مولانا ارشد مدنی کا گائے کو قومی جانور قرار دئے جانے کا مطالبہ ، تین طلاق پرحکمراں پارٹی کے لیڈران ہی کررہے ہیں سیاست

May 10, 2017 02:45 PM IST
1 of 15
  • جمعیت علمائے ہند نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور قانون سازی کے ذریعہ ملک بھر میں ذبیحہ گاو پر پابندی لگادی جائے۔ جمعیت کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں گئوركشك جماعتوں پر گئوركشا کے نام پر گائے اور بیل کا جائز کاروبار کرنے والے تاجروں کو قتل کی حد جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گئو رکشکوں کی یہ جماعتیں ملک میں خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔

    جمعیت علمائے ہند نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے اور قانون سازی کے ذریعہ ملک بھر میں ذبیحہ گاو پر پابندی لگادی جائے۔ جمعیت کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں گئوركشك جماعتوں پر گئوركشا کے نام پر گائے اور بیل کا جائز کاروبار کرنے والے تاجروں کو قتل کی حد جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گئو رکشکوں کی یہ جماعتیں ملک میں خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔

  • انہوں نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر،ہریانہ اور اتراکھنڈ میں جانوروں کےتاجروں کے قتل کے پے بہ پے واقعات کے باوجود مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

    انہوں نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر،ہریانہ اور اتراکھنڈ میں جانوروں کےتاجروں کے قتل کے پے بہ پے واقعات کے باوجود مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

  • مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیت علماء ء ہند چاہتی ہے کہ خوف کے اس ماحول کو فوری طور پر ختم کرکے ملک میں امن کا ماحول پیدا کرنے کے لئے حکومت گائے کو قومی جانور قرار دے دے اور قانون بنا کر ملک بھر میں گائے ذبح کرنےپر پابندی لگادے۔

    مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیت علماء ء ہند چاہتی ہے کہ خوف کے اس ماحول کو فوری طور پر ختم کرکے ملک میں امن کا ماحول پیدا کرنے کے لئے حکومت گائے کو قومی جانور قرار دے دے اور قانون بنا کر ملک بھر میں گائے ذبح کرنےپر پابندی لگادے۔

  • انہوں نے کہا کہ لائسنسوں کی تجدید یا نئے لائسنس بنوانے کے لئے کوئی انتباہ یا وقت دیئے بغیر ہی گوشت کی دکانوں اور مذبح کو بند کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سے گوشت کے کاروبار کو بڑا نقصان ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ لائسنسوں کی تجدید یا نئے لائسنس بنوانے کے لئے کوئی انتباہ یا وقت دیئے بغیر ہی گوشت کی دکانوں اور مذبح کو بند کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سے گوشت کے کاروبار کو بڑا نقصان ہوا ہے۔

  • اس تمہید کے ساتھ کہ اس وقت مسلمانوں کے تعلق سے سب سے اہم مسئلہ آسام میں غیر ملکی شہریت کا ہےجہاں بعض فرقہ پرست حلقوں نے 1985 کے آسام معاہدے کو منسوخ کرنے کی عرضی داخل عدالت کر رکھی ہےمولانا مدنی نے کہا کہ 1985 کے معاہدے کے تحت شہریت کے لئے کٹ آف ڈیٹ 25 مارچ 1971 ہے لیکن اب 32 سال بعد پھر 1950کو شہریت کا مسئلہ حل کرنے کی بنیاد بنانا سراسر ناانصافی ہے۔

    اس تمہید کے ساتھ کہ اس وقت مسلمانوں کے تعلق سے سب سے اہم مسئلہ آسام میں غیر ملکی شہریت کا ہےجہاں بعض فرقہ پرست حلقوں نے 1985 کے آسام معاہدے کو منسوخ کرنے کی عرضی داخل عدالت کر رکھی ہےمولانا مدنی نے کہا کہ 1985 کے معاہدے کے تحت شہریت کے لئے کٹ آف ڈیٹ 25 مارچ 1971 ہے لیکن اب 32 سال بعد پھر 1950کو شہریت کا مسئلہ حل کرنے کی بنیاد بنانا سراسر ناانصافی ہے۔

