احمدآباد : ایک ایسا ریسٹورنٹ ، جہاں قبروں کے درمیان بیٹھ کر سب لیتے ہیں چائے کی چسکی

Mar 07, 2018 10:56 PM IST
1 of 8
  • اکثر آپ نے قبرستان میں کسی کو دفن کرتے یا سر جھکاتے دیکھا ہوگا،  لیکن آپ نے کبھی ان قبروں کے بیچ میں بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے دیکھاہے ۔ اگر نہیں تو دیکھنے کے لئے احمدآباد کے لکی ریسٹورنٹ جانا پڑے گا ،  جہاں اس ریسٹورنٹ کی ایک منفرد تاریخ ہےوہیں 68 سالوں کے بعد بھی اس ریسٹورنٹ کی چائے اور مسکہ بند کا ذائقہ بالکل بھی نہیں بدلا ہے ۔

    اکثر آپ نے قبرستان میں کسی کو دفن کرتے یا سر جھکاتے دیکھا ہوگا، لیکن آپ نے کبھی ان قبروں کے بیچ میں بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے دیکھاہے ۔ اگر نہیں تو دیکھنے کے لئے احمدآباد کے لکی ریسٹورنٹ جانا پڑے گا ، جہاں اس ریسٹورنٹ کی ایک منفرد تاریخ ہےوہیں 68 سالوں کے بعد بھی اس ریسٹورنٹ کی چائے اور مسکہ بند کا ذائقہ بالکل بھی نہیں بدلا ہے ۔

  • احمد آباد کے لال دروازہ علاقہ میں موجود لکی ریسٹورنٹ کا نام لکی یونہی نہیں رکھ دیا گیا ہے بلکہ لکی نام کے پیچھے بھی ایک کہانی پوشیدہ ہے۔ دراصل اس ریسٹورنٹ کی تعمیر 1950 میں ہوئی تھی۔

    احمد آباد کے لال دروازہ علاقہ میں موجود لکی ریسٹورنٹ کا نام لکی یونہی نہیں رکھ دیا گیا ہے بلکہ لکی نام کے پیچھے بھی ایک کہانی پوشیدہ ہے۔ دراصل اس ریسٹورنٹ کی تعمیر 1950 میں ہوئی تھی۔

  •  اس دور میں احمد آباد میں میل فیکٹری کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔ ایسے میں لوگوں کو چائے پلانے کے مقصد سے ایک چھوٹی سی دکان شروع کی گئی۔ جو آہستہ آہستہ آج لکی ریسٹورینٹ کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔

    اس دور میں احمد آباد میں میل فیکٹری کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔ ایسے میں لوگوں کو چائے پلانے کے مقصد سے ایک چھوٹی سی دکان شروع کی گئی۔ جو آہستہ آہستہ آج لکی ریسٹورینٹ کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔

  • اس ریسٹورنٹ میں 3 2 سے زیادہ بزرگ افراد کی قبریں موجود ہیں۔ اسی لئے لوگوں کو یقین ہے کہ اگر کسی کام سے پہلے یہاں کی چائے پی لی جائے ، تو وہ کام بن جاتا ہے۔ ہر روز اس ریسٹورنٹ میں سینکڑوں افراد قبروں کے درمیان بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے ہیں۔

    اس ریسٹورنٹ میں 3 2 سے زیادہ بزرگ افراد کی قبریں موجود ہیں۔ اسی لئے لوگوں کو یقین ہے کہ اگر کسی کام سے پہلے یہاں کی چائے پی لی جائے ، تو وہ کام بن جاتا ہے۔ ہر روز اس ریسٹورنٹ میں سینکڑوں افراد قبروں کے درمیان بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے ہیں۔

  •  احمد آباد شہر کےبالکل بيچومیں موجود اس ریسٹورنٹ کی شروعات محمد بھائی کریلین نے کی تھی،  لیکن آج اس ریسٹورنٹ کے مالک كرشنن کھٹی ہیں، جن کا ماننا ہے کہ اس ریسٹورنٹ میں موجود بزرگوں کی قبروں کی وجہ سے ہی ان کے ریسٹورنٹ کو اتنی شہرت ملی ہے۔ چائے کے لئے شروع ہونے والی اس ریسٹورنٹ میں اب آپ کو ہر طرح کا کھانا مل جائے گا ۔

    احمد آباد شہر کےبالکل بيچومیں موجود اس ریسٹورنٹ کی شروعات محمد بھائی کریلین نے کی تھی، لیکن آج اس ریسٹورنٹ کے مالک كرشنن کھٹی ہیں، جن کا ماننا ہے کہ اس ریسٹورنٹ میں موجود بزرگوں کی قبروں کی وجہ سے ہی ان کے ریسٹورنٹ کو اتنی شہرت ملی ہے۔ چائے کے لئے شروع ہونے والی اس ریسٹورنٹ میں اب آپ کو ہر طرح کا کھانا مل جائے گا ۔

  •  اس ریسٹورنٹ میں آپ جہاں بیٹھے ہیں وہاں سے ایک نہ ایک قبر آپ کو ضرور نظر آ ہی جائے گی۔ ریسٹورنٹ کی بناوٹ اتنی عجیب ہے کہ یہاں چائے پینے کے لئے کرسیاں لگی ہیں، وہ بھی قبروں کے بیچوں وبيچ ۔ اس عجیب ریسٹورنٹ میں لوگ چائے پینے کے لئے دور دور سے آتے ہیں۔

