دھیان دیں! ایک سے زیادہ بینک کھاتے ہیں تو سنبھل جائیں، ورنہ ہو سکتا ہے نقصان

Feb 11, 2019 03:10 PM IST
1 of 5
  • آج کل زیادہ تر لوگ 2 یا اس سے زیادہ بینک اکاؤنٹس رکھتے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ بغیر کسی ضرورت کے بھی دو اکاؤنٹس کھلوا لیتے ہیں اور بعد میں اسے مینٹین نہیں کر پاتے ہیں۔

    آج کل زیادہ تر لوگ 2 یا اس سے زیادہ بینک اکاؤنٹس رکھتے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ بغیر کسی ضرورت کے بھی دو اکاؤنٹس کھلوا لیتے ہیں اور بعد میں اسے مینٹین نہیں کر پاتے ہیں۔

  • نوکری پیشہ لوگوں کے لئے جو بات اس کا سب سے بڑا سبب ہے، وہ ہے ایک ان کا سیلری اکاؤنٹ اور دوسرا ہے ان کا پرسنل سیونگ اکاؤنٹ۔ ایسے میں آج ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ایک سے زیادہ اکاؤنٹ کھولنے پر آپ کو کس طرح اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    نوکری پیشہ لوگوں کے لئے جو بات اس کا سب سے بڑا سبب ہے، وہ ہے ایک ان کا سیلری اکاؤنٹ اور دوسرا ہے ان کا پرسنل سیونگ اکاؤنٹ۔ ایسے میں آج ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ایک سے زیادہ اکاؤنٹ کھولنے پر آپ کو کس طرح اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

  • یہ ہو گا نقصان - سیونگ اکاؤنٹ میں بینک کی طرف سے کم ازکم بیلنس رکھنے کا التزام ہوتا ہے۔ ایسا نہ کرنے پر بینک آپ سے جرمانہ وصول کرتا ہے۔ کئی بینکوں میں کم از کم بیلینس کی حد 10،000 روپئے ہے۔ ایسے میں اگر آپ کے پاس دو سے زیادہ اکاؤنٹ ہیں تو آپ کی تشویش بڑھ سکتی ہے، کیونکہ عام آدمی کے لئے بچت کھاتہ میں 20،000 روپئے جمع رکھنا کافی مشکل ہے۔

    یہ ہو گا نقصان - سیونگ اکاؤنٹ میں بینک کی طرف سے کم ازکم بیلنس رکھنے کا التزام ہوتا ہے۔ ایسا نہ کرنے پر بینک آپ سے جرمانہ وصول کرتا ہے۔ کئی بینکوں میں کم از کم بیلینس کی حد 10،000 روپئے ہے۔ ایسے میں اگر آپ کے پاس دو سے زیادہ اکاؤنٹ ہیں تو آپ کی تشویش بڑھ سکتی ہے، کیونکہ عام آدمی کے لئے بچت کھاتہ میں 20،000 روپئے جمع رکھنا کافی مشکل ہے۔

  • انکم ٹیکس فائل کرنے میں ہوتی ہے پریشانی: زیادہ بینکوں میں اکاؤنٹ ہونے سے ٹیکس جمع کرتے وقت کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کاغذی کارروائی میں بھی کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی انکم ٹیکس فائل کرتے وقت سبھی بینک کھاتوں سے منسلک معلومات رکھنی پڑتی ہیں۔ اکثر ان کے اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ جٹانا کافی پیچیدہ کام ہو جاتا ہے۔

    انکم ٹیکس فائل کرنے میں ہوتی ہے پریشانی: زیادہ بینکوں میں اکاؤنٹ ہونے سے ٹیکس جمع کرتے وقت کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کاغذی کارروائی میں بھی کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی انکم ٹیکس فائل کرتے وقت سبھی بینک کھاتوں سے منسلک معلومات رکھنی پڑتی ہیں۔ اکثر ان کے اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ جٹانا کافی پیچیدہ کام ہو جاتا ہے۔

  • بھرنے ہوتے ہیں یہ اضافی چارجز: کئی کھاتے ہونے سے آپ کو سالانہ مینٹیننس فیس اور سروس چارج دینے ہوتے ہیں۔ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے علاوہ دیگر بینکنگ سہولتوں کے لئے بھی بینک آپ سے پیسہ چارج کرتا ہے۔ تو یہاں بھی آپ کو کافی پیسوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    بھرنے ہوتے ہیں یہ اضافی چارجز: کئی کھاتے ہونے سے آپ کو سالانہ مینٹیننس فیس اور سروس چارج دینے ہوتے ہیں۔ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے علاوہ دیگر بینکنگ سہولتوں کے لئے بھی بینک آپ سے پیسہ چارج کرتا ہے۔ تو یہاں بھی آپ کو کافی پیسوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

  • نوکری پیشہ لوگوں کے لئے جو بات اس کا سب سے بڑا سبب ہے، وہ ہے ایک ان کا سیلری اکاؤنٹ اور دوسرا ہے ان کا پرسنل سیونگ اکاؤنٹ۔ ایسے میں آج ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ایک سے زیادہ اکاؤنٹ کھولنے پر آپ کو کس طرح اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
  • یہ ہو گا نقصان - سیونگ اکاؤنٹ میں بینک کی طرف سے کم ازکم بیلنس رکھنے کا التزام ہوتا ہے۔ ایسا نہ کرنے پر بینک آپ سے جرمانہ وصول کرتا ہے۔ کئی بینکوں میں کم از کم بیلینس کی حد 10،000 روپئے ہے۔ ایسے میں اگر آپ کے پاس دو سے زیادہ اکاؤنٹ ہیں تو آپ کی تشویش بڑھ سکتی ہے، کیونکہ عام آدمی کے لئے بچت کھاتہ میں 20،000 روپئے جمع رکھنا کافی مشکل ہے۔
  • انکم ٹیکس فائل کرنے میں ہوتی ہے پریشانی: زیادہ بینکوں میں اکاؤنٹ ہونے سے ٹیکس جمع کرتے وقت کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کاغذی کارروائی میں بھی کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی انکم ٹیکس فائل کرتے وقت سبھی بینک کھاتوں سے منسلک معلومات رکھنی پڑتی ہیں۔ اکثر ان کے اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ جٹانا کافی پیچیدہ کام ہو جاتا ہے۔
  • بھرنے ہوتے ہیں یہ اضافی چارجز: کئی کھاتے ہونے سے آپ کو سالانہ مینٹیننس فیس اور سروس چارج دینے ہوتے ہیں۔ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے علاوہ دیگر بینکنگ سہولتوں کے لئے بھی بینک آپ سے پیسہ چارج کرتا ہے۔ تو یہاں بھی آپ کو کافی پیسوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

تازہ ترین تصاویر