چار سال بعد جیل سے رہا ہوگا حمید، پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر اپنی محبوبہ سے ملنے پہنچ گیا تھا پاکستان

Jan 14, 2017 08:35 PM IST
1 of 7
  • آپ نے فلم ویر زارا اگر دیکھی ہو گی تو آپ کو یاد ہوگا کہ کس طرح اس کا ہیرو اپنی محبوبہ سے ملاقات کے لیے پاکستان جاتا ہے اور وہاں قید ہو جاتا ہے اور ایک طویل عرصہ بعد اس کی سزا ختم ہوتی ہے۔ اسی فلم کی طرح ہندوستان کے ایک نوجوان کی کہانی بھی ہے جس نے فیس بک پر ایک پاکسستانی لڑکی سے عشق رچائی اور پھر بغیر پاسپورٹ اور ویزا کے  اس سے ملاقات کے لئے وہاں جا پہنچا۔ اس کی بھی اسی فلم کی طرح وہاں گرفتاری ہو گئی ۔

    آپ نے فلم ویر زارا اگر دیکھی ہو گی تو آپ کو یاد ہوگا کہ کس طرح اس کا ہیرو اپنی محبوبہ سے ملاقات کے لیے پاکستان جاتا ہے اور وہاں قید ہو جاتا ہے اور ایک طویل عرصہ بعد اس کی سزا ختم ہوتی ہے۔ اسی فلم کی طرح ہندوستان کے ایک نوجوان کی کہانی بھی ہے جس نے فیس بک پر ایک پاکسستانی لڑکی سے عشق رچائی اور پھر بغیر پاسپورٹ اور ویزا کے اس سے ملاقات کے لئے وہاں جا پہنچا۔ اس کی بھی اسی فلم کی طرح وہاں گرفتاری ہو گئی ۔

  • بس اس کہانی میں یہ موڑ قدرے الگ ہے کہ  جہاں فلم میں ہیرو کو ہندوستانی جاسوس بتا کر اذیتیں دی گئیں اور اس کی سزا بھی بہت لمبی ہو گئی تھی، وہیں حمید کو صرف چار سال کی سزا ہی بھگتنی پڑی ۔

    بس اس کہانی میں یہ موڑ قدرے الگ ہے کہ جہاں فلم میں ہیرو کو ہندوستانی جاسوس بتا کر اذیتیں دی گئیں اور اس کی سزا بھی بہت لمبی ہو گئی تھی، وہیں حمید کو صرف چار سال کی سزا ہی بھگتنی پڑی ۔

  • اب سزا پوری ہونے پر وہ پاکستان میں آزاد ہے اور اس کو ہندوستان لانے کی تیاری چل رہی ہے۔

    اب سزا پوری ہونے پر وہ پاکستان میں آزاد ہے اور اس کو ہندوستان لانے کی تیاری چل رہی ہے۔

  • ممبئی کا رہنے والا حمید انصاری 2012 میں اپنی محبوبہ کو پانے سرحد پار پاکستان کے پیشاور پہونچ گیا ۔ جہاں پاکستانی رینجرس نے اسے گرفتار کرغیرقانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے پر حمید کے خلاف مقدمہ چلا یا اور پاکستانی عدالت نے  اسے تین  سال کی جیل کی سزا دی ۔

    ممبئی کا رہنے والا حمید انصاری 2012 میں اپنی محبوبہ کو پانے سرحد پار پاکستان کے پیشاور پہونچ گیا ۔ جہاں پاکستانی رینجرس نے اسے گرفتار کرغیرقانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے پر حمید کے خلاف مقدمہ چلا یا اور پاکستانی عدالت نے اسے تین سال کی جیل کی سزا دی ۔

  • حالانکہ 2015 میں حمید انصاری کی سزا تو ختم ہوگئی لیکن اسے  جیل سے رہائی نہیں ملی ۔

    حالانکہ 2015 میں حمید انصاری کی سزا تو ختم ہوگئی لیکن اسے جیل سے رہائی نہیں ملی ۔

  • جس پر بھوپال سے سوشل میڈیا پر ہیلپ حمید کے نام سے عابد حسن نامی ایک سماجی کارکن نے ایک مہم چلائی اور ایک سال کی سخت محنت کے بعد اب پاکستانی حکومت نے حمید انصاری کی رہائی کی خبر اس کے اہل خانہ کو دے دی ہے۔

    جس پر بھوپال سے سوشل میڈیا پر ہیلپ حمید کے نام سے عابد حسن نامی ایک سماجی کارکن نے ایک مہم چلائی اور ایک سال کی سخت محنت کے بعد اب پاکستانی حکومت نے حمید انصاری کی رہائی کی خبر اس کے اہل خانہ کو دے دی ہے۔

  •  اب حمید کے گھر والے اس کی ہندوستان واپسی کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

    اب حمید کے گھر والے اس کی ہندوستان واپسی کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

  • بس اس کہانی میں یہ موڑ قدرے الگ ہے کہ  جہاں فلم میں ہیرو کو ہندوستانی جاسوس بتا کر اذیتیں دی گئیں اور اس کی سزا بھی بہت لمبی ہو گئی تھی، وہیں حمید کو صرف چار سال کی سزا ہی بھگتنی پڑی ۔
  • اب سزا پوری ہونے پر وہ پاکستان میں آزاد ہے اور اس کو ہندوستان لانے کی تیاری چل رہی ہے۔
  • ممبئی کا رہنے والا حمید انصاری 2012 میں اپنی محبوبہ کو پانے سرحد پار پاکستان کے پیشاور پہونچ گیا ۔ جہاں پاکستانی رینجرس نے اسے گرفتار کرغیرقانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے پر حمید کے خلاف مقدمہ چلا یا اور پاکستانی عدالت نے  اسے تین  سال کی جیل کی سزا دی ۔
  • حالانکہ 2015 میں حمید انصاری کی سزا تو ختم ہوگئی لیکن اسے  جیل سے رہائی نہیں ملی ۔
  • جس پر بھوپال سے سوشل میڈیا پر ہیلپ حمید کے نام سے عابد حسن نامی ایک سماجی کارکن نے ایک مہم چلائی اور ایک سال کی سخت محنت کے بعد اب پاکستانی حکومت نے حمید انصاری کی رہائی کی خبر اس کے اہل خانہ کو دے دی ہے۔
  •  اب حمید کے گھر والے اس کی ہندوستان واپسی کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

تازہ ترین تصاویر