    اس ریسٹورنٹ میں آپ جہاں بیٹھے ہیں وہاں سے ایک نہ ایک قبر آپ کو ضرور نظر آ ہی جائے گی۔ ریسٹورنٹ کی بناوٹ اتنی عجیب ہے کہ یہاں چائے پینے کے لئے کرسیاں لگی ہیں، وہ بھی قبروں کے بیچوں وبيچ ۔ اس عجیب ریسٹورنٹ میں لوگ چائے پینے کے لئے دور دور سے آتے ہیں۔

  • اتنا ہی نہیں مشہور پینٹر ایم ایف حسین بھی اس ریسٹورنٹ کے چائےکے دیوانے تھے۔ وہ اکثر یہاں دن بھر چائےکی چسکیاں لیتے اوراپنی پینٹگس بناتے رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی ایک خاص پینٹنگ اس ریسٹورنٹ کو گفٹ بھی کی تھی ، جسے ریسٹورنٹ میں لگایا گیا ہے اور آج بھی یہ پینٹنگ اس ریسٹورنٹ کی شان بنی ہوئی ہے۔

    اتنا ہی نہیں مشہور پینٹر ایم ایف حسین بھی اس ریسٹورنٹ کے چائےکے دیوانے تھے۔ وہ اکثر یہاں دن بھر چائےکی چسکیاں لیتے اوراپنی پینٹگس بناتے رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی ایک خاص پینٹنگ اس ریسٹورنٹ کو گفٹ بھی کی تھی ، جسے ریسٹورنٹ میں لگایا گیا ہے اور آج بھی یہ پینٹنگ اس ریسٹورنٹ کی شان بنی ہوئی ہے۔

  • لکی ریسٹورنٹ میں کام کرنے والےعبداللہ منصوری کا کہنا ہے کہ اس ریسٹورنٹ میں آنے کے بعد لوگو کافی خوش ہوتے ہیں۔

    لکی ریسٹورنٹ میں کام کرنے والےعبداللہ منصوری کا کہنا ہے کہ اس ریسٹورنٹ میں آنے کے بعد لوگو کافی خوش ہوتے ہیں۔

  • احمد آباد کے لال دروازہ علاقہ میں موجود لکی ریسٹورنٹ کا نام لکی یونہی نہیں رکھ دیا گیا ہے بلکہ لکی نام کے پیچھے بھی ایک کہانی پوشیدہ ہے۔ دراصل اس ریسٹورنٹ کی تعمیر 1950 میں ہوئی تھی۔
  •  اس دور میں احمد آباد میں میل فیکٹری کی بھرمار ہوا کرتی تھی۔ ایسے میں لوگوں کو چائے پلانے کے مقصد سے ایک چھوٹی سی دکان شروع کی گئی۔ جو آہستہ آہستہ آج لکی ریسٹورینٹ کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔
  • اس ریسٹورنٹ میں 3 2 سے زیادہ بزرگ افراد کی قبریں موجود ہیں۔ اسی لئے لوگوں کو یقین ہے کہ اگر کسی کام سے پہلے یہاں کی چائے پی لی جائے ، تو وہ کام بن جاتا ہے۔ ہر روز اس ریسٹورنٹ میں سینکڑوں افراد قبروں کے درمیان بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے ہیں۔
  •  احمد آباد شہر کےبالکل بيچومیں موجود اس ریسٹورنٹ کی شروعات محمد بھائی کریلین نے کی تھی،  لیکن آج اس ریسٹورنٹ کے مالک كرشنن کھٹی ہیں، جن کا ماننا ہے کہ اس ریسٹورنٹ میں موجود بزرگوں کی قبروں کی وجہ سے ہی ان کے ریسٹورنٹ کو اتنی شہرت ملی ہے۔ چائے کے لئے شروع ہونے والی اس ریسٹورنٹ میں اب آپ کو ہر طرح کا کھانا مل جائے گا ۔
  •  اس ریسٹورنٹ میں آپ جہاں بیٹھے ہیں وہاں سے ایک نہ ایک قبر آپ کو ضرور نظر آ ہی جائے گی۔ ریسٹورنٹ کی بناوٹ اتنی عجیب ہے کہ یہاں چائے پینے کے لئے کرسیاں لگی ہیں، وہ بھی قبروں کے بیچوں وبيچ ۔ اس عجیب ریسٹورنٹ میں لوگ چائے پینے کے لئے دور دور سے آتے ہیں۔
  • اتنا ہی نہیں مشہور پینٹر ایم ایف حسین بھی اس ریسٹورنٹ کے چائےکے دیوانے تھے۔ وہ اکثر یہاں دن بھر چائےکی چسکیاں لیتے اوراپنی پینٹگس بناتے رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی ایک خاص پینٹنگ اس ریسٹورنٹ کو گفٹ بھی کی تھی ، جسے ریسٹورنٹ میں لگایا گیا ہے اور آج بھی یہ پینٹنگ اس ریسٹورنٹ کی شان بنی ہوئی ہے۔
  • لکی ریسٹورنٹ میں کام کرنے والےعبداللہ منصوری کا کہنا ہے کہ اس ریسٹورنٹ میں آنے کے بعد لوگو کافی خوش ہوتے ہیں۔

تازہ ترین تصاویر