جموں وکشمیر: عیدالاضحی کی تیاریاں شباب پر، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

Aug 30, 2017 06:53 PM IST
1 of 10
  • عیدالاضحی (عید قربان) قریب آنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر کے تمام بازاروں میں گاہکوں کا رش بڑھ گیا ہے۔ سب سے زیادہ رش مویشی منڈیوں میں دیکھا جارہا ہے جہاں لوگ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ بیکری ، مٹھائی، مٹن ، چکن ، دودھ، سبزی، ریڈی میڈ گارمنٹس اور کریانہ کی دکانوں پر بھی گاہکوں کا رش بڑھنے لگا ہے۔

    عیدالاضحی (عید قربان) قریب آنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر کے تمام بازاروں میں گاہکوں کا رش بڑھ گیا ہے۔ سب سے زیادہ رش مویشی منڈیوں میں دیکھا جارہا ہے جہاں لوگ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ بیکری ، مٹھائی، مٹن ، چکن ، دودھ، سبزی، ریڈی میڈ گارمنٹس اور کریانہ کی دکانوں پر بھی گاہکوں کا رش بڑھنے لگا ہے۔

  •  تاریخی عید گاہ، پارمپورہ اور نمائش گاہ کے نزدیک شہریوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانور خریدنے میں مصروف ہے۔

    تاریخی عید گاہ، پارمپورہ اور نمائش گاہ کے نزدیک شہریوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانور خریدنے میں مصروف ہے۔

  •  عیدگاہ اور پارمپورہ میں لگنے والی مویشی منڈیوں میں بھیڑ اور بکریوں کے علاوہ صحرائی جہاز کہلائے جانے والے اونٹوں کو بھی فروخت کے لئے رکھا گیا ہے۔  فی اونٹ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے درمیان فروخت کیا جارہا ہے۔

    عیدگاہ اور پارمپورہ میں لگنے والی مویشی منڈیوں میں بھیڑ اور بکریوں کے علاوہ صحرائی جہاز کہلائے جانے والے اونٹوں کو بھی فروخت کے لئے رکھا گیا ہے۔ فی اونٹ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے درمیان فروخت کیا جارہا ہے۔

  • وادی کے مختلف اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع و تحصیل سطحوں پر لگنے والی مویشی منڈیوں میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آرہے ہیں۔

    وادی کے مختلف اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع و تحصیل سطحوں پر لگنے والی مویشی منڈیوں میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آرہے ہیں۔

  • اس دوران گاہکوں نے الزام لگایا کہ بازاروں میں گاہکوں کے رش کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

    اس دوران گاہکوں نے الزام لگایا کہ بازاروں میں گاہکوں کے رش کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

  • گاہکوں نے الزام لگایا کہ عیدالاضحی کے پیش نظر بیکری فروشوں نے بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیا ہے۔

    گاہکوں نے الزام لگایا کہ عیدالاضحی کے پیش نظر بیکری فروشوں نے بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیا ہے۔

  • انہوں نے بتایا کہ ایک سادہ کیک جو چار برس قبل 30 روپے میں فروخت کیا جاتا تھا، وہی اب 70 سے 80 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ سبزی فروشوں نے نرخ نامے بالائے طاق رکھے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ایک سادہ کیک جو چار برس قبل 30 روپے میں فروخت کیا جاتا تھا، وہی اب 70 سے 80 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ سبزی فروشوں نے نرخ نامے بالائے طاق رکھے ہیں۔

  • اکثر گاہکوں نے بتایا ’بیکری مصنوعات کے کوئی نرخ ہی مقرر نہیں کئے گئے ہیں جن کی قیمتوں میں گذشتہ چند برسوں کے دوران بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے۔

    اکثر گاہکوں نے بتایا ’بیکری مصنوعات کے کوئی نرخ ہی مقرر نہیں کئے گئے ہیں جن کی قیمتوں میں گذشتہ چند برسوں کے دوران بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے۔

  • ایک معمولی کیک جو پہلے 30 روپے میں فروخت کیا جارہا تھا، اب 60 سے لیکر 70 روپے میں فروخت کیاجارہا ہے جبکہ بسکٹ جو چند برس پہلے 170 سے 180 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا تھا، اب 300 سے لیکر 400 فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔

    ایک معمولی کیک جو پہلے 30 روپے میں فروخت کیا جارہا تھا، اب 60 سے لیکر 70 روپے میں فروخت کیاجارہا ہے جبکہ بسکٹ جو چند برس پہلے 170 سے 180 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا تھا، اب 300 سے لیکر 400 فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔

  • ایک سادہ ڈبل روٹی جو چند برس پہلے 10 سے لیکر 12 میں فروخت کی جارہی تھی اب30 سے لیکر 40 روپے میں فروخت کی جارہی ہے‘۔

    ایک سادہ ڈبل روٹی جو چند برس پہلے 10 سے لیکر 12 میں فروخت کی جارہی تھی اب30 سے لیکر 40 روپے میں فروخت کی جارہی ہے‘۔

  •  تاریخی عید گاہ، پارمپورہ اور نمائش گاہ کے نزدیک شہریوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانور خریدنے میں مصروف ہے۔
  •  عیدگاہ اور پارمپورہ میں لگنے والی مویشی منڈیوں میں بھیڑ اور بکریوں کے علاوہ صحرائی جہاز کہلائے جانے والے اونٹوں کو بھی فروخت کے لئے رکھا گیا ہے۔  فی اونٹ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے درمیان فروخت کیا جارہا ہے۔
  • وادی کے مختلف اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع و تحصیل سطحوں پر لگنے والی مویشی منڈیوں میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آرہے ہیں۔
  • اس دوران گاہکوں نے الزام لگایا کہ بازاروں میں گاہکوں کے رش کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔
  • گاہکوں نے الزام لگایا کہ عیدالاضحی کے پیش نظر بیکری فروشوں نے بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیا ہے۔
  • انہوں نے بتایا کہ ایک سادہ کیک جو چار برس قبل 30 روپے میں فروخت کیا جاتا تھا، وہی اب 70 سے 80 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ سبزی فروشوں نے نرخ نامے بالائے طاق رکھے ہیں۔
  • اکثر گاہکوں نے بتایا ’بیکری مصنوعات کے کوئی نرخ ہی مقرر نہیں کئے گئے ہیں جن کی قیمتوں میں گذشتہ چند برسوں کے دوران بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے۔
  • ایک معمولی کیک جو پہلے 30 روپے میں فروخت کیا جارہا تھا، اب 60 سے لیکر 70 روپے میں فروخت کیاجارہا ہے جبکہ بسکٹ جو چند برس پہلے 170 سے 180 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا تھا، اب 300 سے لیکر 400 فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔
  • ایک سادہ ڈبل روٹی جو چند برس پہلے 10 سے لیکر 12 میں فروخت کی جارہی تھی اب30 سے لیکر 40 روپے میں فروخت کی جارہی ہے‘۔

تازہ ترین تصاویر