امریکہ میں ٹرمپ کی مخالفت میں پر تشدد احتجاج، مظاہرین نے پھینکیں پولیس پر پتھر اوربوتلیں

Jan 21, 2017 01:05 PM IST
1 of 6
  • امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر کے عہدے کا حلف لینے کے دوران جہاں ان کے حامی خوشیاں منا رہے تھے وہیں بہت سے لوگوں نے  سیاہ کپڑے پہن کر ان کی مخالفت میں سڑکوں پر جم کر مظاہرہ کیا اور کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ تصویر، رائٹرز۔

    امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر کے عہدے کا حلف لینے کے دوران جہاں ان کے حامی خوشیاں منا رہے تھے وہیں بہت سے لوگوں نے سیاہ کپڑے پہن کر ان کی مخالفت میں سڑکوں پر جم کر مظاہرہ کیا اور کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ تصویر، رائٹرز۔

  • سینکڑوں مظاہرین مارچ کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئے اور کئی گروپوں کا پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہو گیا۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور بوتلیں پھینکیں ۔

    سینکڑوں مظاہرین مارچ کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئے اور کئی گروپوں کا پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہو گیا۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور بوتلیں پھینکیں ۔

  • اس کے جواب میں پولیس نے انھیں کنٹرول کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے اور دستی بم بھی پھینکے ۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی انھیں کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

    اس کے جواب میں پولیس نے انھیں کنٹرول کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے اور دستی بم بھی پھینکے ۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی انھیں کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

  • پولیس نے بتایا کہ مظاہرین نے کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی جس میں ایک گاڑی اور ایک ٹیلی ویژن چینل کی گاڑی بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران کم از کم 95 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس میں دو افسران زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس نے بتایا کہ مظاہرین نے کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی جس میں ایک گاڑی اور ایک ٹیلی ویژن چینل کی گاڑی بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران کم از کم 95 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس میں دو افسران زخمی ہو گئے ہیں۔

  •  تمام مظاہرین ٹرمپ کی مخالفت میں نعرے بازی کر رہے تھے اور 'ٹرمپ صدر نہیں ہے' اور 'نسل پرستی سے ایک بار پھر ڈراؤ' لکھی تختیاں لے کر مظاہرہ کر رہے تھے۔

    تمام مظاہرین ٹرمپ کی مخالفت میں نعرے بازی کر رہے تھے اور 'ٹرمپ صدر نہیں ہے' اور 'نسل پرستی سے ایک بار پھر ڈراؤ' لکھی تختیاں لے کر مظاہرہ کر رہے تھے۔

  • ایک 69 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر بین ایلن نے بتایا، "ہم ٹرمپ کو ہرسطح پر روکنا چاہتے ہیں۔ ہم ملک میں سب کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ اس میں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ اس کی قومیت، مذہب اور جلد کا رنگ کیا ہے۔ ہمیں ایک انسان کی عزت کرنی چاہیے لیکن ٹرمپ کسی کی عزت نہیں کرتے۔

    ایک 69 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر بین ایلن نے بتایا، "ہم ٹرمپ کو ہرسطح پر روکنا چاہتے ہیں۔ ہم ملک میں سب کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ اس میں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ اس کی قومیت، مذہب اور جلد کا رنگ کیا ہے۔ ہمیں ایک انسان کی عزت کرنی چاہیے لیکن ٹرمپ کسی کی عزت نہیں کرتے۔

  • سینکڑوں مظاہرین مارچ کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئے اور کئی گروپوں کا پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہو گیا۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور بوتلیں پھینکیں ۔
  • اس کے جواب میں پولیس نے انھیں کنٹرول کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے اور دستی بم بھی پھینکے ۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی انھیں کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔
  • پولیس نے بتایا کہ مظاہرین نے کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی جس میں ایک گاڑی اور ایک ٹیلی ویژن چینل کی گاڑی بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران کم از کم 95 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس میں دو افسران زخمی ہو گئے ہیں۔
  •  تمام مظاہرین ٹرمپ کی مخالفت میں نعرے بازی کر رہے تھے اور 'ٹرمپ صدر نہیں ہے' اور 'نسل پرستی سے ایک بار پھر ڈراؤ' لکھی تختیاں لے کر مظاہرہ کر رہے تھے۔
  • ایک 69 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر بین ایلن نے بتایا، "ہم ٹرمپ کو ہرسطح پر روکنا چاہتے ہیں۔ ہم ملک میں سب کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ اس میں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ اس کی قومیت، مذہب اور جلد کا رنگ کیا ہے۔ ہمیں ایک انسان کی عزت کرنی چاہیے لیکن ٹرمپ کسی کی عزت نہیں کرتے۔

تازہ ترین تصاویر