قومی اتحاد کا انوکھا نظارہ ، یہاں ہندو اور مسلم 51 جوڑوں نے ایک ساتھ کی شادی

May 20, 2017 08:38 PM IST
1 of 11
  • احمد آباد کے سوریندرنگر ضلع میں دسانا گاؤں میں اس وقت منفرد نظارہ دیکھنے کوملا جب ایک ساتھ ہندو اورمسلم دلہا دلہن ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔ دراصل گاؤں میں ایک اجتمای شادی کا انعقاد کیا گیا تھا ، جس میں سبھی  مذاہب کے لوگوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ان کے مذہبی رسم و رواج کے مطابق شادی کروائی گئی۔ اس اجتمای شادی میں 51 جوڑوں  کو شادی کے بندھن میں باندھا گیا ، جس میں آٹھ مسلم جوڑے بھی شامل تھے ۔

    احمد آباد کے سوریندرنگر ضلع میں دسانا گاؤں میں اس وقت منفرد نظارہ دیکھنے کوملا جب ایک ساتھ ہندو اورمسلم دلہا دلہن ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔ دراصل گاؤں میں ایک اجتمای شادی کا انعقاد کیا گیا تھا ، جس میں سبھی مذاہب کے لوگوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ان کے مذہبی رسم و رواج کے مطابق شادی کروائی گئی۔ اس اجتمای شادی میں 51 جوڑوں کو شادی کے بندھن میں باندھا گیا ، جس میں آٹھ مسلم جوڑے بھی شامل تھے ۔

  • احمد آباد سے 130 کلو میٹر کے فاصلہ پر سوریندرنگر ضلع میں دسانا گاؤں ہے ۔ اس گاؤں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ہندو اور مسلم دلہا دلہن ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔

    احمد آباد سے 130 کلو میٹر کے فاصلہ پر سوریندرنگر ضلع میں دسانا گاؤں ہے ۔ اس گاؤں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ہندو اور مسلم دلہا دلہن ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔

  • دراصل اس گاؤں میں ویسے تو ہر سال اجتماعی شادی کا پروگرام کیا جاتا ہے ، لیکن اس سال ہونے والی اجتمای شادی کئی معنوں میں بالکل الگ تھی۔

    دراصل اس گاؤں میں ویسے تو ہر سال اجتماعی شادی کا پروگرام کیا جاتا ہے ، لیکن اس سال ہونے والی اجتمای شادی کئی معنوں میں بالکل الگ تھی۔

  • اس اجتماعی شادی میں تمام مذاہب کے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کروائی گئی ، وہیں مسلمانوں کے آٹھ بچوں کو بھی شادی کے بندھن میں باندھا گیا  ۔

    اس اجتماعی شادی میں تمام مذاہب کے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کروائی گئی ، وہیں مسلمانوں کے آٹھ بچوں کو بھی شادی کے بندھن میں باندھا گیا ۔

  • دسانا گاؤں میں بڑی تعداد میں ہندو اور مسلم برادری کے لوگ رہتے ہیں ، لیکن گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی شادی کا رہتا ہے ۔ ان کے اس مسئلہ کو لوک کلیان سیوا تنظیم نے حل کیا  ۔

    دسانا گاؤں میں بڑی تعداد میں ہندو اور مسلم برادری کے لوگ رہتے ہیں ، لیکن گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی شادی کا رہتا ہے ۔ ان کے اس مسئلہ کو لوک کلیان سیوا تنظیم نے حل کیا ۔

  • تنظیم کو چلانے والے پروفیسر ڈاکٹرنوین پٹیل کے مطابق ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ادارے کے ذریعہ ایسے بچوں کی شادی کروائی جائے ، جن کی اقتصادی حالت اچھی نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ اجتماعی شادی میں حصہ لینے والے زیادہ تر بچے ایسے ہوتے ہیں جن کے والدین نہیں ہوتے ۔

