کشمیر : 600 سالہ قدیم تاریخی زیارت گاہ خانقاہ معلی میں آتشزدگی ، عوام میں صدمے کی لہر

Nov 15, 2017 04:24 PM IST
1 of 10
  • جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر میں آتشزدگی کی ایک دلدوز واردات میں بلند پایہ ولی کامل حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی (رح) سے منسوب قریب 600 سال پرانی زیارت گاہ ’تاریخی خانقاہ معلی‘ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ خانقاہ کو ہوئے نقصان سے کشمیر کی عوام میں صدمے کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو بھڑک اٹھنے والی اس بھیانک آگ کے باعث خانقاہ کے گنبد اور اوپری منزل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم خانقاہ میں موجود سبھی تبروکات محفوظ ہیں۔ آتشزدگی کی بظاہر وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جارہی ہے۔تاہم مقامی لوگوں کی مانیں تو خانقاہ میں آگ آسمانی بجلی سے لگی ہے۔

    جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر میں آتشزدگی کی ایک دلدوز واردات میں بلند پایہ ولی کامل حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی (رح) سے منسوب قریب 600 سال پرانی زیارت گاہ ’تاریخی خانقاہ معلی‘ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ خانقاہ کو ہوئے نقصان سے کشمیر کی عوام میں صدمے کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو بھڑک اٹھنے والی اس بھیانک آگ کے باعث خانقاہ کے گنبد اور اوپری منزل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم خانقاہ میں موجود سبھی تبروکات محفوظ ہیں۔ آتشزدگی کی بظاہر وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جارہی ہے۔تاہم مقامی لوگوں کی مانیں تو خانقاہ میں آگ آسمانی بجلی سے لگی ہے۔

  • پائین شہر میں دریائے جہلم کے کنارے اور فتح کدل و زینہ کدل (پلوں) کے درمیان واقع اس صدیوں پرانی خانقاہ کے ایک منتظم نے بتایا کہ ’خانقاہ میں موجود سبھی تبروکات محفوظ ہیں۔ آگ کی اس دلدوز واردات میں گنبد اور اوپری منزل کو نقصان پہنچا ہے‘۔

    پائین شہر میں دریائے جہلم کے کنارے اور فتح کدل و زینہ کدل (پلوں) کے درمیان واقع اس صدیوں پرانی خانقاہ کے ایک منتظم نے بتایا کہ ’خانقاہ میں موجود سبھی تبروکات محفوظ ہیں۔ آگ کی اس دلدوز واردات میں گنبد اور اوپری منزل کو نقصان پہنچا ہے‘۔

  • قابل ذکر ہے کہ خانقاہ معلی مکمل طور پر لکڑی سے بنی ہوئی ہے۔ خانقاہ معلی اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے جہاں محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کی فوری کاروائی کی سراہنا کی، وہیں یہ بھی بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کے استعمال سے خانقاہ کو بڑے پیمانے کے نقصان سے بچایا جاسکتا تھا۔

    قابل ذکر ہے کہ خانقاہ معلی مکمل طور پر لکڑی سے بنی ہوئی ہے۔ خانقاہ معلی اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے جہاں محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کی فوری کاروائی کی سراہنا کی، وہیں یہ بھی بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کے استعمال سے خانقاہ کو بڑے پیمانے کے نقصان سے بچایا جاسکتا تھا۔

  •  خانقاہ میں آگ لگنے کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہاں پہنچ گئے۔جہاں لوگوں کو محکمہ فائر سروس کے اہلکاروں کی مدد میں مصروف دیکھا گیا، وہیں وہاں موجود خواتین کو دعاؤں میں مشغول دیکھا گیا۔

    خانقاہ میں آگ لگنے کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہاں پہنچ گئے۔جہاں لوگوں کو محکمہ فائر سروس کے اہلکاروں کی مدد میں مصروف دیکھا گیا، وہیں وہاں موجود خواتین کو دعاؤں میں مشغول دیکھا گیا۔

  • موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر میونسپل کارپوریشن اور مقامی لوگوں نے بدھ کی علی الصبح خانقاہ میں صفائی مہم شروع کی جو گھنٹوں تک جاری رہی۔ان اطلاعات کے مطابق نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے انتظامیہ کے عہدیداروں اور سیاستدانوں کا خانقاہ معلی میں بدھ کی صبح سے ہی تانتا بندھا رہا۔

    موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر میونسپل کارپوریشن اور مقامی لوگوں نے بدھ کی علی الصبح خانقاہ میں صفائی مہم شروع کی جو گھنٹوں تک جاری رہی۔ان اطلاعات کے مطابق نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے انتظامیہ کے عہدیداروں اور سیاستدانوں کا خانقاہ معلی میں بدھ کی صبح سے ہی تانتا بندھا رہا۔

  • اس دوران متعدد علیحدگی پسند راہنماؤں نے بھی خانقاہ کا دورہ کرکے مقامی لوگوں اور خانقاہ کے منتظمین سے بات چیت کی۔ تاریخ میں ہے کہ میر سید علی ہمدانی (رح) جنہیں وادی میں شاہ ہمدان کے نام سے جانا جاتا ہے، سے منسوب اس زیارت گاہ پر تعمیر کا کام سنہ 1389 ء میں سلطان سکندر نے شروع کرایا جو بعدازاں سنہ 1413 کو اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔

    اس دوران متعدد علیحدگی پسند راہنماؤں نے بھی خانقاہ کا دورہ کرکے مقامی لوگوں اور خانقاہ کے منتظمین سے بات چیت کی۔ تاریخ میں ہے کہ میر سید علی ہمدانی (رح) جنہیں وادی میں شاہ ہمدان کے نام سے جانا جاتا ہے، سے منسوب اس زیارت گاہ پر تعمیر کا کام سنہ 1389 ء میں سلطان سکندر نے شروع کرایا جو بعدازاں سنہ 1413 کو اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔

  • اسے بعدازاں سنہ 1732 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ حضرت میر سید علی ہمدانی (رح) چودہویں صدی میں ہمدان ایران سے کشمیر تشریف لائے تھے جہاں انہوں نے تبلیغ اسلام کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو دستکاریاں بھی سکھائیں جن سے لوگ روزگار کمانے کے قابل بن گئے تھے۔

    اسے بعدازاں سنہ 1732 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ حضرت میر سید علی ہمدانی (رح) چودہویں صدی میں ہمدان ایران سے کشمیر تشریف لائے تھے جہاں انہوں نے تبلیغ اسلام کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو دستکاریاں بھی سکھائیں جن سے لوگ روزگار کمانے کے قابل بن گئے تھے۔

  • مورخین کے مطابق حضرت امیر کبیر (رح) پہلے ولی کامل ہیں جنہوں نے وادی کشمیر کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تھی۔ حضرت امیر کبیر کا شجرہ نسب حضرت امام زین العابدین (رض) کے ذریعے پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) سے ملتا ہے۔

    مورخین کے مطابق حضرت امیر کبیر (رح) پہلے ولی کامل ہیں جنہوں نے وادی کشمیر کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تھی۔ حضرت امیر کبیر کا شجرہ نسب حضرت امام زین العابدین (رض) کے ذریعے پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) سے ملتا ہے۔

  • مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت شاہ ہمدان کشمیر اپنے 7 سو سیدوں اور پیروکاروں کے ساتھ یہاں تشریف لائے تھے جنہوں نے یہاں نہ صرف کشمیریوں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی تھی بلکہ انہیں دستکاریاں بھی سکھائی تھیں جن کے ذریعے لوگ روزگار کمانے کے قابل بن گئے تھے۔

    مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت شاہ ہمدان کشمیر اپنے 7 سو سیدوں اور پیروکاروں کے ساتھ یہاں تشریف لائے تھے جنہوں نے یہاں نہ صرف کشمیریوں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی تھی بلکہ انہیں دستکاریاں بھی سکھائی تھیں جن کے ذریعے لوگ روزگار کمانے کے قابل بن گئے تھے۔

  • میر سید علی ہمدانی (رح) سے منسوب زیارت گاہ میں آتشزدگی وادی میں کسی خانقاہ میں آگ لگنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل جون 2012 ء میں سری نگر کے خانیار علاقہ میں صوفی بزرگ سید عبدالقادر جیلانی (رح) سے منسوب زیارت گاہ میں آتشزدگی سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔ آگ کی اس پراسرار واردات کے خلاف وادی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔

