جامعہ نگر کی طلاق شدہ مسلم خواتین نے تین طلاق کے خلاف کیا زبردست احتجاج

Oct 05, 2017 08:55 PM IST
1 of 8
  • دہلی کے اوکھلا اسمبلی کے مسلم اکثریتی علاقے جامعہ نگر کی طلاق شدہ خواتین نے آج تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے  مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خلاف زبردست  احتجاج کیا اور بورڈ کا علامتی پتلا جلاتے ہوئے اسے بند کر کرنے کا مطالبہ کیا۔

    دہلی کے اوکھلا اسمبلی کے مسلم اکثریتی علاقے جامعہ نگر کی طلاق شدہ خواتین نے آج تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور بورڈ کا علامتی پتلا جلاتے ہوئے اسے بند کر کرنے کا مطالبہ کیا۔

  • طلاق شدہ خواتین نے احتجاجی مارچ کے دوران کہا کہ جب ملک کے 90 فیصد عوام کورٹ کے فیصلے کو قبول کر رہے ہیں تو پھر پرسنل لاء بورڈ اسے قبول کیوں نہیں کرتا ہے ۔

    طلاق شدہ خواتین نے احتجاجی مارچ کے دوران کہا کہ جب ملک کے 90 فیصد عوام کورٹ کے فیصلے کو قبول کر رہے ہیں تو پھر پرسنل لاء بورڈ اسے قبول کیوں نہیں کرتا ہے ۔

  • خواتین نے سوال کیا کہ بالآخر کورٹ کے فیصلے کے خلاف  بورڈ کی طرف سے ادھر ادھر ميٹنگیں اور پروگرام کیوں کئے جا رہے ہیں۔

    خواتین نے سوال کیا کہ بالآخر کورٹ کے فیصلے کے خلاف بورڈ کی طرف سے ادھر ادھر ميٹنگیں اور پروگرام کیوں کئے جا رہے ہیں۔

  • خواتین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو حلالہ پریمی بتایا گیا تھا۔

    خواتین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو حلالہ پریمی بتایا گیا تھا۔

  • ایک بینر میں لکھا تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو حلالہ سے یاری ہے تبھی تو تین طلاق ان کو پیاری ہے۔

    ایک بینر میں لکھا تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو حلالہ سے یاری ہے تبھی تو تین طلاق ان کو پیاری ہے۔

  • اس دوران خواتین نے مودی حکومت سے  پرسنل لا بورڈ کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ ان کو اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان کا حق دلایا جائے۔

    اس دوران خواتین نے مودی حکومت سے پرسنل لا بورڈ کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ ان کو اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان کا حق دلایا جائے۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • طلاق شدہ خواتین نے احتجاجی مارچ کے دوران کہا کہ جب ملک کے 90 فیصد عوام کورٹ کے فیصلے کو قبول کر رہے ہیں تو پھر پرسنل لاء بورڈ اسے قبول کیوں نہیں کرتا ہے ۔
  • خواتین نے سوال کیا کہ بالآخر کورٹ کے فیصلے کے خلاف  بورڈ کی طرف سے ادھر ادھر ميٹنگیں اور پروگرام کیوں کئے جا رہے ہیں۔
  • خواتین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو حلالہ پریمی بتایا گیا تھا۔
  • ایک بینر میں لکھا تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو حلالہ سے یاری ہے تبھی تو تین طلاق ان کو پیاری ہے۔
  • اس دوران خواتین نے مودی حکومت سے  پرسنل لا بورڈ کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ ان کو اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان کا حق دلایا جائے۔
  • دیکھیں تصویریں۔
  • دیکھیں تصویریں۔

تازہ ترین تصاویر