    تنظیم کو چلانے والے پروفیسر ڈاکٹرنوین پٹیل کے مطابق ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ادارے کے ذریعہ ایسے بچوں کی شادی کروائی جائے ، جن کی اقتصادی حالت اچھی نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ اجتماعی شادی میں حصہ لینے والے زیادہ تر بچے ایسے ہوتے ہیں جن کے والدین نہیں ہوتے ۔

  • جہاں مسلم جوڑوں کا نکاح کروایا گیا وہیں ہندو جوڑے کو پھیرے لگوایا گیا۔

    جہاں مسلم جوڑوں کا نکاح کروایا گیا وہیں ہندو جوڑے کو پھیرے لگوایا گیا۔

  • شادی میں حصہ لینے والے تمام جوڑوں کو گھر کا ضروری سامان بھی تنظیم کی جانب سے دیا گیا ۔

    شادی میں حصہ لینے والے تمام جوڑوں کو گھر کا ضروری سامان بھی تنظیم کی جانب سے دیا گیا ۔

  •  اجتماعی شادی میں نئے دلہا اور دلہن کو دعا دینے کے لئے ہندو اور مسلم مذہبی رہنماؤں کو بھی بلایا گیاتھا ۔

    اجتماعی شادی میں نئے دلہا اور دلہن کو دعا دینے کے لئے ہندو اور مسلم مذہبی رہنماؤں کو بھی بلایا گیاتھا ۔

  • اجتمای شادی میں حصہ لینے والے سبھی نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ ایسی شادی بار بار ہوتی رہے ۔

    اجتمای شادی میں حصہ لینے والے سبھی نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ ایسی شادی بار بار ہوتی رہے ۔

  • وہیں دلہا دلہن کے والدین بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔

    وہیں دلہا دلہن کے والدین بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔

  • احمد آباد سے 130 کلو میٹر کے فاصلہ پر سوریندرنگر ضلع میں دسانا گاؤں ہے ۔ اس گاؤں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ہندو اور مسلم دلہا دلہن ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔
  • دراصل اس گاؤں میں ویسے تو ہر سال اجتماعی شادی کا پروگرام کیا جاتا ہے ، لیکن اس سال ہونے والی اجتمای شادی کئی معنوں میں بالکل الگ تھی۔
  • اس اجتماعی شادی میں تمام مذاہب کے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کروائی گئی ، وہیں مسلمانوں کے آٹھ بچوں کو بھی شادی کے بندھن میں باندھا گیا  ۔
  • دسانا گاؤں میں بڑی تعداد میں ہندو اور مسلم برادری کے لوگ رہتے ہیں ، لیکن گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی شادی کا رہتا ہے ۔ ان کے اس مسئلہ کو لوک کلیان سیوا تنظیم نے حل کیا  ۔
  • تنظیم کو چلانے والے پروفیسر ڈاکٹرنوین پٹیل کے مطابق ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ادارے کے ذریعہ ایسے بچوں کی شادی کروائی جائے ، جن کی اقتصادی حالت اچھی نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ اجتماعی شادی میں حصہ لینے والے زیادہ تر بچے ایسے ہوتے ہیں جن کے والدین نہیں ہوتے ۔
  • جہاں مسلم جوڑوں کا نکاح کروایا گیا وہیں ہندو جوڑے کو پھیرے لگوایا گیا۔
  • شادی میں حصہ لینے والے تمام جوڑوں کو گھر کا ضروری سامان بھی تنظیم کی جانب سے دیا گیا ۔
  •  اجتماعی شادی میں نئے دلہا اور دلہن کو دعا دینے کے لئے ہندو اور مسلم مذہبی رہنماؤں کو بھی بلایا گیاتھا ۔
  • اجتمای شادی میں حصہ لینے والے سبھی نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ ایسی شادی بار بار ہوتی رہے ۔
  • وہیں دلہا دلہن کے والدین بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔

تازہ ترین تصاویر