گجرات اسمبلی انتخابات : مسلم اکثریتی حلقوں میں تشہیر کیلئے بی جے پی نے مسلم خواتین کو اتارا میدان میں

Nov 17, 2017 08:53 PM IST
1 of 6
  • گجرات اسمبلی انتخابات میں سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو لبھانے کیلئے مختلف قسم کے طریقے اپنارہی ہیں۔ بی جے پی نے ایک مرتبہ پھر مسلم ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے مسلم خواتین کو میدان میں اتارا ہے۔

    گجرات اسمبلی انتخابات میں سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو لبھانے کیلئے مختلف قسم کے طریقے اپنارہی ہیں۔ بی جے پی نے ایک مرتبہ پھر مسلم ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے مسلم خواتین کو میدان میں اتارا ہے۔

  •  سورت کی لمبايت سیٹ پر 100 سے زیادہ مسلم خواتین گلے میں بی جے پی کا پٹہ اور ہاتھوں میں کمل کا نشان لیے تشہیر کرتی ہوئی نظر آئیں۔

    سورت کی لمبايت سیٹ پر 100 سے زیادہ مسلم خواتین گلے میں بی جے پی کا پٹہ اور ہاتھوں میں کمل کا نشان لیے تشہیر کرتی ہوئی نظر آئیں۔

  • ان خواتین سے جب پوچھا گیا کہ ووٹ بی جے پی کے لئے کیوں مانگ رہی ہیں ، تو ان کا جواب تھا کہ وزیراعظم مودی کی بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاو اسکیم سے ان کی بیٹیوں کو تعلیم ملنے کی امید ہے۔

    ان خواتین سے جب پوچھا گیا کہ ووٹ بی جے پی کے لئے کیوں مانگ رہی ہیں ، تو ان کا جواب تھا کہ وزیراعظم مودی کی بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاو اسکیم سے ان کی بیٹیوں کو تعلیم ملنے کی امید ہے۔

  • اس لئے ووه بی جے پی کے لئے ووٹ مانگ رہی ہیں۔

    اس لئے ووه بی جے پی کے لئے ووٹ مانگ رہی ہیں۔

  • غور طلب ہے کہ لمبايت سیٹ پر 80 ہزار سے زیادہ مراٹھا ووٹرز ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر 72 ہزار مسلم ووٹرس ہیں۔

    غور طلب ہے کہ لمبايت سیٹ پر 80 ہزار سے زیادہ مراٹھا ووٹرز ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر 72 ہزار مسلم ووٹرس ہیں۔

  • یہاں سے کھڑے ہونے والے امیدواروں کا فیصلہ اس دو کمیونٹی کے لوگ ہی کرتے ہیں۔

    یہاں سے کھڑے ہونے والے امیدواروں کا فیصلہ اس دو کمیونٹی کے لوگ ہی کرتے ہیں۔

  •  سورت کی لمبايت سیٹ پر 100 سے زیادہ مسلم خواتین گلے میں بی جے پی کا پٹہ اور ہاتھوں میں کمل کا نشان لیے تشہیر کرتی ہوئی نظر آئیں۔
  • ان خواتین سے جب پوچھا گیا کہ ووٹ بی جے پی کے لئے کیوں مانگ رہی ہیں ، تو ان کا جواب تھا کہ وزیراعظم مودی کی بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاو اسکیم سے ان کی بیٹیوں کو تعلیم ملنے کی امید ہے۔
  • اس لئے ووه بی جے پی کے لئے ووٹ مانگ رہی ہیں۔
  • غور طلب ہے کہ لمبايت سیٹ پر 80 ہزار سے زیادہ مراٹھا ووٹرز ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر 72 ہزار مسلم ووٹرس ہیں۔
  • یہاں سے کھڑے ہونے والے امیدواروں کا فیصلہ اس دو کمیونٹی کے لوگ ہی کرتے ہیں۔

تازہ ترین تصاویر