مسلمان عائلی مسائل میں عدالت کے بجائے علما سے رجوع کریں: عید الفطر کے موقع پر مولانا سیف اللہ کا خطاب

Jun 27, 2017 01:44 PM IST
1 of 9
  • مولانا ڈاکٹر سیف اللہ شیخ الادب جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے کہا ہے کہ قرآن مجید رمضان المبارک کا تحفہ ہے جسے اس ماہ مقدس میں شب قدر میں حضورﷺپر نازل فرمایا گیا ۔شب قدر کی بڑی فضیلت آئی ہے۔اس سے بڑی کوئی رات نہیں ہے۔اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو یہ بہترین تحفہ دیا ہے لیکن ہم نے آج قرآن مجید کو چھوڑدیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر نوجوانوں کے ہاتھوں میں موبائیل کی جگہ قرآن مجید ہوتا تو اغیا ر ہمارے ہاتھ چومتے ۔ مولانا ڈاکٹر سیف اللہ نے عیدالفطر کے موقع پر شہر حیدرآباد کی عیدگاہ میرعالم میں فضائل عید الفطر بیان کرتے ہوئے یہ بات کہی جہاں فرزندان توحید کا سب سے بڑا اجتماع عید کے موقع پردیکھا گیا۔

    مولانا ڈاکٹر سیف اللہ شیخ الادب جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے کہا ہے کہ قرآن مجید رمضان المبارک کا تحفہ ہے جسے اس ماہ مقدس میں شب قدر میں حضورﷺپر نازل فرمایا گیا ۔شب قدر کی بڑی فضیلت آئی ہے۔اس سے بڑی کوئی رات نہیں ہے۔اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو یہ بہترین تحفہ دیا ہے لیکن ہم نے آج قرآن مجید کو چھوڑدیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر نوجوانوں کے ہاتھوں میں موبائیل کی جگہ قرآن مجید ہوتا تو اغیا ر ہمارے ہاتھ چومتے ۔ مولانا ڈاکٹر سیف اللہ نے عیدالفطر کے موقع پر شہر حیدرآباد کی عیدگاہ میرعالم میں فضائل عید الفطر بیان کرتے ہوئے یہ بات کہی جہاں فرزندان توحید کا سب سے بڑا اجتماع عید کے موقع پردیکھا گیا۔

  • مولاناڈاکٹر سیف اللہ نے نوجوانوں اور ان کے کردار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان صبح اٹھتے ہی قرآن مجید کے بجائے واٹس اپ پریہ دیکھتا ہے کہ کون آن لائن ہے اور اسے کیا کیا پیامات وصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنے دلوں میں خدا اورحُب رسول ﷺکو بٹھائیں ۔مولانا سیف اللہ نے کہا کہ آج کل یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہمارے نوجوان اغیار کی طرح اپنا حلیہ بنارہے ہیں۔ ایک طرف جہاں علما کی طرف سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ نوجوان نسل کے دلوں میں حُب رسول کو بٹھایا جائے تو دوسری طرف نوجوان نسل فیشن ایبل لباس اختیار کرتے ہوئے دین سے دوری اختیار کر رہی ہے۔

    مولاناڈاکٹر سیف اللہ نے نوجوانوں اور ان کے کردار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان صبح اٹھتے ہی قرآن مجید کے بجائے واٹس اپ پریہ دیکھتا ہے کہ کون آن لائن ہے اور اسے کیا کیا پیامات وصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنے دلوں میں خدا اورحُب رسول ﷺکو بٹھائیں ۔مولانا سیف اللہ نے کہا کہ آج کل یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہمارے نوجوان اغیار کی طرح اپنا حلیہ بنارہے ہیں۔ ایک طرف جہاں علما کی طرف سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ نوجوان نسل کے دلوں میں حُب رسول کو بٹھایا جائے تو دوسری طرف نوجوان نسل فیشن ایبل لباس اختیار کرتے ہوئے دین سے دوری اختیار کر رہی ہے۔

  • انہوں نے نوجوانوں کی جانب سے اختیار کئے جانے والے رویہ اور فیشن ایبل لباس پر شدید نکتہ چینی کی ۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ رمضان کی طرح بقیہ دنوں میں بھی عبادات کا اہتمام کریں کیونکہ یہ دیکھاجاتا ہے کہ رمضان المبارک کے اختتام کے بعد مساجد ویران ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گناہ الگ چیز ہے اور اقرار گناہ اس سے بدتر چیز ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی اس قوم کو نہیں بدلتا جس کو خود اپنے بدلنے کی فکر نہ ہو۔

    انہوں نے نوجوانوں کی جانب سے اختیار کئے جانے والے رویہ اور فیشن ایبل لباس پر شدید نکتہ چینی کی ۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ رمضان کی طرح بقیہ دنوں میں بھی عبادات کا اہتمام کریں کیونکہ یہ دیکھاجاتا ہے کہ رمضان المبارک کے اختتام کے بعد مساجد ویران ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گناہ الگ چیز ہے اور اقرار گناہ اس سے بدتر چیز ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی اس قوم کو نہیں بدلتا جس کو خود اپنے بدلنے کی فکر نہ ہو۔

  • انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ مسلمان دیگر اقوام کی ٹھوکروں میں ہیں۔ انہوں نے دوٹو ک انداز میں واضح کیا کہ مسلمان اپنے عائلی مسائل کو عدالتوں کے بجائے گھروں میں حل کریں۔ اس کے لئے علما سے بھی ان مسائل کو رجوع کیا جاسکتا ہے۔اس کے لئے عدالتوں میں جانے سے گریز کیا جائے ۔ہم کو چاہئے کہ ہمارے مسائل ہم خود حل کریں ۔انہوں نے کہاکہ پرسنل لا اسلامی قانون ہے ۔اس میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا ۔

    انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ مسلمان دیگر اقوام کی ٹھوکروں میں ہیں۔ انہوں نے دوٹو ک انداز میں واضح کیا کہ مسلمان اپنے عائلی مسائل کو عدالتوں کے بجائے گھروں میں حل کریں۔ اس کے لئے علما سے بھی ان مسائل کو رجوع کیا جاسکتا ہے۔اس کے لئے عدالتوں میں جانے سے گریز کیا جائے ۔ہم کو چاہئے کہ ہمارے مسائل ہم خود حل کریں ۔انہوں نے کہاکہ پرسنل لا اسلامی قانون ہے ۔اس میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا ۔

  • انہوں نے کہا کہ ماضی میں قرآن مجید کو مٹانے کی لاکھ کوششیں کی گئیں لیکن ایسی کوششیں کرنے والوں کو اس میں ناکامی کاسامنا کرناپڑا کیونکہ قرآن مجید کے تحفظ کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے لی ہے اور آج قرآن مجید مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں قرآن مجید کو مٹانے کی لاکھ کوششیں کی گئیں لیکن ایسی کوششیں کرنے والوں کو اس میں ناکامی کاسامنا کرناپڑا کیونکہ قرآن مجید کے تحفظ کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے لی ہے اور آج قرآن مجید مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ ہے ۔

  • انہوں نے گئو کشی کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بڑے جانور کے گوشت کوبرآمد کرنے والی کمپنیوں پرپابندی لگائی جائے ۔مولانا نے گئو رکشکوں کی حرکتوں کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی اور کہا کہ گئو رکشکوں کی جانب سے مختلف مقامات پرحملوں کے واقعات کے ذریعہ مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو بالکل نامناسب ہے۔

    انہوں نے گئو کشی کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بڑے جانور کے گوشت کوبرآمد کرنے والی کمپنیوں پرپابندی لگائی جائے ۔مولانا نے گئو رکشکوں کی حرکتوں کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی اور کہا کہ گئو رکشکوں کی جانب سے مختلف مقامات پرحملوں کے واقعات کے ذریعہ مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو بالکل نامناسب ہے۔

  • انہوں نے کہا کہ رمضان کی عید کی نماز دراصل روزوں کے بعد اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ہے۔ یہ اللہ تعالی کی بڑائی ہے۔ہمیں اپنی خوشیوں میں اپنے بھائیوں کو بھی شریک کرناچاہئے۔ صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے دینا افضل ہے۔غریبوں کا خیال رکھتے ہوئے ہمیں صدقہ فطر نکالنا چاہئے اوراس کے لئے مستحق کو تلاش کرنا چاہئے۔ انہوں نے عالمانہ انداز میں تشریح کرتے ہوئے سماج کے موجودہ حالات اور اس کی بُرائیوں کا بھرپوراحاطہ کیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ دین پر چلیں اور اپنے میں دینی مزاج پیداکریں۔

    انہوں نے کہا کہ رمضان کی عید کی نماز دراصل روزوں کے بعد اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ہے۔ یہ اللہ تعالی کی بڑائی ہے۔ہمیں اپنی خوشیوں میں اپنے بھائیوں کو بھی شریک کرناچاہئے۔ صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے دینا افضل ہے۔غریبوں کا خیال رکھتے ہوئے ہمیں صدقہ فطر نکالنا چاہئے اوراس کے لئے مستحق کو تلاش کرنا چاہئے۔ انہوں نے عالمانہ انداز میں تشریح کرتے ہوئے سماج کے موجودہ حالات اور اس کی بُرائیوں کا بھرپوراحاطہ کیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ دین پر چلیں اور اپنے میں دینی مزاج پیداکریں۔

  • اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے امیر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھراپردیش ورکن مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا حسام الدین ثانی عامل جعفرپاشاہ نے مسلمانوں کو آپس میں اتحاد واتفاق پیداکرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے اتحاد کامظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کے ماننے والے بن کر پیارے رسول ﷺکے احکامات کو اپنے گھروں میں نافذ کریں۔

    اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے امیر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھراپردیش ورکن مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا حسام الدین ثانی عامل جعفرپاشاہ نے مسلمانوں کو آپس میں اتحاد واتفاق پیداکرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے اتحاد کامظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کے ماننے والے بن کر پیارے رسول ﷺکے احکامات کو اپنے گھروں میں نافذ کریں۔

  • انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے اتحاد کا وقت آگیا ہے۔ ہم کواپنے گھروں سے اختلافات کا خاتمہ کرناچاہئے ۔ ایک دوسرے سے محبت قائم کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے پاکی اختیا ر کی۔ہم کپڑوں کی پاکی کے ساتھ قلب کی صفائی کا بھی کام کریں۔

    انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے اتحاد کا وقت آگیا ہے۔ ہم کواپنے گھروں سے اختلافات کا خاتمہ کرناچاہئے ۔ ایک دوسرے سے محبت قائم کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے پاکی اختیا ر کی۔ہم کپڑوں کی پاکی کے ساتھ قلب کی صفائی کا بھی کام کریں۔

  • مولاناڈاکٹر سیف اللہ نے نوجوانوں اور ان کے کردار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان صبح اٹھتے ہی قرآن مجید کے بجائے واٹس اپ پریہ دیکھتا ہے کہ کون آن لائن ہے اور اسے کیا کیا پیامات وصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنے دلوں میں خدا اورحُب رسول ﷺکو بٹھائیں ۔مولانا سیف اللہ نے کہا کہ آج کل یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہمارے نوجوان اغیار کی طرح اپنا حلیہ بنارہے ہیں۔ ایک طرف جہاں علما کی طرف سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ نوجوان نسل کے دلوں میں حُب رسول کو بٹھایا جائے تو دوسری طرف نوجوان نسل فیشن ایبل لباس اختیار کرتے ہوئے دین سے دوری اختیار کر رہی ہے۔
  • انہوں نے نوجوانوں کی جانب سے اختیار کئے جانے والے رویہ اور فیشن ایبل لباس پر شدید نکتہ چینی کی ۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ رمضان کی طرح بقیہ دنوں میں بھی عبادات کا اہتمام کریں کیونکہ یہ دیکھاجاتا ہے کہ رمضان المبارک کے اختتام کے بعد مساجد ویران ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گناہ الگ چیز ہے اور اقرار گناہ اس سے بدتر چیز ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی اس قوم کو نہیں بدلتا جس کو خود اپنے بدلنے کی فکر نہ ہو۔
  • انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ مسلمان دیگر اقوام کی ٹھوکروں میں ہیں۔ انہوں نے دوٹو ک انداز میں واضح کیا کہ مسلمان اپنے عائلی مسائل کو عدالتوں کے بجائے گھروں میں حل کریں۔ اس کے لئے علما سے بھی ان مسائل کو رجوع کیا جاسکتا ہے۔اس کے لئے عدالتوں میں جانے سے گریز کیا جائے ۔ہم کو چاہئے کہ ہمارے مسائل ہم خود حل کریں ۔انہوں نے کہاکہ پرسنل لا اسلامی قانون ہے ۔اس میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا ۔
  • انہوں نے کہا کہ ماضی میں قرآن مجید کو مٹانے کی لاکھ کوششیں کی گئیں لیکن ایسی کوششیں کرنے والوں کو اس میں ناکامی کاسامنا کرناپڑا کیونکہ قرآن مجید کے تحفظ کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے لی ہے اور آج قرآن مجید مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ ہے ۔
  • انہوں نے گئو کشی کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بڑے جانور کے گوشت کوبرآمد کرنے والی کمپنیوں پرپابندی لگائی جائے ۔مولانا نے گئو رکشکوں کی حرکتوں کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی اور کہا کہ گئو رکشکوں کی جانب سے مختلف مقامات پرحملوں کے واقعات کے ذریعہ مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو بالکل نامناسب ہے۔
  • انہوں نے کہا کہ رمضان کی عید کی نماز دراصل روزوں کے بعد اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ہے۔ یہ اللہ تعالی کی بڑائی ہے۔ہمیں اپنی خوشیوں میں اپنے بھائیوں کو بھی شریک کرناچاہئے۔ صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے دینا افضل ہے۔غریبوں کا خیال رکھتے ہوئے ہمیں صدقہ فطر نکالنا چاہئے اوراس کے لئے مستحق کو تلاش کرنا چاہئے۔ انہوں نے عالمانہ انداز میں تشریح کرتے ہوئے سماج کے موجودہ حالات اور اس کی بُرائیوں کا بھرپوراحاطہ کیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ دین پر چلیں اور اپنے میں دینی مزاج پیداکریں۔
  • اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے امیر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھراپردیش ورکن مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا حسام الدین ثانی عامل جعفرپاشاہ نے مسلمانوں کو آپس میں اتحاد واتفاق پیداکرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے اتحاد کامظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کے ماننے والے بن کر پیارے رسول ﷺکے احکامات کو اپنے گھروں میں نافذ کریں۔
  • انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے اتحاد کا وقت آگیا ہے۔ ہم کواپنے گھروں سے اختلافات کا خاتمہ کرناچاہئے ۔ ایک دوسرے سے محبت قائم کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے پاکی اختیا ر کی۔ہم کپڑوں کی پاکی کے ساتھ قلب کی صفائی کا بھی کام کریں۔

تازہ ترین تصاویر