  • انہو نے اسی کے ساتھ یہ الزام بھی لگا یا کہ نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنس تیار کرنے کا کام بھی جو 90 فیصد ہو چکا تھا، آسام میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد روک دیا گیا ہے۔

    انہو نے اسی کے ساتھ یہ الزام بھی لگا یا کہ نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنس تیار کرنے کا کام بھی جو 90 فیصد ہو چکا تھا، آسام میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد روک دیا گیا ہے۔

  •  اس کی وجہ سے کوئی 48 لاکھ شادی شدہ عورتوں کی شہریت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

    اس کی وجہ سے کوئی 48 لاکھ شادی شدہ عورتوں کی شہریت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

  • تین طلاق کے معاملے پر مولانا نے کہا کہ حکومت کو کسی کے بھی عائلی معاملے میں راست مداخلت سے گریز کر نا چاہئے اور میڈیاپر بھی لازم ہے کہ وہ ایسی کسی مداخلت کی راہ ہموار نہ کرے۔

    تین طلاق کے معاملے پر مولانا نے کہا کہ حکومت کو کسی کے بھی عائلی معاملے میں راست مداخلت سے گریز کر نا چاہئے اور میڈیاپر بھی لازم ہے کہ وہ ایسی کسی مداخلت کی راہ ہموار نہ کرے۔

  •  ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ طلاق کے محاذ پر اگر کہیں کوئی چیز سمجھ میں نہیں آتی تو حکومتی اور عدالتی ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ علما سے سے رجوع کریں۔

    ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ طلاق کے محاذ پر اگر کہیں کوئی چیز سمجھ میں نہیں آتی تو حکومتی اور عدالتی ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ علما سے سے رجوع کریں۔

  • علما کی وضاحت کے بعد بھی اگر کہیں استفسار کی ضرورت باقی رہ جائے تو پھر رجوع کیا جائے، لیکن اس تاثر سے گریز کیا جائے کہ مسلم خواتین کو ہر گھر میں طلاق کے خطرے کا سامنا ہے یا مسلمانوں میں تعدد ازدواج عام ہے۔

    علما کی وضاحت کے بعد بھی اگر کہیں استفسار کی ضرورت باقی رہ جائے تو پھر رجوع کیا جائے، لیکن اس تاثر سے گریز کیا جائے کہ مسلم خواتین کو ہر گھر میں طلاق کے خطرے کا سامنا ہے یا مسلمانوں میں تعدد ازدواج عام ہے۔

  • اجودھیا تنازعے کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد سے دستربردار تو ہر گز نہیں ہوں گے لیکن معاملہ چونکہ سپریم کورٹ میں لہذا جو بحی فیصلہ سامنے آئے گا مان لیا جائے گا۔

    اجودھیا تنازعے کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد سے دستربردار تو ہر گز نہیں ہوں گے لیکن معاملہ چونکہ سپریم کورٹ میں لہذا جو بحی فیصلہ سامنے آئے گا مان لیا جائے گا۔

  • انہوں نے یہ بھی کہا بیشتر معاملات میں مسلمانان ہندکو انصاف حاصل کرنے میں سپریم کورٹ میں ہی کامیابی ملی ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا بیشتر معاملات میں مسلمانان ہندکو انصاف حاصل کرنے میں سپریم کورٹ میں ہی کامیابی ملی ہے۔

  •  انہوں نے کہا کہ مرکز اور اس کے بعد ریاستوں میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اقلیتوں کے خلاف تعصب میں اضافہ ہوا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ مرکز اور اس کے بعد ریاستوں میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اقلیتوں کے خلاف تعصب میں اضافہ ہوا ہے ۔

  • ملک بھر میں اقلیت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ، فرقہ پرست تنظیموں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ کہیں گئو کشی کے نام پر مویشی تاجروں کا قتل یا جارہا ہے تو کہیں غیر قانونی قرار دے کر گوشت تاجروں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔

    ملک بھر میں اقلیت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ، فرقہ پرست تنظیموں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ کہیں گئو کشی کے نام پر مویشی تاجروں کا قتل یا جارہا ہے تو کہیں غیر قانونی قرار دے کر گوشت تاجروں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔

  • علاوہ ازیں تین طلاق کے معاملہ پر بھی برسراقتدار پارٹی کے لیڈران سیاست کررہے ہیں۔

    علاوہ ازیں تین طلاق کے معاملہ پر بھی برسراقتدار پارٹی کے لیڈران سیاست کررہے ہیں۔

  • انہوں نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر،ہریانہ اور اتراکھنڈ میں جانوروں کےتاجروں کے قتل کے پے بہ پے واقعات کے باوجود مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
  • مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیت علماء ء ہند چاہتی ہے کہ خوف کے اس ماحول کو فوری طور پر ختم کرکے ملک میں امن کا ماحول پیدا کرنے کے لئے حکومت گائے کو قومی جانور قرار دے دے اور قانون بنا کر ملک بھر میں گائے ذبح کرنےپر پابندی لگادے۔
  • انہوں نے کہا کہ لائسنسوں کی تجدید یا نئے لائسنس بنوانے کے لئے کوئی انتباہ یا وقت دیئے بغیر ہی گوشت کی دکانوں اور مذبح کو بند کر دیا گیا۔ اس کی وجہ سے گوشت کے کاروبار کو بڑا نقصان ہوا ہے۔
  • اس تمہید کے ساتھ کہ اس وقت مسلمانوں کے تعلق سے سب سے اہم مسئلہ آسام میں غیر ملکی شہریت کا ہےجہاں بعض فرقہ پرست حلقوں نے 1985 کے آسام معاہدے کو منسوخ کرنے کی عرضی داخل عدالت کر رکھی ہےمولانا مدنی نے کہا کہ 1985 کے معاہدے کے تحت شہریت کے لئے کٹ آف ڈیٹ 25 مارچ 1971 ہے لیکن اب 32 سال بعد پھر 1950کو شہریت کا مسئلہ حل کرنے کی بنیاد بنانا سراسر ناانصافی ہے۔
  • انہو نے اسی کے ساتھ یہ الزام بھی لگا یا کہ نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنس تیار کرنے کا کام بھی جو 90 فیصد ہو چکا تھا، آسام میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد روک دیا گیا ہے۔
  •  اس کی وجہ سے کوئی 48 لاکھ شادی شدہ عورتوں کی شہریت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
  • تین طلاق کے معاملے پر مولانا نے کہا کہ حکومت کو کسی کے بھی عائلی معاملے میں راست مداخلت سے گریز کر نا چاہئے اور میڈیاپر بھی لازم ہے کہ وہ ایسی کسی مداخلت کی راہ ہموار نہ کرے۔
  •  ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ طلاق کے محاذ پر اگر کہیں کوئی چیز سمجھ میں نہیں آتی تو حکومتی اور عدالتی ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ علما سے سے رجوع کریں۔
  • علما کی وضاحت کے بعد بھی اگر کہیں استفسار کی ضرورت باقی رہ جائے تو پھر رجوع کیا جائے، لیکن اس تاثر سے گریز کیا جائے کہ مسلم خواتین کو ہر گھر میں طلاق کے خطرے کا سامنا ہے یا مسلمانوں میں تعدد ازدواج عام ہے۔
  • اجودھیا تنازعے کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد سے دستربردار تو ہر گز نہیں ہوں گے لیکن معاملہ چونکہ سپریم کورٹ میں لہذا جو بحی فیصلہ سامنے آئے گا مان لیا جائے گا۔
  • انہوں نے یہ بھی کہا بیشتر معاملات میں مسلمانان ہندکو انصاف حاصل کرنے میں سپریم کورٹ میں ہی کامیابی ملی ہے۔
  •  انہوں نے کہا کہ مرکز اور اس کے بعد ریاستوں میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اقلیتوں کے خلاف تعصب میں اضافہ ہوا ہے ۔
  • ملک بھر میں اقلیت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ، فرقہ پرست تنظیموں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ کہیں گئو کشی کے نام پر مویشی تاجروں کا قتل یا جارہا ہے تو کہیں غیر قانونی قرار دے کر گوشت تاجروں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔
  • علاوہ ازیں تین طلاق کے معاملہ پر بھی برسراقتدار پارٹی کے لیڈران سیاست کررہے ہیں۔

تازہ ترین تصاویر