غریبی بھی نہیں توڑ پائی جس کی ہمت،جھگی میں رہنے والی اس لڑکی کے ہنر کو دیکھ کر لوگ ہیں حیران

May 10, 2018 12:37 PM IST
1 of 7
  • غریبی بھی نہیں توڑ پائی جس کی ہمت،یہ ہے 21 سال کی مونلیکا دیو جو کولکاتہ کے شوبھا بازار کے پا سبنی ایک جھگی میں رہتی ہیں۔مونلیکا غریب گھر سے بھلے ہی ہیں۔لیکن ان کت خواب بیحڈ اونچے ہیں۔

    غریبی بھی نہیں توڑ پائی جس کی ہمت،یہ ہے 21 سال کی مونلیکا دیو جو کولکاتہ کے شوبھا بازار کے پا سبنی ایک جھگی میں رہتی ہیں۔مونلیکا غریب گھر سے بھلے ہی ہیں۔لیکن ان کت خواب بیحڈ اونچے ہیں۔

  • مونلیکا کولکاتہ کے جے پوریا کالج سے بنگالی زبان میں بی اے کر رہی ہیں۔مونلیکا ہندی ،اگریزی اور بنگالی جانتی ہیں۔خاص بات ہے کہ ان کیلئے کالج جانے کا راستہ اتنا آسان نہیں تھا۔غریبی راستے کا سب سے بڑا کانٹا تھا۔

    مونلیکا کولکاتہ کے جے پوریا کالج سے بنگالی زبان میں بی اے کر رہی ہیں۔مونلیکا ہندی ،اگریزی اور بنگالی جانتی ہیں۔خاص بات ہے کہ ان کیلئے کالج جانے کا راستہ اتنا آسان نہیں تھا۔غریبی راستے کا سب سے بڑا کانٹا تھا۔

  • مونلیکا اپنے والدین اور دادی کے ساتھ رہتی ہیں۔ان کے والد گھر پر ہی رہتے ہیں۔مونلکا کی ماں گھر کا خرچ اٹھاتی ہیں۔انہیں سے ترغیب لیکر مونلکا نے بھی اپنے پاؤں پر کھرا ہونا سیکھا۔

    مونلیکا اپنے والدین اور دادی کے ساتھ رہتی ہیں۔ان کے والد گھر پر ہی رہتے ہیں۔مونلکا کی ماں گھر کا خرچ اٹھاتی ہیں۔انہیں سے ترغیب لیکر مونلکا نے بھی اپنے پاؤں پر کھرا ہونا سیکھا۔

  • ماں کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ بیٹی کی پڑھائی کا خرچ اٹھا سکے،اسلئے جھمکے بناکر بیچنے لگیں۔

    ماں کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ بیٹی کی پڑھائی کا خرچ اٹھا سکے،اسلئے جھمکے بناکر بیچنے لگیں۔

  • کالج کے بعد کولکاتہ کی سڑکوں پر گھوم ۔گھوم کر مونلکا جھمکے بیچتی ہیں۔اسی سے اپنی پرھائی کا خرچ اٹھاتی ہیں اور ماں کی مدد بھی کرتی ہیں۔

    کالج کے بعد کولکاتہ کی سڑکوں پر گھوم ۔گھوم کر مونلکا جھمکے بیچتی ہیں۔اسی سے اپنی پرھائی کا خرچ اٹھاتی ہیں اور ماں کی مدد بھی کرتی ہیں۔

  • قدرت نے مونلکا کو سریلی آواز کی دولت سے بھی نوازا ہے۔وہ ہندی ،انگریزی اور بنگالی تینوں زبانوں میں گاتی ہیں،وہ جب گاتی ہیں تو لوگ بس سنتے رہ جاتے ہیں۔

    قدرت نے مونلکا کو سریلی آواز کی دولت سے بھی نوازا ہے۔وہ ہندی ،انگریزی اور بنگالی تینوں زبانوں میں گاتی ہیں،وہ جب گاتی ہیں تو لوگ بس سنتے رہ جاتے ہیں۔

  • مونلکا نے بچپن سے ہی اپنی ماں سے حوصلہ رکھنا سیکھا ہے۔انہوں نے اپنی والدہ کو جدو جہد کرتے دیکھا ہے۔ان کے پاس اچھا گھر نہیں ہے پر وہ اپنے آپ کو خوش قسمت مانتی ہیں۔پرھائی سے انہیں کافی لگاؤ ہے اور وہ ؤگے بھی پوری طرح خود کو سیلف ڈپینڈ یعنی اپنے دم پر کھڑا ہونا چاہتی ہیں۔

    مونلکا نے بچپن سے ہی اپنی ماں سے حوصلہ رکھنا سیکھا ہے۔انہوں نے اپنی والدہ کو جدو جہد کرتے دیکھا ہے۔ان کے پاس اچھا گھر نہیں ہے پر وہ اپنے آپ کو خوش قسمت مانتی ہیں۔پرھائی سے انہیں کافی لگاؤ ہے اور وہ ؤگے بھی پوری طرح خود کو سیلف ڈپینڈ یعنی اپنے دم پر کھڑا ہونا چاہتی ہیں۔

  • مونلیکا کولکاتہ کے جے پوریا کالج سے بنگالی زبان میں بی اے کر رہی ہیں۔مونلیکا ہندی ،اگریزی اور بنگالی جانتی ہیں۔خاص بات ہے کہ ان کیلئے کالج جانے کا راستہ اتنا آسان نہیں تھا۔غریبی راستے کا سب سے بڑا کانٹا تھا۔
  • مونلیکا اپنے والدین اور دادی کے ساتھ رہتی ہیں۔ان کے والد گھر پر ہی رہتے ہیں۔مونلکا کی ماں گھر کا خرچ اٹھاتی ہیں۔انہیں سے ترغیب لیکر مونلکا نے بھی اپنے پاؤں پر کھرا ہونا سیکھا۔
  • ماں کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ بیٹی کی پڑھائی کا خرچ اٹھا سکے،اسلئے جھمکے بناکر بیچنے لگیں۔
  • کالج کے بعد کولکاتہ کی سڑکوں پر گھوم ۔گھوم کر مونلکا جھمکے بیچتی ہیں۔اسی سے اپنی پرھائی کا خرچ اٹھاتی ہیں اور ماں کی مدد بھی کرتی ہیں۔
  • قدرت نے مونلکا کو سریلی آواز کی دولت سے بھی نوازا ہے۔وہ ہندی ،انگریزی اور بنگالی تینوں زبانوں میں گاتی ہیں،وہ جب گاتی ہیں تو لوگ بس سنتے رہ جاتے ہیں۔
  • مونلکا نے بچپن سے ہی اپنی ماں سے حوصلہ رکھنا سیکھا ہے۔انہوں نے اپنی والدہ کو جدو جہد کرتے دیکھا ہے۔ان کے پاس اچھا گھر نہیں ہے پر وہ اپنے آپ کو خوش قسمت مانتی ہیں۔پرھائی سے انہیں کافی لگاؤ ہے اور وہ ؤگے بھی پوری طرح خود کو سیلف ڈپینڈ یعنی اپنے دم پر کھڑا ہونا چاہتی ہیں۔

تازہ ترین تصاویر