    میر سید علی ہمدانی (رح) سے منسوب زیارت گاہ میں آتشزدگی وادی میں کسی خانقاہ میں آگ لگنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل جون 2012 ء میں سری نگر کے خانیار علاقہ میں صوفی بزرگ سید عبدالقادر جیلانی (رح) سے منسوب زیارت گاہ میں آتشزدگی سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔ آگ کی اس پراسرار واردات کے خلاف وادی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔

  • پائین شہر میں دریائے جہلم کے کنارے اور فتح کدل و زینہ کدل (پلوں) کے درمیان واقع اس صدیوں پرانی خانقاہ کے ایک منتظم نے بتایا کہ ’خانقاہ میں موجود سبھی تبروکات محفوظ ہیں۔ آگ کی اس دلدوز واردات میں گنبد اور اوپری منزل کو نقصان پہنچا ہے‘۔
  • قابل ذکر ہے کہ خانقاہ معلی مکمل طور پر لکڑی سے بنی ہوئی ہے۔ خانقاہ معلی اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے جہاں محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کی فوری کاروائی کی سراہنا کی، وہیں یہ بھی بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کے استعمال سے خانقاہ کو بڑے پیمانے کے نقصان سے بچایا جاسکتا تھا۔
  •  خانقاہ میں آگ لگنے کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہاں پہنچ گئے۔جہاں لوگوں کو محکمہ فائر سروس کے اہلکاروں کی مدد میں مصروف دیکھا گیا، وہیں وہاں موجود خواتین کو دعاؤں میں مشغول دیکھا گیا۔
  • موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر میونسپل کارپوریشن اور مقامی لوگوں نے بدھ کی علی الصبح خانقاہ میں صفائی مہم شروع کی جو گھنٹوں تک جاری رہی۔ان اطلاعات کے مطابق نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے انتظامیہ کے عہدیداروں اور سیاستدانوں کا خانقاہ معلی میں بدھ کی صبح سے ہی تانتا بندھا رہا۔
  • اس دوران متعدد علیحدگی پسند راہنماؤں نے بھی خانقاہ کا دورہ کرکے مقامی لوگوں اور خانقاہ کے منتظمین سے بات چیت کی۔ تاریخ میں ہے کہ میر سید علی ہمدانی (رح) جنہیں وادی میں شاہ ہمدان کے نام سے جانا جاتا ہے، سے منسوب اس زیارت گاہ پر تعمیر کا کام سنہ 1389 ء میں سلطان سکندر نے شروع کرایا جو بعدازاں سنہ 1413 کو اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔
  • اسے بعدازاں سنہ 1732 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ حضرت میر سید علی ہمدانی (رح) چودہویں صدی میں ہمدان ایران سے کشمیر تشریف لائے تھے جہاں انہوں نے تبلیغ اسلام کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو دستکاریاں بھی سکھائیں جن سے لوگ روزگار کمانے کے قابل بن گئے تھے۔
  • مورخین کے مطابق حضرت امیر کبیر (رح) پہلے ولی کامل ہیں جنہوں نے وادی کشمیر کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تھی۔ حضرت امیر کبیر کا شجرہ نسب حضرت امام زین العابدین (رض) کے ذریعے پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) سے ملتا ہے۔
  • مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت شاہ ہمدان کشمیر اپنے 7 سو سیدوں اور پیروکاروں کے ساتھ یہاں تشریف لائے تھے جنہوں نے یہاں نہ صرف کشمیریوں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی تھی بلکہ انہیں دستکاریاں بھی سکھائی تھیں جن کے ذریعے لوگ روزگار کمانے کے قابل بن گئے تھے۔
  • میر سید علی ہمدانی (رح) سے منسوب زیارت گاہ میں آتشزدگی وادی میں کسی خانقاہ میں آگ لگنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل جون 2012 ء میں سری نگر کے خانیار علاقہ میں صوفی بزرگ سید عبدالقادر جیلانی (رح) سے منسوب زیارت گاہ میں آتشزدگی سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔ آگ کی اس پراسرار واردات کے خلاف وادی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔

تازہ ترین تصاویر