، ممبر اسمبلی انجینئر شیخ عبدالرشید کی سربراہی والی عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) اور چند ایک تجارتی انجمنوں بالخصوص کشمیر اکنامک الائنس اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرس فیڈریشن نے اس ہڑتالی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے پیش نظر ہفتہ کو وادی بھر میں ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔

    ہڑتال کی کال کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی جبکہ دیگر علیحدگی پسند جماعتوں، ممبر اسمبلی انجینئر شیخ عبدالرشید کی سربراہی والی عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) اور چند ایک تجارتی انجمنوں بالخصوص کشمیر اکنامک الائنس اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرس فیڈریشن نے اس ہڑتالی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے پیش نظر ہفتہ کو وادی بھر میں ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔

  • وادی کے دس اضلاع اور جموں کے خطہ چناب و پیرپنچال کے بعض حصوں سے مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ہڑتال کے دوران جہاں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں، وہیں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمدورفت کلی طور پر معطل رہیں۔ تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔ واضح رہے کہ سال 2014 میں ’وی دی سٹیزنس‘نامی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں دفعہ 35A کو چیلنج کیا گیا ۔ گذشتہ ہفتے پٹیشن پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت میں دفعہ35 اے کے موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر وسیع بحث چاہتی ہے۔

    وادی کے دس اضلاع اور جموں کے خطہ چناب و پیرپنچال کے بعض حصوں سے مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ہڑتال کے دوران جہاں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں، وہیں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمدورفت کلی طور پر معطل رہیں۔ تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔ واضح رہے کہ سال 2014 میں ’وی دی سٹیزنس‘نامی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں دفعہ 35A کو چیلنج کیا گیا ۔ گذشتہ ہفتے پٹیشن پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت میں دفعہ35 اے کے موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر وسیع بحث چاہتی ہے۔

  • انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے دفعہ 35 اے کا معاملہ سہ رکنی بینچ کو منتقل کرتے ہوئے اس کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کو چھ ہفتوں کے اندر نپٹانے کا حکم جاری کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35 اے دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے دفعہ 35 اے کا معاملہ سہ رکنی بینچ کو منتقل کرتے ہوئے اس کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کو چھ ہفتوں کے اندر نپٹانے کا حکم جاری کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35 اے دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔

  • بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رْو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔ 10 اکتوبر 2015 کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ 370 کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ دفعہ (35 اے ) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے‘۔

    بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رْو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔ 10 اکتوبر 2015 کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ 370 کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ دفعہ (35 اے ) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے‘۔

  • دفعہ 35 اے کا دفاع کرنے کے لئے جہاں جموں وکشمیر میں تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بشمول نیشنل کانفرنس اور کانگریس متحد ہوگئی ہیں، وہیں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مرکزی قیادت سے کہا ہے کہ دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    دفعہ 35 اے کا دفاع کرنے کے لئے جہاں جموں وکشمیر میں تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بشمول نیشنل کانفرنس اور کانگریس متحد ہوگئی ہیں، وہیں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مرکزی قیادت سے کہا ہے کہ دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  •  محترمہ مفتی نے گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں ایک سمینار میں دفعہ 35 اے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو جموں وکشمیر میں ترنگے کو تھامنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ علیحدگی پسند قیادت مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے آئین کی دفعہ 35 اے کے خلاف کی جارہی مبینہ سازشوں کے خلاف یہ کہتے ہوئے 12 اگست کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی کال دی تھی، کہ ریاست میں لاگو اسٹیٹ سبجیکٹ قانون سے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی گئی تو کشمیری اس کے دفاع کے لئے اپنے لہو کی قربانیاں دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

    محترمہ مفتی نے گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں ایک سمینار میں دفعہ 35 اے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو جموں وکشمیر میں ترنگے کو تھامنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ علیحدگی پسند قیادت مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے آئین کی دفعہ 35 اے کے خلاف کی جارہی مبینہ سازشوں کے خلاف یہ کہتے ہوئے 12 اگست کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی کال دی تھی، کہ ریاست میں لاگو اسٹیٹ سبجیکٹ قانون سے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی گئی تو کشمیری اس کے دفاع کے لئے اپنے لہو کی قربانیاں دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

  • انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں بشمول خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج اور رعناواری میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں‘۔تاہم اس دعوے کے برخلاف پائین شہر کے ان علاقوں کی زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ان علاقوں میں پابندیوں کو سختی نافذ کرانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات رہے۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے ہفتہ کی صبح پائین شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ پابندی والے علاقوں میں تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا۔

    انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں بشمول خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج اور رعناواری میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں‘۔تاہم اس دعوے کے برخلاف پائین شہر کے ان علاقوں کی زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ان علاقوں میں پابندیوں کو سختی نافذ کرانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات رہے۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے ہفتہ کی صبح پائین شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ پابندی والے علاقوں میں تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا۔

  • نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے نامہ نگار کو بتایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ تاہم صفا کدل اور عیدگاہ کے راستے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑکوں کو بیماروں اور تیمارداروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔

    نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے نامہ نگار کو بتایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ تاہم صفا کدل اور عیدگاہ کے راستے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑکوں کو بیماروں اور تیمارداروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔

  • جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔

    جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔

  • ہڑتال کی کال کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی جبکہ دیگر علیحدگی پسند جماعتوں، ممبر اسمبلی انجینئر شیخ عبدالرشید کی سربراہی والی عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) اور چند ایک تجارتی انجمنوں بالخصوص کشمیر اکنامک الائنس اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرس فیڈریشن نے اس ہڑتالی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے پیش نظر ہفتہ کو وادی بھر میں ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔
  • وادی کے دس اضلاع اور جموں کے خطہ چناب و پیرپنچال کے بعض حصوں سے مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ہڑتال کے دوران جہاں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں، وہیں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمدورفت کلی طور پر معطل رہیں۔ تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔ واضح رہے کہ سال 2014 میں ’وی دی سٹیزنس‘نامی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں دفعہ 35A کو چیلنج کیا گیا ۔ گذشتہ ہفتے پٹیشن پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت میں دفعہ35 اے کے موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر وسیع بحث چاہتی ہے۔
  • انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے دفعہ 35 اے کا معاملہ سہ رکنی بینچ کو منتقل کرتے ہوئے اس کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کو چھ ہفتوں کے اندر نپٹانے کا حکم جاری کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35 اے دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔
  • بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رْو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔ 10 اکتوبر 2015 کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ 370 کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ دفعہ (35 اے ) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے‘۔
  • دفعہ 35 اے کا دفاع کرنے کے لئے جہاں جموں وکشمیر میں تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بشمول نیشنل کانفرنس اور کانگریس متحد ہوگئی ہیں، وہیں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مرکزی قیادت سے کہا ہے کہ دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
  •  محترمہ مفتی نے گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں ایک سمینار میں دفعہ 35 اے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو جموں وکشمیر میں ترنگے کو تھامنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ علیحدگی پسند قیادت مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے آئین کی دفعہ 35 اے کے خلاف کی جارہی مبینہ سازشوں کے خلاف یہ کہتے ہوئے 12 اگست کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی کال دی تھی، کہ ریاست میں لاگو اسٹیٹ سبجیکٹ قانون سے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی گئی تو کشمیری اس کے دفاع کے لئے اپنے لہو کی قربانیاں دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
  • انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں بشمول خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج اور رعناواری میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں‘۔تاہم اس دعوے کے برخلاف پائین شہر کے ان علاقوں کی زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ان علاقوں میں پابندیوں کو سختی نافذ کرانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات رہے۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے ہفتہ کی صبح پائین شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ پابندی والے علاقوں میں تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا۔
  • نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے نامہ نگار کو بتایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ تاہم صفا کدل اور عیدگاہ کے راستے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑکوں کو بیماروں اور تیمارداروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔
  • جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔

تازہ ترین تصاویر